Saturday , September 23 2017
Home / ہندوستان / ممبئی میں سخت چوکسی ۔ حساس علاقوں میں سخت سیکوریٹی

ممبئی میں سخت چوکسی ۔ حساس علاقوں میں سخت سیکوریٹی

MUMBAI, JULY 30:- policemen stand guard as women walk pass near the residence of Yakub Memon, in Mumbai, India, July 30, 2015. India hanged Yakub Memon on Thursday for his role in the country's deadliest bombings, which killed 257 people in Mumbai in 1993, after the Supreme Court threw out his final plea for a stay of execution. Memon was convicted as the "driving spirit" behind the serial blasts in India's financial capital Mumbai, then known as Bombay. He spent two decades in jail before going to the gallows on his 53rd birthday in a jail in the western city of Nagpur. REUTERS/UNI PHOTO-8R

ممبئی ۔ 30 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) شہر ممبئی بالخصوص علاقہ ماہیم اور قرب و جوار کے حساس علاقوں میں سلسلہ وار بم دھماکوں کے ملزم یعقوب میمن کو آج پھانسی دیئے جانے کے پیش نظر سخت سیکوریٹی انتظامات کئے گئے تھے جہاں پر میمن کے افراد خاندان قیام پذیر ہیں۔ پولیس کے اعلیٰ عہدیداروں نے آج صبح سویرے علاقہ ماہیم کا دورہ کرکے حفاظتی انتظامات کا جائزہ لیا۔ چیف منسٹر مہاراشٹرا دیویندر فڈنویس نے کل شام سینئر پولیس عہدیداروں کے ساتھ اجلاس منعقد کرکے سیکوریٹی کی صورتحال اور احتیاطی تدابیر کا جائزہ لیا تھا۔ بعدازاں چیف منسٹر نے ایک بیان میں عوام سے اپیل کی تھی۔ صبروتحمل سے کام لیتے ہوئے عدلیہ کے فیصلہ کا احترام کیا۔ پولیس کی سریع الحرکت ٹیمیں جو کہ 26/11 کے دہشت گردانہ حملوں کے بعد تشکیل دی گئی تھی، ممبئی کے حساس مقامات بشمول علی حسینی بلڈنگ پر متعین کی گئی تھیں جہاں پر میمن خاندان مقیم ہے۔ پولیس نے احتیاطی اقدامات کے عوام متعدد مجرموں کو محروس کردیا تھا۔ یعقوب میمن 1993ء کے سلسلہ وار بم دھماکوں میں سزائے موت پانے والا واحد ملزم تھا۔ سپریم کورٹ نے رات دیر گئے حکم التواء حاصل کرنے کی آخری کوشش ناکام ہوجانے کے بعد آج صبح سویرے یعقوب میمن کو تختہ دار پر لٹکا دیا گیا۔

ممبئی دھماکہ مقدمہ ‘ میمن خاندان کی بھی آزمائش
ممبئی ۔30جولائی ( سیاست ڈاٹ کام ) یعقوب عبدالرزاق میمن کے کئی ارکان خاندان جسے ممبئی دھماکہ مقدمہ میں اُن کے کردار پر پھانسی پر لٹکایا جانے والا تھا ‘ثبوتوں کے فقدان کی بناء پر بری کردیئے گئے ۔ یعقوب کے والدین عبدالرزاق میمن اور حنیفہ میمن 8منزلہ الحسینی بلڈنگ میں تاریخی گردہ مخدوم شاہ بابا ماہم کے قریب رہا کرتے تھے ۔ یہ وہی عمارت ہے جہاں پر مشتاق عرف ٹائیگر میمن یعقوب کے بھائی اور مفرور ملزم اور سازشی داؤد ابراہیم کے دست راست نے اس دھماکہ کی سازش تیار کی تھی ۔ 12مارچ 1993ء کو بم دھماکوں کے پہلے ہندوستان میں پہلی بار دھماکوں کیلئے آر ڈی ایکس استعمال کیا گیا تھا جسے کاروں اور اسکوٹروں میں الحسینی بلڈنگ کے گیاریج میں ٹائیگر میمن کے آدمیوں نے نصب کیا تھا ۔ یعقوب جسے آج سنٹرل جیل ناگپور میں پھانسی دی گئی ‘ چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ تھا ۔ وہ اس عمارت کی دوسری منزل پر رہتا تھا ۔ اس کے والد عبدالرزاق میمن مشہور کرکٹ کے شائقوں میں سے تھے اور خود بھی ممبئی لیگ کیلئے کھیل چکے تھے ۔ انہیں بھی ٹائیگر کے نام سے جانا جاتا تھا جو سابق کرکٹ کیپٹن نواب آف پٹوڈی کا نام تھا ۔ ان کا بیٹا مشتاق بھی کرکٹ کھلاڑی بنا ۔ بابری مسجد کی شہادت کی انتقامی کارروائی کے طور پر ممبئی سلسلہ وار دھماکے کئے گئے تھے ‘ جس کیلئے پورے میمن خاندان کو مقدمہ کا سامنا کرنا پڑا ۔ تاہم کئی ارکان ثبوتوں کی عدم موجودگی کی بناء پر بری کردیئے گئے لیکن انہیں طویل عرصہ تک سخت آزمائش کا سامنا کرنا پڑا ۔

 

یعقوب میمن کی درخواست مسترد کرنے
والے ججس کی سیکوریٹی میں اضافہ
نئی دہلی ۔ 30 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) سپریم کورٹ کے تین ججس جنہوں نے یعقوب میمن کی سزائے موت پر التوا کے خلاف درخواست مسترد کردی تھی، آج سیکوریٹی بڑھا دی گئی ہے۔ وزارت داخلہ کے عہدیدار نے بتایا کہ جسٹس دیپک مشرا، جسٹس پرفل چندرا پنت اور جسٹس امتوا رائے کی سیکوریٹی احتیاطی اقدام کے طور پر بڑھا دی گئی ہے۔ ان کے مکانات کے باہر پولیس عملہ تعینات کیا گیا ہے اور گشت میں بھی اضافہ کردیا گیا ہے۔ بنچ کی جانب سے درخواست مسترد کرنے کے بعد آج یعقوب میمن کو پھانسی دے دی گئی۔

 

 

TOPPOPULARRECENT