Monday , September 25 2017
Home / مضامین / ممتا دے سکتی ہیں مودی کو ٹکر

ممتا دے سکتی ہیں مودی کو ٹکر

عقیل احمد
مغربی بنگال کی سیاست میں ساڑھے تین دہوں تک بائیں بازو جماعت نے اپنا قبضہ و دبدبہ برقرار رکھا تھا، اس طرح وہ وہاں کی قدیم روایتی جماعت مانی جاتی تھی لیکن سال 2011کے اسمبلی انتخابات کے نتائج نے مغربی بنگال کی سیاست کا رُخ ہی بدل دیا۔ ممتا بنرجی کی قیادت میں ترنمول کانگریس نے بنگال سے بائیں بازو جماعت کا مکمل صفایا کردیا جہاں برسوں تک بائیں بازو جماعت بڑی شان و شوکت کے ساتھ اقتدار پر قابض تھی اب وہاں پر بنگال کی دیدی ممتا بنرجی کی حکومت کے جھنڈے لہرانے لگے۔ ان سب کے باوجود اس وقت ممتا بنرجی کا سیاسی قد اتنا نہیں بڑھا تھا جتنا کہ آج نظر آرہا ہے۔ تب سمجھا گیا تھا کہ شاید مغربی بنگال کے لوگوں نے برسوں سے ایک ہی جماعت کی حکومت سے بیزار ہوکر بائیں بازو جماعت کو اقتدار سے بیدخل کیا اور ممتا بنرجی کو ایک مرتبہ آزمانے کا من بنالیا تھا، لیکن 27مئی 2016 کو جب ممتا بنرجی نے لگاتار دوسری مرتبہ مغربی بنگال کے وزیر اعلیٰ کے طور پر حلف لیا تب سے اس طرح کے سیاسی اندیشوں کی گوئی گنجائش باقی نہیں رہی۔ صحیح معنوں میں ممتا بنرجی گذشتہ انتخابات کے بجائے اس مرتبہ تاریخ رقم کرنے کا اعزاز حاصل  کیا ہے۔ شاید یہی وجہ ہوگی کہ ممتا بنرجی کی رسم حلف برداری کی تقریب کو اتنے بڑے پیمانے پر منعقد کیا گیا جس کی نظیر مغربی بنگال کی سیاسی تاریخ میں نہیں ملتی۔ یہ تقریب کتنی عالیشان تھی اس بات کا اندازہ یوں لگایا جاسکتا ہے کہ اس میں مختلف ممالک کے وزرائے اعظم، وزرائے، ملک و بیرون ملک کی سیاسی شخصیتیں، فلمی اداکار سمیت تین ہزار سے زائد وی آئی پی اور 140 وی وی آئی پی نے شرکت کی۔ امیتابھ بچن، شاہ رُخ خاں، سورو گنگولی، ارون جیٹلی، وینکیا نائیڈو، بابل سپریو، بھوٹان کے وزیر اعظم اور بنگلہ دیش کے ایک اہم وزیر ان کے علاوہ کئی اہم شخصیتیں اس شاندار رسم حلف برداری تقریب کا حصہ بنے۔ کئی ہزار وی آئی پی اور سینکڑوں وی وی آئی پی کے علاوہ تقریب میں 25ہزار سے زائد ترنمول کانگریس کے کارکنان و حامی بھی موجود تھے۔ مغربی بنگال کی تاریخ کی سب سے زیادہ بڑے بجٹ والی اس تاج پوشی کی رسم کا انعقاد کرنے پر اب تک کسی نے بھی ممتا بنرجی پر نہ تو فضول خرچی کا الزام لگایا اور نہ ہی دکھاوے کا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر کیوں کسی نے بھی زبان کھولنے کی جرأت نہیں کی؟ جو میڈیا اور مخالف پارٹیاں کسی بھی سیاسی شخصیت کے جھوٹے دکھاوے کو بھی تل کا پہاڑ بنانے دیتی ہیں۔ یہ سب آخر دیدی کے معاملہ میں خاموشی کی چادر کیوں اوڑھے ہوئے ہیں؟ اس کی دو وجوہات ہوسکتی ہیں۔ ایک تو ممتا بنرجی نے اس مرتبہ جس انداز میں شاندار جیت درج کی ہے ایسی کامیابی کا گمان دیگر سیاسی پارٹیاں خوابوں خیالوں میں ھی نہیں کرسکتی تھی۔

ساتھ ہی انہوں نے ملک کی دو بڑی سیاسی پارٹیوں کو چاروں خانے چت کیا۔ بنگال میں مرکز کے اقتدار پر قابض نریندر مودی اور ان کے ہمنواء بھی بنگال کی دیدی کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوگئے، وہاں نہ ہی مودی جی کا جادو چلا اور نہ ہی ان کی کوئی جھوٹی امیدیں انہیں جیت دلاسکی۔ کانگریس بھی بی جے پی کی طرح نہ متاثر کن مظاہرہ کرپائی اور نہ ہی دیدی کو ٹکر دے پائی۔ حالانکہ تمام میڈیا گھرانے انتخابات کے نتائج سے قبل یہ دعوے کررہے تھے کہ بھلے ہی اس مررتبہ ترنمول کانگریس تاریخ رقم نہ کرسکے۔ اس درمیان کچھ عرصہ ایسا بھی آیا کہ کچھ اخبارات اور دیگر میڈیا ذرائع نے یہ بتایا کہ ممتا بنرجی کو اس مرتبہ کڑی ٹکر کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔لیکن ایسے اندازے دیر تک نہیں رہ پائے۔ ایکزٹ پول کے بعد تو سبھی ایک ہی سُر میں یہ کہتے ہوئے نہیں تھک رہے تھے کہ ممتا دوبارہ اقتدار میں لوٹنے والی ہیں۔ یہ سب باتیں بیان کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ممتا بنرجی کی مسلسل دوسری جیت ایک تاریخی کامیابی ہونے کے باوجود تعجب کرنے والی بات نہیں، وہ اس لئے کہ بنگال کی عوام نے دیدی کے کام کاج کو خوب سراہا ہے اور انہیں ایک اور مرتبہ موقع دینے کا من بنالیا تھا۔ سال 2011ء میں 294 اسمبلی نشستوں والی مغربی بنگال ریاست میں ترنمول کانگریس کو 184 نشستیں حاصل ہوئی تھیں وہیں اس مرتبہ ترنمول کانگریس نے 211نشستوں پر قبضہ کرتے ہوئے سب کو حیرت میں ڈال دیا۔ لیکن مانا یہ جارہا تھا کہ ساڑھے تین دہوں تک بنگال پر حکومت کرنے والی بائیں بازو جماعت کو عوام پھر ایک مرتبہ موقع دے گی مگر نتائج جب سامنے آئے تو بائیں بازو جماعت کے حوصلے پست ہوگئے اور انہیں سال2011 کی کراری شکست یاد آگئی جب انہیں 60نشستیں ہاتھ لگی تھیں۔ اس مرتبہ ان کی حالت اور مزید پتلی ہوگئی، 60سے گھٹ کر یہ تعداد 33ہوکر رہ گئی ہے۔کہنے کا مطلب یہ ہے کہ نتائج سامنے آنے کے بعد یہ واضح ہوگیا کہ بنگال کی عوام نے صرف دیدی کو کامیابی نہیں دلائی بلکہ بھاری اکثریت کے ساتھ انہیں ریاست کی اقتدار کی باگ دوڑ سونپی اور بنگال جوکہ کمیونسٹ پارٹی کا مضبوط قلعہ مانا جاتا تھا وہیں پر اسے اُلٹے منہ گرادیا۔
ممتا بنرجی کو ایک چھوٹی اور تنہا ریاست کی وزیر اعلیٰ ہونے کے باوجود انہیں قومی سطح پر ایک قدآور لیڈر کی حیثیت سے پہچان مل رہی ہے۔

وہ اس لئے کہ حالیہ انتخابات میں بی جے پی اور کانگریس کو شکست دیتے ہوئے ایک مضبوط دعویدار کے طور پر اُبھررہی ہیں یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے کہ ان کی حلف برداری کی تقریب کے ایک ہفتے بعد بھی انہیں مبارکباد دینے کیلئے لوگ قطاروں میں نظر آئے۔ ان سب باتوں کو دیکھتے ہوئے یہ سوال اٹھنا لازمی ہے کہ کیا ممتا کا بڑھتا سیاسی قد قومی سطح کی سیاست پر بھی اثر انداز ہوگا؟ فی الحال تو 2019 میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات کیلئے مودی کے مقابل بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کو بڑا دعویدار مانا جارہا ہے اور نتیش کمار نے اس حساب سے اپنی تیاری بھی شروع کردی ہے، وہ ایسا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے جس سے وہ نریندر مودی یا بی جے پی کو نشانہ بناتے ہوئے انہیں سوالات کے گھیرے میں اُتارسکیں۔ لیکن ممتا بنرجی بھی اس معاملہ میں نتیش کمار سے کچھ کم دکھائی نہیں دیتیں۔ جس شاندار انداز سے انہوں نے مغربی بنگال میں بی جے پی، کانگریس اور بائیں بازو کو شکست دی ہے اسے فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ ممکن ہے ممتا اس بنیاد پر سال 2019میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں تیسرے مورچہ کی قیادت کی خواہش ظاہر کریں۔ فی الحال تو تیسرے مورچہ کی تصویر کچھ صاف نظر نہیں آتی ہے، ہوسکتا ہے کہ سال 2018 تک کچھ نقشہ تیار ہوجائے۔

TOPPOPULARRECENT