Monday , September 25 2017
Home / Top Stories / ممبئی ٹرین دھماکوں کے 5مجرمین کو سزائے موت، دیگر 7کو عمر قید

ممبئی ٹرین دھماکوں کے 5مجرمین کو سزائے موت، دیگر 7کو عمر قید

ایک ملزم بری، بشمول اعظم چنا، 17 پاکستانی ملزمین ہنوز مفرور، مکوکا عدالت کے خصوصی جج کا فیصلہ

ممبئی ۔ 30 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) ممبئی کی لوکل ٹرینوں میں 11 جولائی 2006ء کے سلسلہ وار بم دھماکوں کے مقدمہ کی سماعت کرنے والی ایک خصوصی عدالت نے پانچ ملزمین کو سزائے موت اور دیگر 7 کو عمر قید دی ہے۔ ممبئی میں 9 سال قبل کئے گئے ان سلسلہ وار بم دھماکوں میں کم سے کم 189 افراد ہلاک اور دیگر 800 زخمی ہوگئے تھے۔ مکوکا عدالت کے خصوصی جج یاتن ڈی شنڈے نے فیصلہ صادر کرتے ہوئے کہا کہ 37 سالہ کمال احمد انصاری، 36 سالہ محمد فیصل شیخ، 30 سالہ احتشام صدیقی، 30 سالہ نوید حسین خاں اور 38 سالہ آصف خاں کو سزائے موت دی گئی ہے۔ عمر قید پاتے ہوئے پھانسی کے پھندہ سے بچ جانے والے 7 ملزمین میں 37 سالہ تنویر احمد انصاری، 32 سالہ محمد ماجد شفیع، 41 سالہ شیخ عالم شیخ، 34 سالہ محمد ساجد انصاری، 27 سالہ مزمل شیخ، 43 سالہ سہیل محمود شیخ اور 36 سالہ ضمیراحمد شیخ شامل ہیں۔ ان تمام کے ممنوعہ تنظیم سیمی سے روابط تھے۔ واضح رہے کہ 9 سال قبل کھار روڈ سے سانتا کروز، باندرہ، کھار روڈ، جوگیشوری۔ ماہم جنکشن، میرا روڈ ۔ بھیندر، ماٹنگا۔ ماہم جنکشن اور بوریولی کے درمیان 10 منٹ کے مختصر وقت میں لگاتار سات نیم مضافاتی ٹرینوں میں سلسلہ وار دھماکوں کے سبب عروس البلاد ممبئی میں خوف و دہشت کی لہر دوڑ گئی تھی۔ کئی نیم مضافاتی ٹرینوں کے فرسٹ کلاس کوچیس میں آر ڈی ایکس کے ذریعہ 7 بم دھماکے کئے گئے تھے جس سے 189 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

انسداد دہشت گردی اسکواڈ (اے ٹی ایس) نے اپنی چارج شیٹ میں کہا کہ نیم مضافاتی ممبئی کے علاقہ گوونڈی کے ایک کمرہ میں عصری دھماکو آلات تیار کئے گئے تھے اور بم سازی کے دوران چند پاکستانی شہری بھی موجود تھے۔ مقدمہ کی طویل عرصہ تک سماعت کے بعد خصوصی عدالت نے 11 ستمبر کو 13 کے منجملہ 12 کو جرم کا مرتکب قرار دیاتھا اور ایک کو بری کردیا گیا تھا۔ ان تمام کے ممنوعہ تنظیم سے روابط تھے۔ بعدازاں عدالت نے سزاؤں کے تعین پر بحث کی سماعت گذشتہ ہفتہ مکمل کی تھی۔ وکیل استغاثہ نے 12 کے منجملہ 8 ملزمین کو سزائے موت دینے پر اصرار کیا تھا اور دیگر 4 کو عمر قید دینے کی استدعا کی تھی۔ پانچ ملزمین کو ہندوستانی تعزیری قانون کی دفعہ 302 (قتل) کے تحت جرم کا مرتکب قرار دیاگیا۔ علاوہ ازیں تمام ملزمین ہندوستانی تعزیتی ضابطہ کے تحت قانون دھماکو اشیاء، قانون انسداد غیرقانونی سرگرمیاں، انڈین ریلوے قانون اور عوامی املاک کو نقصانات کے انسداد سے متعلق قوانین کے تحت جرائم کے مرتکب پائے گئے۔ عدالت نے تمام ملزمین کو قانون مکوکا کی دفعہ 3 (1) کے تحت جرم کا مرتکب پایا جو سزائے موت کا مستوجب ہے۔ تحقیقات کے دوران 13 ملزمین کو گرفتار کرتے ہوئے ان پر مقدمہ چلایا گیا جو تمام ہندوستانی ہیں۔ انسداد دہشت گردی اسکواڈ (اے ٹی ایس) نے نومبر 2006ء کے دوران 30 ملزمین کے خلاف چارج شیٹ پیش کی تھی جن کے منجملہ 17 ہنوز مفرور ہیں۔

ان میں لشکرطیبہ کے رکن اعظم چنا کے بشمول 13 کا تعلق پاکستان سے ہے۔ ملزمین کو جرم کا مرتکب پائے جانے کے بعد جج شنڈے نے وکلائے صفائی کو گواہوں پر جرح کی اجازت دی۔ ان وکلاء نے گواہوں پر جرح کی جن میں ملزمین کے چند رشتہ دار بھی تھے۔ وکلاء نے استدلال پیش کیا کہ ملزمین کے رویہ میں اصلاح کے ساتھ تبدیلی ہوئی ہے اورانہیں تختہ دار سے بچایا جانا چاہئے۔ وکلاء صفائی نے نرمی کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ 12 مجرمین دراصل اصل سازشی سرغنہ اعظم چنا کے محض مہرے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مجرمین جیلوں میں کئی صعوبتیں برداشت کرچکے ہیں جو بذات خود ان کے دشوارکن حالات میں شامل ہے جس کی بناء پر وہ نرمی کے مستحق ہیں۔ تاہم خصوصی وکیل استغاثہ راجو ٹھاکرے نے مجرمین کو ’’موت کا سوداگر‘‘ قرار دیتے ہوئے انہیں سزائے موت دینے پر اصرار کیا۔ تقریباً 8 سال تک جاری اس مقدمہ کی سماعت کے دوران وکیل استغاثہ نے 8 آئی پی ایس، 5 آئی اے ایس افسران، 18 ڈاکٹروں کے بشمول 192 گواہوں پر جرح کی۔ وکلائے صفائی نے 51 گواہوں پر جرح کی۔ اے ٹی ایس نے 20 جولائی 2000 اور 3 اکٹوبر 2006ء کے درمیان 13 ملزمین کو گرفتار کیا تھا۔ 11 ملزمین نے بیان دیتے ہوئے اپنے جرم کا ارتکاب کیا تھا بعدازاں اپنے اقبالی بیان سے منحرف ہوگئے تھے۔

TOPPOPULARRECENT