Thursday , September 21 2017
Home / ہندوستان / ملک کے کشیدہ حالات سے ہر امن پسند شہری شرمندہ: ہرش مندر

ملک کے کشیدہ حالات سے ہر امن پسند شہری شرمندہ: ہرش مندر

ہر مذہب نے انسانیت کی اہمیت کو اُجاگر کیا، کاروانِ محبت کے قافلے کی رام گڑھ میں گاؤ دہشت گردی کے متاثرین سے ملاقات

رام گڑھ(جھارکھنڈ)9ستمبر (سیاست نیوز) انسان میں انسانیت باقی نہ رہے اور انسان مذہبی جذبات میں انسانیت کو فراموش کرجائے تو جو حرکتیں رونما ہوتی ہیں حیوانیت اسی کو کہتے ہیں۔انسان کے ضمیر کو مرنے سے بچانے کیلئے میں انصاف کی جدوجہد کرتی رہوں گی کیونکہ آج جن حالات کا سامنا میں اور میرے بچے کر رہے ہیں ان حالات کا سامنا کسی اور کو نہ کرنا پڑے۔رام گڑھ میں 29جون کو گائے کے گوشت کی منتقلی کے الزام میں پیٹ کر مار دیئے جانے والے کوئلہ کے تاجر مرحوم علیم الدین انصاری کی بیوہ مریم خاتون نے ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے شوہر کی موت کو ملک کے دیگر شہریوں کے تحفظ کیلئے دی گئی قربانی تصور کرتی ہیں اور اپنے بچوں کے ساتھ ان حالات کا مقابلہ کرتے ہوئے حصول انصاف تک خاموش نہیں رہیں گی۔ مریم خاتون نے ’کاروان محبت‘ میں شریک 50تا60سماجی کارکنوں اور صحافیوں کا اپنے مکان میں خیرمقدم کیا اور کہا کہ انہیں اپنے شوہر کی موت کا دکھ ہے لیکن اس سے زیادہ انہیں اپنے بچوں کے محفوظ مستقبل کی فکر ستانے لگی ہے کیونکہ جس علاقہ میں وہ رہتے ہیں وہاں کبھی ایسی حیوانیت کے مظاہرے نہیں دیکھے گئے تھے اور اب ہر گھڑی وہ خدشات کا شکار رہنے لگتی ہیں۔انہوںنے بتایا کہ جس درندگی کے ساتھ ان کے شوہر کو قتل کیا گیا اور ان کے بیٹے پر حملہ کیا گیا اس کے بعد وہ خوفزدہ ہیں لیکن اس کے باوجود وہ ہمت کے ساتھ حالات کا مقابلہ کریں گی تاکہ ملک میں اور کوئی مریم بیوہ نہ ہونے پائے۔گائے کے گوشت کے نام پر علیم الدین انصاری کوپیٹ کر قتل کرنے والوں کے متعلق بتاتے ہوئے مریم خاتون نے کہا کہ ان کے بیٹے عینی شاہد ہیں اور انہیں سزاء دلوا کر رہیں گے۔

مرحوم علیم الدین انصاری کو تین دختران ہیں اور تین فرزندان ہیں جن میں شہانہ پروین‘ صاقبہ ‘ سعدیہ شامل ہیں۔ان کے علاوہ تین فرزندان شاہجہاں ‘ شہزاد اختر اور شعبان ہیں ۔55سالہ علیم الدین انصاری کے قتل کے بعد کافی دیر تک پولیس نے اس معاملہ کی شکایت درج کرنے سے بھی گریز کیا لیکن جب اس قتل کی ویڈیو بھی کچھ دیر میں گشت کرنے لگی تو پولیس نے حرکت میں آتے ہوئے پوسٹ مارٹم کی کاروائی مکمل کرتے ہوئے نعش گاؤں لائی اور گھر والوں کی جانب سے قاتلوں کی گرفتاری تک نعش قبول نہ کرنے کے اعلان پر پڑوسیوں کے حوالے کرتے ہوئے انہیں زبردستی نعش قبول کرنے کیلئے مجبور کیا جانے لگا تھا لیکن پڑوسیوں نے بھی انکار کرتے ہوئے مقتول کے خاندان کا ساتھ دیا جس کے سبب پولیس نے بھاری جمعیت کی تعیناتی کے ذریعہ 6افراد کو حراست میں لیا لیکن اب بھی کئی افراد کو گرفتار کیا جانا باقی ہے۔مرحوم کے فرزندان نے بتایا کہ منظم سازش کے تحت کئے گئے اس قتل کی تحقیقات اور کاروائی میں کی جانے والی تاخیر پر وہ خاموش نہیں رہیں گے بلکہ ضرورت پڑنے پر ان کے گاؤں والوں نے ان کے ساتھ مظاہرہ کرنے کا تیقن دیا ہے۔کاروان محبت میں ہرش مندر‘ جان دیال‘ اشرف الاسلام‘ اصغر‘ کے علاوہ مقامی بین مذہبی شخصیتوں کے سرکردہ افراد موجود تھے۔ رام گڑھ میںہوئے اس قتل کو مختلف تنظیموں نے انسانیت کے قتل سے تعبیر کیا اور خاموش ہوگئے تھے لیکن آج جب کاروان محبت میں شامل ذمہ داروں نے اس مسئلہ پر کھل کر اظہار خیال کیا اور ان حالات کے لئے آر ایس ایس کو ذمہ دار قرار دیا تو سب نے ایک آواز ہوکر کہا کہ ان حالات کا مقابلہ کرنے کیلئے آر ایس ایس کے نظریات کو ختم کرنے کے لئے منفی نظریہ کے بجائے اس کے مقابلہ میں مثبت نظریات پیش کئے جائیں تاکہ عوام میں خوف کے بجائے حوصلہ پیدا ہواور عوام ان نظریات کے رد کیلئے تیار ہوں۔ بعد ازاں رام گڑھ روٹری بھون میں امن سبھا کا انعقاد عمل میں لایا گیا جس سے ہرش مندر‘ جان دیال‘ ڈاکٹر لیو اے سنگھ‘ اسد باری‘ ڈاکٹر وی کے چترویدی کے علاوہ ستیش گپتا اور دیگر نے مخاطب کیا اور امن و فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے فروغ کیلئے جدوجہد کی ضرورت پر زور دیا۔ مسٹر ہرش مندر نے کہا کہ ملک میں جو حالات پیدا ہو رہے ہیں اس کے سبب ملک کے امن پسند شہری شرمندہ ہیں اور اور جو اکثریتی طبقہ سے تعلق رکھنے والے لوگ ہیں ان کی جانب سے ان حالات پر اختیار کی جانے والی خاموشی کو صورتحال کی تائید تصور کیا جانے لگا ہے۔اس سبھا سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر جگجیت سنگھ سونی نے کہا کہ مذہب کے دائرے میں رہتے ہوئے بھی انسانیت کے متعلق سونچا جا سکتا ہے بلکہ مذہب کے دائرہ میں رہنے پر ہی انسانیت کا پاس و لحاظ باقی رہتا ہے ۔
کیونکہ ہر مذہب نے انسان کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔بعد ازاں اسی سلسلہ میں ریاست جھارکھنڈ میں کاروان محبت کے اختتام سے قبل ایک سمینار منعقد ہوا جس میں اقلیتوں کے حقوق اور ان کے خلاف سنگھ کی سازشوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ سمینار کے دوران ہرش مندر نے کہا کہ ملک میں موجود حکومت انسداد تبدیلی مذہب قانون کے علاوہ دیگر قوانین کے ذریعہ عیسائیوں کو نشانہ بنا رہی ہے اور دوسری جانب لوجہاد‘ گاؤ کشی کے نام پر مسلمانوں کو نشانہ بنایاجانے لگا ہے۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT