Friday , September 22 2017
Home / شہر کی خبریں / ملک یا قوم کی ترقی کا راز تعلیم میں مضمر

ملک یا قوم کی ترقی کا راز تعلیم میں مضمر

طلبہ کے انتخابات و یونیورسٹی کے رول پر جسٹس بی چندرا کمار و دیگر کا خطاب
حیدرآباد ۔ 19 ستمبر (سیاست نیوز) جسٹس بی چندرا کمارنے کہا کہ کسی بھی ملک یا قوم کی ترقی کا راز تعلیم میں مضمر ہے۔ نوجوان ہی ملک و قوم کا سرمایہ ہیں اور تعلیم کے ذریعہ ہی سماج میں تبدیلی ممکن ہے اور حصول تعلیم سے ہی سماج میں سیاسی، معاشی اور سماجی انصاف کے حصول سے متعلق شعور بیدار کیا جاسکتا ہے۔ جسٹس بی چندرا کمار آج اسٹوڈنٹ بار اسوسی ایشن پی جی کالج آف لا عثمانیہ یونیورسٹی کے زیراہتمام زیرعنوان ’’ریاست میں طلباء کے انتخابات۔ یونیورسٹی طلباء کا رول‘‘ ۔ پی جی کالج آف لا عثمانیہ یونیورسٹی سمینار ہال میں منعقدہ راؤنڈ ٹیبل کانفرنس سے بحیثیت مہمان خصوصی مخاطب تھے۔ انہوں نے تلنگانہ کی ریاستی یونیورسٹیوں میں طلباء تنظیموں کے انتخابات پر حکومت کی پابندی پر اپنے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک منظم سازش ہے جس کا مقصد یونیورسٹیوں میں زیرتعلیم ایس سی، ایس ٹی، بی سی، مائناریٹی اور دیگر کمزور اور پسماندہ طبقات کے طلباء کو سیاسی اقتدار سے محروم رکھا جائے تاکہ وہ آئندہ چل کر ریاست یا ملک کے عظیم قائد نہ بن سکیں۔ برسراقتدار حکومتوں کی جانب سے شعبہ تعلیم کو خانگیانے کے نتیجہ میں سرکاری مدارس، کالجس اور یونیورسٹیز میں تعلیم پانے والے طلباء صرف اور صرف ایس سی، ایس ٹی، بی سی، مائناریٹیز اور کمزور و پسماندہ طبقات سے تعلق رکھنے والے طلباء کی حد تک ہی محدود رہ گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ دستور ہند میں کمزور اور پسماندہ طبقات کو تحفظات تو دیئے گئے لیکن ان پر عمل آوری ندارد ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ ہندوستان کو آزادی حاصل ہے کہ 68 سال کا عرصہ بیت گیا لیکن ملک میں ایس سی، ایس ٹی، بی سی اور مائناریٹیز کے سماجی، تعلیمی اور معاشی مسائل جوں کے توں برقرار ہیں اور سرکاری مدارس میں اہم بنیادی سہولتوں کے فقدان کے نتیجہ میں دیہی علاقوں کے مدارس میں زیرتعلیم غریب اور پسماندہ طبقات کے طلباء چھٹویں یا ساتویں تک تعلیم حاصل کرکے ترک تعلیم پر مجبور ہیں جس پر حکومتوں کی جانب سے کوئی توجہ نہیں دی جارہی ہے۔ انہوں نے ملک میں ڈاکٹر بی آر امبیڈکر کی جانب سے مدون کردہ قوانین پر عدم عمل آوری پر اظہارتعجب کیا ہے اور ڈاکٹر امبیڈکر کی جانب سے کے جی تا پی جی مفت تعلیم کے قانون پر عمل کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے مرکزی و ریاستی حکومتوں کی جانب سے پبلک سیکٹرس کو پرائیویٹ سیکٹرس میں تبدیل کرنے کے عمل پر بھی اپنے گہرے افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے یونیورسٹی طلباء تنظیموں پر زور دیا کہ وہ سیاسی میدان میں آگے آئیں اور انتخابات میں حصہ لیں اور حکومتوں کی مخالف عوام اور کسان دشمن پالیسیوں سے متعلق عوام میں شعور بیدار کریں تاکہ مفاد پرست حکمرانوں کو اقتدار سے بیدخل کیا جاسکے۔ انہوں نے پرنسپل پی جی کالج آف لاء عثمانیہ یونیورسٹی ڈاکٹر گالی ونود کمار کی جانب سے ورنگل حلقہ پارلیمان کی نشست کیلئے مقابلہ کرنے کے اعلان کی ستائش کرتے ہوئے ان کی بھرپور تائید و حمایت کا تیقن دیا۔ پرنسپل پی جی کالج آف لا عثمانیہ یونیورسٹی ڈاکٹر گالی ونود کمار نے اپنے صدارتی خطبہ میں حکومت کی جانب سے ریاست کے یونیورسٹیز میں انتخابات پر عائد کردہ پابندی کو برخاست کرتے ہوئے عثمانیہ یونیورسٹیز کے انتخابات کی اجازت دینے کا حکومت سے مطالبہ کیا۔ انہوں نے اس یقین کا اظہار کیا کہ آئندہ سال 2019ء میں منعقد شدنی انتخابات میں عثمانیہ یونیورسٹی کا طالب علم چیف منسٹر تلنگانہ بنے گا۔ اس موقع پر مختلف طلباء تنظیموں کے قائدین مسرز شیکھر، شادان، انجینیلو، اسٹالن، کے سرینو، سامباشیوا راؤ، سلیم پاشاہ نے بھی مخاطب کرتے ہوئے عثمانیہ یونیورسٹی کے طلباء کو درپیش اور یونیورسٹی کے انتخابات پر عائد کردہ پابندی کی شدید مخالفت کی۔

TOPPOPULARRECENT