Monday , September 25 2017
Home / آپ کے سوال / ملگیات بنک کو کرایہ پر دینا

ملگیات بنک کو کرایہ پر دینا

سوال :  ایک مسلمان شخص اپنا مکان اور ملگیات بنک کو کرائے پر دینا چاہتے ہیں۔ کیا بنک کو کرایہ پر دینا درست ہے ؟
محمد فردوس عالم، میر عالم منڈی
جواب :  مسلمان اپنی ملکیت غیرمسلم بنک کو کرایہ پر دے تو اس کے کرایہ کا حصول اور اس سے استفادہ اس کے لئے شرعاً جائز ہے ۔ ہدایہ کتاب الاجارۃ ص : 281 میں ہے (ویجوز استیجارالدور والحوانیت للسکنیٰ وان لم یبین مایعمل فیہ ولہ أن یعمل کل شئی) للا طلاق
سجدۂ تلاوت کا طریقہ
سوال :  آیت سجدہ تلاوت کرنے کے بعد قرآن بازو رکھ کر بیٹھ کر ہی سجدہ کیا جاسکتا ہے ۔ یا پہلے کھڑا ہونا پھر سجدہ کرنا سجدے کے بعد پھر کھڑا ہونا ہے ۔ آیت سجدہ کا سجدہ کرنے کا صحیح طریقہ کیا ہے ۔ ایک ہی آیت سجدہ بار بار دہرانے پر ایک ہی سجدہ کافی ہے یا جتنے بار آیت کو دہرایا جائے اتنے سجدے کرنا ہے ؟
محمد مختار حسین، کاروان
جواب :  ایک مجلس میں متعدد مرتبہ آیت سجدہ پڑھی جائے تو ایک ہی سجدہ کرنا کافی ہے ۔ متعدد مجلس میں آیت سجدہ متعدد بار پڑھی جائے تو ہر بار علحدہ سجدہ کرنا ہوگا ۔ سجدۂ تلاوت میں دو قیام مستحب اور دو تکبریں مسنون ہیں۔ سجدہ تلاوت کا  طریقہ یہ ہے کہ کھڑے ہوکر اللہ ا کبر کہے اور سجدہ میں جائیں ۔ پھر اللہ اکبر کہتے ہوئے کھڑے ہوجائیں۔سجدۂ تلاوت دو تکبیروں کے درمیان نماز کے شرائط سے کیا جاتا ہے مگر اس کے لئے ہاتھ اٹھانے اور تشھد و سلام کی ضرورت نہیں، سجدۂ تلاوت میں وہی تسبیح ہے جو نماز کے سجدوں میں پڑھی جاتی ہے۔
بیوی سے کبھی قریب نہ ہونیکی قسم کھانا
سوال :  ایک شخص نے اپنی بیوی سے ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ میں تم سے زندگی بھر قریب نہیں ہوں گا اور بیوی کو میکے لاکر چھوڑدیا۔ پانچ چھ ماہ اپنے ماں باپ کے پاس رہا پھر بیرون ملک چلے گیا۔ کیا دونوں میں رشتہ باقی ہے یا دوسرے سے نکاح کرسکتے ہیں، نہیں ؟ براہ کرم اس سے متعلقہ تفصیلی احکام بیان فرمائیں تو بڑی مہربانی ہوگی۔ تاکہ نفس مسئلہ اچھی طرح سمجھ میں آجائے۔
نام…
جواب :  اگر کوئی شخص اللہ تعالیٰ کی قسم کھائے کہ وہ چار ماہ بیوی سے قریب نہیں ہوگا اور اس قسم  پر چار ماہ کا عرصہ گزر جائے اور اس دوران وہ بیوی سے قربت اختیار نہ کرے تو چار ماہ گزرتے ہی بیوی پر ایک طلاق بائن واقع ہوکر دونوں میں تفریق ہوجائے گی ۔ عالمگیری جلد 1 ص : 476 میں ہے : الایلاء منع النفس عن قربان المنکوحۃ منعامؤکدا بالیمین باللہ … و ان لم یقربھا فی المدۃ بانت بواحدۃ کذا فی البرجندی شرح النقایۃ۔
اور اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے زندگی بھر قریب نہ ہونے کی قسم کھائے اور اس پر چار ماہ گزر جائے تو دونوں میں طلاق بائن کے ذریعہ تفریق ہوجائے گی پھر اگر وہ دونوں باہمی رضامندی سے بقرار مہر جدید دوبارہ عقد کرلیں تو قسم پھر لوٹ کر آئے گی اور بعد شادی چار ماہ کے دوران وہ قربت اختیار کرے تو قسم ٹوٹنے کی وجہ سے اس پر کفارہ لازم ہوگا اور اگر شادی کے بعد وہ چار ماہ تک قریب نہ ہو تو پھر طلاق بائن کے ذریعہ دونوں میں تفریق ہوجائے گی۔ اس میں ہے : وان کان حلف علی الابد بأن قال واللہ لا اقربک ابدا اوقال واللہ لا اقربک ولم یقل ابدا فالیمین باقیۃ الا انہ لا یتکرر الطلاق قبل التزوج فان تزوجھا ثانیا عادالایلاء فان وطئھا والا وقعت بمضی اربعۃ اشھر طلقۃ اخری۔
پس صورت مسئول عنہا میں شوہر نے اپنی بیوی سے زندگی بھر قریب نہ ہونے کی قسم کھائی ہے اس لئے بعد قسم چار ماہ کے دوران شوہر بیوی سے قربت نہ کیا ہو تو چار ماہ گزرتے ہی بیوی پر ایک طلاق بائن واقع ہوکر شوہر سے رشتۂ زوجیت منقطع ہوگیا ۔ اس چار ماہ کے بعد سے ہی عدت (تین حیض) کا شمار ہوگا ۔ بعد مرورِ عدت وہ دوسرے سے نکاح کی شرعاً مجاز ہے۔
امام سے پہلے مقتدی کا رکوع و سجود سے سر اٹھانا
سوال :   بعض وقت دیکھا جاتا ہے کہ لوگ اس قدر جلدی میں ہوتے ہیں کہ امام کے رکوع سے اٹھنے کا انتظار نہیں کرتے اور اس سے قبل اٹھ جاتے ہیں اور اس کے سجدہ کرنے سے پہلے سجدہ کردیتے ہیں۔ شرعی لحاظ سے اگر کوئی امام سے قبل رکوع اور سجدہ سے سر اٹھالے تو اس کا کیا حکم ہے ؟
وسیم قادری، قادری چمن
جواب :  مقتدی پر امام کی پیروی کرنا لازم ہے ۔ اگر کوئی مقتدی امام سے قبل رکوع اور سجدہ سے اپنا سر اٹھالے تو فقہاء نے صراحت کی کہ اس کے لئے دوبارہ رکوع اور سجدہ میں چلے جانا مناسب ہے تاکہ امام کی اقتداء اور اتباع مکمل ہوسکے اور امام کی مخالفت لازم نہ آئے۔ دوبارہ رکوع اور سجدہ میں جانے سے تکرار متصور نہیں ہوگی۔ حاشیتہ الطحطاوی علی مراقی الفلاح ص : 120 ، 171 میں ہے : من الواجب متابعۃ المقتدی امامہ فی الارکان الفعلیۃ فلو رفع المقتدی رأسہ من الرکوع اوالسجود قبل الامام ینبغی لہ ان یعود لنزول المخالفۃ بالموافقۃ ولا یصیر ذلک تکرارا۔
اجنبی عورت سے مصافحہ کرنا
سوال :  کالج اور کمپنیوں میں لڑکے، لڑکیاں مرد عورتیں ایک ساتھ پڑھتے ہیں اور ایک ساتھ کام کرتے ہیں، ان کے درمیان ہاتھ ملانا، عام سی بات ہوگئی ہے ۔ میں جس کمپنی میں ملازمت کرتا ہوں وہاں میرے ساتھ کئی ایک لڑکیاں ہیں جو فری ماحول کی ہیں وہ بلا تکلف مردوں سے ہاتھ ملادیتی ہیں۔میں جب ان سے ہاتھ ملانے سے کتراتا ہوں تو وہ مجھ پر ہنستے ہیں۔ مرد کا عورتوں سے ہاتھ ملانا آج کل فیشن اور اونچی سوسائٹی کی پہچان ہوگیا ہے ۔ شریعت میں اس بارے میں کوئی گنجائش ہے تو برائے مہربانی آگاہ کریں۔
عبدالقدیر، چارمینار
جواب :  مسلمان مرد کا اجنبی عورت سے مصافحہ کرنا شرعاً جائز نہیں۔ وہ فتنہ کا باعث ، فواحش و منکرات کا موجب ہے۔ صحیح حدیث میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ میں عورتوں سے مصافحہ نہیں کرتا۔ نیز حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنھا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ کبھی بھی کسی عورت کے ہاتھ کو نہیں لگا۔ آپ عورتوں سے زبانی بیعت لیا کرتے تھے۔ لہذا آپ کا عمل اسلامی طریقہ کے مطابق ہے، آپ قطعاً اجنبی عورتوں سے مصافحہ نہ کر یں، اگرچہ وہ آپ پر ہنسا کریں کیونکہ آخرت کی کامیابی سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقہ کے مطابق عمل کرنے میں ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل مبارک ہی دنیا کی سب اعلیٰ تہذیب و ثقافت ہے۔
نابالغ لڑکے کے مال کی ولایت
سوال :   زید کا انتقال ہوا، ورثاء میں ایک بیوی ہندہ، اورایک لڑکا عمر (4) سالہ موجود ہے ۔ اسکے علاوہ مرحوم کے دو بھائی موجود ہیں جن میں ایک فاتر العقل ہے۔ بعد ختمِ عدت ہندہ نے نکاح ثانی کرلیا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ لڑکا نانی کی پرورشی میں رہے یا چچا کی ، جبکہ چچا محدود المعاش ہے ؟ نیز زید کی جائیداد منقول و غیر منقولہ چچا کے قبضہ میں ہے، اسکا تحفظ کون کرے کہ لڑکا بالغ ہونے پر قابل تصرف ہوجائے ؟
عبدالودود، شاہین نگر
جواب :  صورت مسئول عنہا میں چار سالہ ’’ عمر‘‘ کی ماں ہندہ نے عقد ثانی کرلیا ہے تو لڑکے کی عمر سات سال ہونے تک وہ اپنی نانی (والدہ ہندہ ) کے زیر پرورش رہے گا ۔ اسکے بعد چچا کو یہ حق ہے کہ وہ اس لڑکے کو نانی سے واپس لے کر اس کی تعلیم و تربیت کرے۔ فتاوی عالمگیری جلد اول باب الحضانۃ ص : 541 میں ہے : وان لم یکن لہ ام تستحق الحضانۃ بان کانت غیر اھل  للحضانۃ او متزوجۃ ًبغیر محرم او ماتت فام الام اولی من کل واحدۃ و ان علت اور ص : 542 میں ہے ۔ والام والجدۃ احق بالغلام حتی یستغنی و قدر بسبع سنین … و بعد ما استغتی الغلام و بلغت الجاریۃ فالعصبۃ اولی یقدم الاقرب فالاقرب کذا فی فتاوی قاضی خان۔
زید مرحوم کی متروکہ جائیداد منقولہ و غیر منقولہ کے بعد وضع مصارف تجہیز و تکفین و ادائی قرض و زر مہر بیوہ و اجرائی وصیت برائے غیر وارث در ثلث مابقی آٹھ حصے کر کے بیوی (ہندہ) کو مہر کے علاوہ ایک حصہ اور لڑکے (عمر) کو سات حصے دئے جائیں ۔ نوید کے بھائیاں محروم ہیں۔
زید مرحوم کے چار سالہ لڑکے عمر کے مال کی ولایت سے متعلق اگر زید نے کسی کو مقرر کیا تھا تو اس کو حق ہے ورنہ حاکم عدالت کو ہے یا وہ جس کو مقرر کرے وہ لڑکا بالغ ہونے تک اس کے مال کا ولی ہوگا اور بالغ ہونے کے بعد زید کے فرزند عمر کو دیدے گا۔ در مختار برحاشیہ ، ردالمحتار جلد 5 کتاب الماذون میں ہے : (و ولیہ أبوہ ثم وصیہ ) بعد مرتہ ثم وصی وصیہ … (ثم) بعدھم (جدہ) الصحیح و ان علا (ثم وصیہ ) ثم وصی وصیہ … (ثم القاضی أو وصیہ) ۔ پس حسب صراحت بالا عمل کیا جائے۔
بیوی اور فسخ نکاح کا اختیار
سوال :   ہندہ نے زید سے اس شرط پر نکاح کیا تھا کہ ’’ چھ مہینے موجودگی کے عالم میں اور ایک سال سفر کی حالتمیں اگر اپنی ذات عورت کو نہ پہنچائی جائے تو پس عورت کا معاملہ اس کے اپنے ہاتھ ہوجائے گا۔ چنانچہ شادی کے تین ماہ تک زید ہندہ کے ساتھ رہا اس کے بعد وہ شارجہ چلا گیا، تقریباً پانچ سال کا عرصہ ہوا وہ لاپتہ ہے۔ باوجود تلاش معلوم نہیں ہوا۔ ہندہ نے بر بناء شرط اپنا نکاح فسخ کرلی۔ ایسی صورت میں شرعاً یہ نکاح فسخ ہوا یا نہیں ؟
عبدالستار خان، ملک پیٹ
جواب :  اگر بوقت عقد عورت ، عاقد پر شرط عائد کرے کہ ’’ اس کا معاملہ اس کے ہاتھوں میں رہے گا‘‘ اور عاقد اس شرط کو قبول کرلے تو شرعاً ایسا عقد درست ہے اور عورت کو علحدگی کا اختیار ہوگا ۔ فتاوی عالمگیری جلد اول کتاب النکاح ص : 273 فعل فیما ینعقد بہ النکاح ومالا ینعقدبہ میں ہے ۔ وان ابتدأت المرأۃ فقالت زوجت نفسی منک علی انی اطلق او علی ان یکون الامر بیدی اطلق نفسی کلماشئت فقال الزوج قبلت جاز النکاح  و یقع الطلاق ویکون الامر بیدھا۔ اور در مختار برحاشیہ رد المحتار جلد 2 ص : 525 میں ہے : نکحھا علی ان امرھا بیدھا صح اور رد المحتار میں ہے (قولہ صح)  مقید بما اذا ابتدأت المرأۃ۔پس صورت مسئول عنہا میں زید نے شرط مذکور در سوال قبول کر کے عقد کیا تھا تو اب ہندہ کا فسخ شرعاً درست ہے ۔
نافرمان بیوی کا نفقہ
سوال:   میری اہلیہ ذرا ذرا سی بات پر خفا ہوجاتی ہے اور اپنے والدین کے گھر چلی جاتی ہے اور وہاں مہینوں رہ جاتی ہے اورمجھ سے نفقہ کا مطالبہ کرتی ہے ۔ میں واپس بلانے کے لئے کوشش کرتا ہوں وہ ایک بات نہیں مانتی، کیا ایسی صورت میں مجھ پر اس کا نان نفقہ واجب ہے؟
خورشید احمد، فرسٹ لانسر
جواب :  جو بیوی اپنے شوہر کی اطاعت نہ کرے اور بلا وجہ شرعی اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر اپنے میکے چلی جائے تو شرعاً وہ ناشزہ یعنی نافرمان ہے اور نافرمان بیوی کا نفقہ جب تک وہ شوہر کی اطاعت نہ کرے اور اس کے گھر واپس نہ آجائے شوہر پر واجب نہیں۔ وان نشزت فلا نفقۃ لھا حتی تعود الی منزلہ والناشزۃ ھی الخارجۃ عن منزل زوجھا والمانعۃ نفسھا منہ … واذا ترکت النشوز فلھا النفقۃ (عالمگیری ج : 1 ص: 545 )

TOPPOPULARRECENT