Tuesday , October 17 2017
Home / شہر کی خبریں / ممبئی میں گوشت کی فروختگی پر امتناع حکومت مہاراشٹرا کا فیصلہ مضحکہ خیز

ممبئی میں گوشت کی فروختگی پر امتناع حکومت مہاراشٹرا کا فیصلہ مضحکہ خیز

ماجی کارکن و چانسلر مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی ظفر سریش والا کا سخت ردعمل
حیدرآباد ۔  9  ستمبر  (سیاست  نیوز) سماجی کارکن اور مولانا آزاد اردو یونیورسٹی کے چانسلر ظفر سریش والا نے ممبئی میں چند دن کیلئے گوشت کی فروخت پر امتناع سے متعلق مہاراشٹرا حکومت کے فیصلہ کو مضحکہ خیز قرار دیا۔ ظفر سریش والا جو اردو یونیورسٹی کی کارکردگی کا جائزہ لینے کیلئے حیدرآباد میں ہیں، سیاست سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ وہ ممبئی میں گوشت کی فروخت پر امتناع اور گجرات میں تحفظ گاؤ سے متعلق گمراہ کن پوسٹرس کے خلاف ہیں۔ اس سلسلہ میں انہوں نے گجرات حکومت کے ذمہ داروں سے بات چیت کرتے ہوئے اپنی ناراضگی جتائی ہے جس کے بعد گجرات حکومت نے نہ صرف معذرت خواہی کی بلکہ پوسٹرس سے دستبرداری اختیار کرلی۔ سریش والا نے کہا کہ مہاراشٹرا میں جین طبقہ کے مذہبی جذبات کا احترام کرنے کے نام پر گوشت کی فروخت پر امتناع عائد کرنا ناقابل فہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ مہاراشٹرا سے زیادہ ملک کے دیگر علاقوں میں جین طبقہ کی آبادی ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا صرف مہاراشٹرا میں ہی جین طبقہ ہے؟ انہوں نے کہا کہ صرف چند دن کیلئے مذہبی جذبات کا احترام معنی خیز ہے کیونکہ چار دن کے بعد گوشت بازار میں دستیاب رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومتوں کو اس طرح کے فیصلوں سے گریز کرنا چاہئے جس سے دیگر طبقات کے ذہنوں میں غلط فہمیاں پیدا ہوسکتی ہیں۔ سریش والا نے گجرات میں تحفظ گاؤ پوسٹرس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ طب سے متعلق عربی کتاب کے ایک قول کو قرآنی آیت کے طور پر پیش کیا گیا ہے جو انتہائی گمراہ کن ہے۔ جس عربی قول کا حوالہ دیا گیا ، اس کا قرآن مجید سے کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے کہا کہ قرآن مجید میں گائے کے کھانے سے منع نہیں کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں چونکہ گاؤکشی پر امتناع ہے لہذا مسلمان دیگر مذاہب کے جذبات کا احترام کرتے ہوئے ذبیحہ گاؤ سے گریز کرتے ہیں اور عید الاضحیٰ کے موقع پر گائے کے بجائے دوسرے بڑے جانور کی قربانی دی جاتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ گجرات حکومت کی جانب سے پوسٹرس لگائے جانے کے بعد انہوں نے حکومت کی توجہ مبذول کرائی۔ ظفر سریش والا نے کہا کہ مسلمانوں کو یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ وہ دیگر مذاہب کے جذبات کا احترام کس طرح کرے۔ مسلمان دیگر مذاہب کے جذبات کا احترام کرتے ہیں اور اس بارے میں کسی کو شبہ کی گنجائش نہیں ہونی چاہئے ۔ چانسلر اردو یونیورسٹی نے ان اطلاعات کو مسترد کردیا کہ اردو یونیورسٹی کے ذریعہ تعلیم کو اردو سے انگلش میں تبدیل کرنے کی تجویز ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی کوئی تجویز پیش کی جاتی ہے تو اسے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا۔ اردو زبان کی ترقی اور فروغ کیلئے یہ یونیورسٹی قائم کی گئی اور اس کا ذریعہ تعلیم اردو ہی رہے گا۔ اردو زبان میں نصابی کتب کی عدم دستیابی کا اعتراف کرتے ہوئے ظفر سریش والا نے کہا کہ اردو میں نصابی کتب کی تیاری کیلئے یونیورسٹی ماہرین کی خدمات حاصل کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی گرانٹس کمیشن نے پنچ سالہ منصوبہ کے تحت یونیورسٹی کو 205 کروڑ روپئے جاری کئے ہیں۔ چانسلر نے بتایا کہ مرکزی حکومت بہت جلد وائس چانسلر کا تقرر عمل میں لائے گی اور اس کیلئے سرچ کمیٹی نے جو تین نام پیش کئے تھے ان میں سے نئے وائس چانسلر کا انتخاب کیا جائے گا ۔ چانسلر کے اختیارات کے بارے میں یونیورسٹی کے حکام کی جانب سے پھیلائی جارہی غلط فہمیوں پر تبصرہ کرتے ہوئے ظفر سریش والانے کہا کہ کام کرنے کیلئے اختیارات کی ضرورت نہیں اور وہ ربر اسٹامپ چانسلر بن کر نہیں رہیں گے۔ یونیورسٹی کے قیام کے بعد سے آج تک جو چانسلر گزرے ہیں، وہ ان کی طرح نہیں بلکہ مکمل اختیارات کے ساتھ یونیورسٹی کی ترقی کے قدم اٹھائیں گے۔ سریش والا نے کہا کہ حالیہ عرصہ میں یونیورسٹی کی اگزیکیٹیو کونسل نے لکھنو سنٹر بند کرنے کا فیصلہ کیا تھا لیکن انہوں نے اسے دوبارہ بحال کیا۔ سریش والا نے ریمارک کیا کہ وہ ایسی سواری کے حق میں نہیں جس کی لگام ان کے ہاتھ میں نہ ہو۔

TOPPOPULARRECENT