Sunday , August 20 2017
Home / Top Stories / ممبئی دھماکے مقدمہ: 10 مجرمین کو عمر ، ثاقب کو 10 سال قید

ممبئی دھماکے مقدمہ: 10 مجرمین کو عمر ، ثاقب کو 10 سال قید

پھانسی پانے والے کی فوری موت دوسروں کی تکلیف کے احساس سے عاری ، جج کا فیصلہ
ممبئی ۔ 6 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) پونا کی ایک خصوصی عدالت نے ڈسمبر 2002ء اور مارچ 2003ء کے دوران ممبئی میں متعدد دھماکوں کے مقدمہ میں 10 کے منجملہ تین مجرمین کو عمرقید کی سزاء دی ہے جبکہ اس مقدمہ کے کلیدی ملزم ثاقب ناچن کو 10 سال کی سزائے قید دی گئی۔ ان دھماکوں کے سبب عروس البلاد دہل گیا تھا اور 13 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ پوٹا کے خصوصی جج پی آر دیشمکھ نے کہا کہ ایک مجرم مزمل انصاری (جس نے بم نصب کئے تھے) تاحیات جیل میں رہے گا۔ جج نے مزید کہا کہ اگر کسی شخص کو پھانسی پر لٹکایا جاتا ہے تو ایک لمحہ سے بھی مختصر ساعت میں اس کی زندگی کا خاتمہ ہوجاتا ہے اور وہ (شخص) اس جرم کے متاثرین یا ان کے ورثاء کو ہونے والی ذہنی اذیت، جذباتی و جسمانی تکلیف کو محسوس نہیں کرسکتا۔ دیگر دو مجرمین فرحان کھوٹ اور واحد انصاری کو بھی عمر قید کی سزاء دی گئی ہے۔ دیگر چھ مجرمین کو 2 تا 10 سال کے درمیان مختلف مدتوں کیلئے قید کی سزاء دی گئی ہے۔ عدالت نے حکم دیا کہ مجرمین سے بطور جرمانہ وصول کی جانے والی رقم لیگل سرویس اتھاریٹی کو دی جائے بقیہ رقم انڈین ریلویز کو ملند (دھماکہ) واقعہ خسارہ کی پابجائی کیلئے بطور معاوضہ دی جائے۔ عدالت نے کہا کہ ’’جہاں تک مہلوکین کے ورثاء کو معاوضہ کی ادائیگی کا سوال ہے ریکارڈ پر اس کی خاطرخواہ تفصیلات نہیں ہیں۔ اگرچہ چند زخمی گواہوں نے محکمہ ریلویز کی طرف سے دیئے جانے والے معاوضہ کی وصولی کا اعتراف کیا۔ چنانچہ اس واقعہ کے مہلوکین کے ورثاء، زخمیوں و دیگر متاثرین کو معاوضہ کی ادائیگی میں دشواری ہے۔ تاہم عدالت نے ڈی ایل ایس اے بمبئی کو ہدایت کی ہیکہ وہ متاثر اور ورثاء کیلئے معاوضہ کے تعین کا فیصلہ کرے اور اس کے مطابق ادائیگی عمل میں لائی جائے۔

واضح رہیکہ عدالت نے ممبئی کے متعدد دھماکوں کے مقدمہ کے مجرمین کی سزاؤں کا اعلان آج تک کیلئے ملتوی کردیا تھا۔ قبل ازیں 29 مارچ کو عدالت کلیوی ملزمین ثابق ناچن، عطیف ملا، حسیب ملا، غلام کوٹل، محمد کامل، نورملک، انور علی خاں، فرحان کھوٹ، وحیدانصاری اور مزمل انصاری کو جرم کا مرتکب قرار دیا تھا۔ 13 مارچ 2003ء کو ہوئے ملند ٹرین دھماکہ میں 12 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ اس سے قبل 6 ڈسمبر 2002ء کو ممبئی سنٹرل اسٹیشن پر واقع مک ڈونالڈ آؤٹ لٹ کے قریب ہوئے دھماکے میں متعدد افراد زخمی ہوگئے تھے۔ 27 جنوری 2003ء کو ویلے پارلے مارکٹ میں ایک دھماکہ کے نتیجہ میں ایک شخص ہلاک ہوگیا تھا۔ خصوصی سرکاری وکیل روہنی سلیان نے بحث کے دوران مزمل انصاری کو سزائے موت دینے کیلئے سخت اصرار کیا تھا۔ انہوں نے ثاقب ناچن، غلام کھوٹل، فرحان کھوٹ اور ڈاکٹر وحیدانصاری کو عمر قید دینے کا مطالبہ کیا تھا۔ مقدمہ کی سماعت کے دوران فوت ہونے والے دو ملزمین کو بری کردیا گیا۔ دیگر چھ ملزمین ہنوز مطلوب ہیں۔ مقدمہ کی سماعت کے دوران استغاثہ نے 153 اور وکیل صفائی نے 30 گواہوں پر جرح کی تھی۔ اس مقدمہ کی سماعت 2014ء میں شروع ہوئی تھی جس سے قبل چند ملزمین نے پوٹا کو چیلنج کیا تھا۔ علاوہ ازیں تمام مقدمات کو یکجا کرنے پر بھی اعتراض کیا گیا تھا۔

TOPPOPULARRECENT