Wednesday , September 20 2017
Home / ہندوستان / ممبئی میں آٹو ڈرائیوروں کیلئے مراٹھی بات چیت کا لزوم

ممبئی میں آٹو ڈرائیوروں کیلئے مراٹھی بات چیت کا لزوم

حکومت کے فیصلہ کو شیوسینا کی تائید ۔ اپوزیشن کی جانب سے اعتراض
ممبئی 19 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) شیوسینا نے آج سینئر پارٹی لیڈر اور وزیر ٹرانسپورٹ دیوا کرداؤت کے اس اعلان کی مدافعت کی ہے کہ نئے آٹو رکشاؤں کے پرمٹس صرف مراٹھی بولنے والے ڈرائیورس کو جاری کئے جائیں گے اور بتایا کہ ایک قدیم قانون ہے جس پر اب عمل درآمد کیا جارہا ہے۔ شیوسینا نے اس مسئلہ کو مجوزہ بہار اسمبلی انتخابات سے جوڑتے ہوئے یہ الزام عائد کیا ہے کہ جو لوگ ترقی کو نظرانداز اور آٹو پرمٹس کی اجرائی میں رکاوٹ پیدا کررہے ہیں وہی لوگ بہار کو پسماندہ بنانے کے ذمہ دار ہیں۔ پارٹی ترجمان سامنا کے اداریہ میں کہا گیا ہے کہ ہمیں یہ اعداد و شمار پیش کرنے کی چنداں ضرورت نہیں ہے کہ ممبئی میں مراٹھی بولنے والے آٹو اور ٹیکسی ڈرائیوروں کی تعداد کتنی ہے اور غیر مقامی کتنے ہیں اور کسی نے یہ فتوی جاری نہیں کیاکہ غیر مقامی شہر سے چلے جائیں۔ واضح رہے کہ حکومت مہاراشٹرا نے حال ہی میں یہ فیصلہ کیا ہے کہ آٹو ڈرائیوروں کیلئے ایک لاکھ نئے پرمٹس جاری کئے جائیں گے لیکن درخواست گذاروں کو مراٹھی میں روانی کے ساتھ بات چیت کرنی ہوگی۔ وزیر ٹرانسپورٹ دیوا کراؤت نے کہاکہ اگر ڈرائیور کو مراٹھی زبان واقف نہیں ہوگا تو کس طرح مسافرین سے بات چیت کرے گا۔ جس پر اپوزیشن کانگریس اور این سی پی نے شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے مراٹھی بول چال کو لازمی قرار دینے پر اعتراض کیا ہے اور یہ الزام عائد کیاکہ شیوسینا اور اس کی حلیف بی جے پی محض ممبئی میونسپل الیکشن کے پیش نظر مراٹھی باشندوں کے جذبات سے کھلواڑ کررہے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT