Thursday , August 17 2017
Home / Top Stories / ممبئی میں مسلم خواتین کی تعلیم و تربیت کیلئے کامیاب کوشش

ممبئی میں مسلم خواتین کی تعلیم و تربیت کیلئے کامیاب کوشش

ہر قدم پر رکاوٹوں کے باوجود ایک دلت خاتون کی جہد مسلسل

ممبئی۔/12اپریل ( سیاست ڈاٹ کام )سماج اور قوم کیلئے کچھ کرنے کا جذبہ ہو تو پھر یہ نہیں دیکھا جاتا کہ اس کا فائدہ حاصل کرنے والے کس مذہب کے لوگ ہیں، اپنے ہیں یا پرائے ہیں۔ بس یہی خواہش ہوتی ہے کہ کام کئے جائیں۔ جن کے لئے کام کیا جا رہا ہے ان کے دکھ درد دور کرکے ان کے غم زدہ چہروں پر مسکراہٹ بکھیری جائَے۔ ایسے چراغ مخالف ہواؤں میں بھی جلنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔ ایسا ہی ایک چراغ ممبئی کے کرلا اسٹیشن سے کچھ دور واقع ایک بستی قصائی واڑہ میں جل رہا ہے، جہاں ایک دلت خاتون مسلم خواتین کی تربیت کے لئے مدرسہ چلا رہی ہیں۔ در اصل مقامی افراد نے ایک کمرے میں بچوں کے لئے مدرسہ شروع کیا تھا۔ اسی مدرسے میں سجاتا نے خواتین کی تربیت شروع کردی تاکہ غریب بستی کی خواتین آنے والی نسلوں کو تعلیم یافتہ بنانے میں اپنی ذمہ داری نبھاسکیں۔ سجاتا نے بتایا کہ خواتین کی فلاح و بہبود ان کا اہم مقصد ہے۔ خصوصاً یہ علاقہ جہاں وہ کام کر رہی ہیں یہاں ذیادہ تر مسلمان رہتے ہیں اور یہاں کے حالات دیکھ کر انہیں احساس ہوا کہ خواتین کے لئے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ وہ بتاتی ہیں کہ میں مسلم کمیونٹی میں کام کر رہی ہوں۔ ممبئی کی جھگی بستیوں میں آج بھی تعلیم کے بارے میں لوگوں میں شعور نہیں ہے۔ لڑکیاں ساتویں آٹھویں تک مشکل سے پڑھ پاتی ہیں، کم عمری میں ان کی شادی ہو جاتی ہے۔ اس کے بعد اگر شوہر نشہ باز نکل جائے تو اس لڑکی کی ساری زندگی جہنم بن جاتی ہے۔ شرابی شوہر یا تو نکما بن جاتا ہے یا پھر اکثر اوقات نشہ کی وجہ سے اس کی موت ہو جاتی ہے۔ ان حالات میں اس عورت کی معاشی حالت کا اندازہ لگانا مشکل ہے ‘‘ سجاتا ممبئی یونیورسٹی سے کامرس کی گریجویٹ ہیں اور اکاؤنٹس کا ڈپلوما رکھتی ہیں۔

ایک کمپنی میں 15 سال تک ملازمت کر چکی ہیں اور اب ایک کمپنی چلاتی ہیں جو اکاونٹنسی اور پلیسمینٹ کے میدان میں کام کرتی ہے۔ ممبئی کے قصائی واڑہ میں کام کرنا ان کے لئے آسان نہیں تھا۔ وہ بتاتی ہیں کہ پہلے تو کام کے لئے خواتین اور لڑکیوں کو گھر کے باہر نکالنا مشکل ہے۔ انہوں نے خواتین اور لڑکیوں کے لئے تربیتی پروگرام شروع کیا تاکہ وہ تھوڑا گھر کے باہر نکل سکیں۔ اس کے لئے وہاں پر ایک کمرے کا مدرسہ بزم فرقان چلتا تھا۔ خالی وقت میں عورتوں اور لڑکیوں کے لئے تربیت کا پروگرام شروع کیا گیا۔ وہ بتاتی ہیں’’ خواتین کو یہاں تک بھی لانا مشکل تھا۔ اس کیلئے دو ماہ سے زیادہ عرصہ تک ایک سروے کیا گیا اور لوگوں کو اس کے لئے ترغیب دی گئی۔ پہلے پروگرام میں پانچ ہزار لوگوں میں سے صرف 22 خواتین اس تربیت کے لئے سامنے آئیں‘‘۔سجاتا نے بتایا کہ بستی کے لوگوں خصوصا شمیم بھائی، بھولا بھائی اور شاہد بھائی نے مدد کیلئے ہاتھ بڑھایا۔ مدرسہ انہوں نے شروع کیا تھا  تاکہ بستی کے بچے کچھ پڑھ لکھ جائیں۔ بعد میں جب سجاتا نے خواتین کیلئے بھی سرگرمیاں شروع کی تو مہاتما گاندھی سنٹر کے سدھیندر کلکرنی نے بھی وہاں کا دورہ کیا اوران کی حوصلہ افزائی کی۔ وہ بتاتی ہیں مقامی بچوں کیلئے ہم نے چھوٹاسا پروگرام رکھا، اس کیلئے بچوں نے دو دن خوب محنت کی اور بہت اچھے ثقافتی پروگرام پیش کیے۔ ان بچوں میں اتنی صلاحیت تھی کہ انہیں صحیح راستہ دکھایا جائے تو وہ آگے بڑھ سکتے ہیں۔‘‘ مدرسہ ایک ہی کمرہ کا تھا۔ خواتین کو دو گھنٹے کی تربیت دی جاتی ہے۔ اس ٹریننگ کے بعد انہوں نے ان کے لئے پلیسمنٹ کرنے والوں سے بات کی۔ اس کیلئے جب ایک کمپنی سے بات ہوئی تو وہاں سے بڑا روکھا جواب ملا۔ انہوں نے کہا کہ وہ مسلم خواتین کو کام نہیں دیتے۔ وجہ پوچھی تو بتایا گیا کہ مسلم خواتین کو کام دینے سے مینجمنٹ نے منع کر دیا ہے۔وہ کہتی ہیں کہ میں نے ان سے کہا کہ مسلم خواتین کو کام نہ نے دینے کے بارے میں تحریری طور پر دیں۔ وہ ایسا نہیں کر سکتے تھے۔ ہم نے گفتگو جاری رکھی پیچھا نہیں چھوڑا اور آخرکر وہ مان گئے، لیکن وہ جگہ اس بستی سے کافی دور تھی۔ ہم نے 22 لوگوں کو تربیت دی تھی ان میں سے 11 خواتین نے نوکری کرنے میں دلچسپی دکھائی۔ انہیں میں کاندی ویلی لے گئی۔ شاید کام کیلئے پہلی بار وہ بستی سے باہر نکلی تھیں۔ واپس آتے آتے وہ اتنا تھک گئیں کہ دوسرے دن چلنے سے انکار کر دیا۔خواتین کو ملازمتیں فراہم کرنے کیلئے ایک اور شخص کی مدد لی۔ ان سے کہا کہ کچھ گھر ایسے ہیں کہ جہاں ایک بار ہی چولہا جلتا ہے۔ ان کے لئے کچھ کرنا ہوگا۔ انہوں نے سومیاہاسپٹل والوں سے بات کی جو بستی کے نزدیک ہے، وہاں آنکولوجی ڈپارٹمنٹ نیا کھلا تھا۔ انہوں نے 5 خواتین کو وہاں ملازمت دلوائی۔ سجاتا بتاتی ہیں ’’ جب پہلی تنخواہ ان کے ہاتھ میں آئی تو ان کی خوشی کا اندازہ نہیں تھا۔ مقامی خاتون آمنہ بی کی ایک بیٹی ہے، کسی طرح انہوں نے پیسے جمع کرکے اس کی شادی کر دی تھی، لیکن ایک بچے کی پیدائش کے بعد بیٹی پیدا کرنے کا الزام لگا کر اسے گھر سے باہر نکال دیا۔ یہاں اس کے والد کا بھی انتقال ہو گیا۔ اب اس کی دوسری شادی بھی ممکن نہیں تھی۔ ماں اس کو دیکھ دیکھ کے روتی تھی۔ بیٹی کے ساتھ ساتھ نواسی بھی اس کی ذمہ داری تھی۔ اس لڑکی نے کام سیکھنے میں دلچسپی دکھائی اور اسے جب پہلی تنخواہ 8300 روپئے ملی تو اس کی ماں خوشی سے رونے لگی۔‘‘ یہ بتاتے ہوئے سجاتا کی آنکھوں میں نئی چمک آجاتی ہے اور وہ کہتی ہیں کہ’’ اس دن مجھے احساس ہوا کہ زندگی میں اپنے لئے تو کچھ نہیں کیا، لیکن جس دن مروں گی تو بہت سے لوگ روئیں گے۔‘‘

TOPPOPULARRECENT