Sunday , October 22 2017
Home / ہندوستان / ممبئی میں گوشت کی فروخت پر عائد امتناع پر حکم التوا

ممبئی میں گوشت کی فروخت پر عائد امتناع پر حکم التوا

عدم تشدد وجہ ہے تو مچھلی و انڈوں پر امتناع کیوں نہیں ‘ ہائیکورٹ کا حکومت سے سوال
ممبئی۔14ستمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) بمبئی ہائیکورٹ نے آج ممبئی میں گوشت کی فروخت پر عائد امتناع پر حکم التوا جاری کردیا ۔ 17ستمبر کو جین فرقہ کے اپواس کے دنوں کے سلسلہ میں امتناع عائد کیا گیا تھا ۔ عدالت نے سوال کیا کہ صرف چھوٹے گوشت اور مرغ کے گوشت پر امتناع کیوں ہے ۔ انڈے و مچھلیوں پر کیوں نہیں ؟ ۔ عدالت نے امتناع کے بارے میں سوال کرتے ہوئے کہا کہ اگر یہ عدم تشدد پر جین برادری کے عمل کا سوال ہے تو صرف چھوٹے گوشت اور مرغ کے گوشت پر امتناع کیوں عائد کیا گیا ہے ۔ مچھلیوں اور انڈوں کو اس میں کیوں شامل نہیں کیا گیا ۔ اس مسئلہ پر ایک سیاسی طوفان پیدا ہوا ہے ۔ عوام کی غذائی عادات میں حکومت کی مداخلت پر اعتراض کیا جارہا ہے ۔ یہ مسئلہ اس وقت ہائیکورٹ پہنچ گیا جبکہ شہر کے قصابوں کی تنظیم نے اس امتناع کو چیلنج کیا ۔ عظیم تر ممبئی کی مجلس بلدیہ نے گذشتہ ہفتہ عائد کردہ دو روزہ امتناع کی تجویز سے دستبرداری اختیار کرلی تھی ۔ اس کے علاوہ حکومت کی جانب سے چھوٹے گوشت اور مرغ کے گوشت اور انکو ذبح کرنے پر امتناع عائد کیا گیاتھا تاہم ہائیکورٹ نے ذبیحہ پر امتناع کے مسئلہ میںمداخلت سے انکار کردیا اور واضح کیا کہ التوا صرف ممبئی تک محدود رہے گا ‘ حالانکہ اسی طرح کا ایک اقدام پڑوسی علاقوں میرا  بھیندر اور نوی ممبئی میں بھی کیا گیا ۔ ڈیویژن بنچ نے جو جسٹس انوپ وی موہتا اور جسٹس امجد سید پر مشتمل تھی اپنے حکم نامہ میں کہا کہ مہاراشٹرا حکومت نے حالانکہ مراسلہ 2004ء میں جاری کرکے دو دن کیلئے گوشت کی فروخت پر امتناع عائد کیا تھا لیکن اسے ’عملی اعتبار سے ‘ نافذ نہیں کیا جاسکا ۔ عدالت نے اس مسئلہ پر ابتدا سے سخت موقف رکھا اور مقدمہ کی سماعت کے دوران بھی بعض چبھتے تبصرے کئے ہیں ۔ عدالت نے کہا کہ ممبئی کی مجلس بلدیہ اور حکومت کا موقف پائیدار نہیں ۔ حکومت نے 7ستمبر 2004 کو مراسلہ جاری کرکے پریوشن کے دوران 2 دن مسالخ بند کردینے ‘ ذبیحہ اور گوشت کی فروخت پر امتناع کا اعلان کیا تھا ۔ حالانکہ یہ مراسلہ 2004 میں جاری کیا گیا لیکن ممبئی بلدیہ نے گوشت کی فروخت پر امتناع کبھی عائد نہیں کیا ۔ اس نے گوشت کی فروخت پر امتناع کیلئے  اصرار کیا تھا اور مسالخ کو بند کرنے پر زور دیا تھا ۔ ججس نے کہا کہ ہم صرف قانون کے مطابق کام کررہے ہیں ۔ اس معاملہ سے ہندو جذبات اور سیاسی وجوہات کی بنا پر رویہ نہیں اختیار کر رہے ہیں ۔ عدالت نے اس معاملہ کی قطعی سماعت چار ہفتے بعد مقرر کی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT