Tuesday , October 24 2017
Home / ہندوستان / ممتابنرجی کے اثاثہ جات کی تحقیقات : سی پی آئی ایم

ممتابنرجی کے اثاثہ جات کی تحقیقات : سی پی آئی ایم

کولکتہ ۔ 24 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) اگر سی پی آئی ایم مغربی بنگال کے اسمبلی انتخابات کے نتیجہ میں برسراقتدار آجائے تو وہ ترنمول کانگریس کی صدر چیف منسٹر مغربی بنگال ممتابنرجی کے رشتہ داروں کے جمع کئے ہوئے اثاثہ جات کی تحقیقات کروائے گی۔ سی پی آئی ایم کے رکن پارلیمنٹ محمد سلیم نے جو لوک سبھا میں پارٹی کے ڈپٹی لیڈر ہیں، کہا کہ چیف منسٹر کے رشتہ داروں اور ان کے قریبی افراد کے اثاثہ جات نیلام کردیئے جائیں گے اور ان سے حاصل ہونے والی رقم غریبوں میں تقسیم کردی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہم غریبوں کو دھوکہ دے کر جو کروڑوں روپئے کی رقم جمع کی گئی ہے، اس کیلئے ترنمول کانگریس نے ناجائز طریقے استعمال کئے ہیں۔ ہم ہر بات کی تحقیقات کروائیں گے۔ وہ کولکتہ میں پارٹی آفس پر پریس کانفرنس میں سوالوں کے جواب دے رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ مرکز کی بی جے پی حکومت اور ریاست کی ترنمول کانگریس حکومت میں درپردہ سمجھوتہ ہوچکا ہے جس کی وجہ سے شاردا اسکام کی تحقیقات متاثر ہوئی ہیں۔ یہی وجہ ہیکہ کوئی ایف آئی آر اسٹنگ آپریشن میں درج نہیں کروایا گیا۔ یہ پہلی بار ہے جبکہ مغربی بنگال کے ارکان پارلیمنٹ رشوت خوری کرتے ہوئے کیمرے کی فلم میں نظر آئے ہیں۔ انہوں نے اظہار حیرت کیا کہ ان کے خلاف ایف آئی آر کیوں درج نہیں کروائی گئی اور تحقیقات کا حکم کیوں نہیں دیا گیا۔ محمد سلیم نے کہاکہ ایسا اس لئے ہوا کیونکہ بی جے پی اور ترنمول کانگریس میں خفیہ سمجھوتہ ہوچکا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کس بنیاد پرممتابنرجی نے ایک الٹ پھیر کیا ہوا ویڈیو اس فلم کو قرار دیا تھا۔ سافٹ ویر موجود ہیں جن سے پتہ لگایا جاسکتا ہیکہ کیافلم میں کوئی الٹ پھیر کی گئی ہے لیکن وہ صداقت کا اظہار نہیں چاہتیں ۔ سی پی آئی ایم قائد نے جاننا چاہا کہ بردوان کے سابق ایس پی ایس ایم ایچ مرزا کے خلاف کوئی کارروائی کیوں نہیں کی گئی۔

TOPPOPULARRECENT