Thursday , August 17 2017
Home / ہندوستان / ممبئی میں چھوٹے گوشت کی فروخت پر امتناع سے دستبرداری

ممبئی میں چھوٹے گوشت کی فروخت پر امتناع سے دستبرداری

پابندی کیخلاف بڑے پیمانے پر احتجاج اور ہائیکورٹ کی بھی تنقید کے پیش نظر بلدی ادارہ کا اقدام
ممبئی ، 11 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) ایک کلیدی بلدی ادارہ نے آج دو یوم کیلئے یہاں ذبیحہ اور چھوٹے گوشت کی فروخت پر اپنے امتناع سے دستبرداری اختیار کرلی، کیونکہ وسیع پیمانے پر احتجاج ہورہے تھے اور ہائی کورٹ کی طرف سے بھی تنقید ہوئی تھی، جس نے کہا کہ اس طرح کی تحدیدات کو ممبئی جیسے شہر میں لاگو نہیں کیا جاسکتا ہے۔ گریٹر ممبئی میونسپل کارپویشن نے بمبے ہائی کورٹ کو بتایا کہ اس نے مفاد عامہ اور ممبئی والوں کے احساسات کو ذہن میں رکھتے ہوئے اپنے یکم ستمبر کے سرکلر سے دستبرداری کا فیصلہ کیا ہے، جس کے ذریعے13 اور 18 ستمبر (جین کے کھانے پینے سے احتراز کے ’پریوشن‘ کے دوران) کو ذبیحہ کے ساتھ ساتھ مٹن اور چکن کی شہر میں فروخت پر امتناع عائد کیا گیا تھا۔ جہاں بلدی ادارہ نے 13 اور 18 ستمبر کو اس امتناع کا اعلان کیا تھا، وہیں ریاستی حکومت نے یہ پابندی 10 اور 17 ستمبر کیلئے عائد کی تھی۔ بلدی ادارہ کے فیصلے کا مطلب ہوگا کہ شہر میں اب صرف 17 ستمبر کو چھوٹے کا گوشت دستیاب نہیں رہے گا۔ جمعرات کو امتناع کے پہلے روز شیوسینا اور مہاراشٹرا نونرمان سینا (ایم این ایس) نے اس اقدام کی کھلے طور پر خلاف ورزی کی تھی جبکہ اس کے ورکرز نے مصروف دادر علاقہ میں چکن اور میٹ فروخت کیا تھا۔اپوزیشن کانگریس اور این سی پی نے بھی امتناع پر ناراضگی جتاکر برسراقتدار بی جے پی کو سیاسی مقصدبراری کا مورد الزام ٹھہرایا تھا۔ ایم سی جی ایم جہاں شیوسینا اور بی جے پی کی اقتدار میں شراکت ہے، اس نے آج خصوصی کونسل سیشن منعقد کرکے اس پیچیدہ مسئلے پر غوروخوض کیا اور اس امتناع سے دستبرداری کیلئے متفقہ قرارداد اختیار کی۔ اس دوران مہاراشٹرا بی جے پی نے گوشت پر امتناع کے تنازع سے لاتعلقی ظاہر کی۔

TOPPOPULARRECENT