Wednesday , September 20 2017
Home / شہر کی خبریں / ممنور ایرپورٹ ورنگل کا عنقریب احیاء ، اندرون ملک پروازیں

ممنور ایرپورٹ ورنگل کا عنقریب احیاء ، اندرون ملک پروازیں

رکن پارلیمنٹ اجمیرا سیتارام نائک کی مساعی ، کے ٹی آر کی تائید ، مرکزی وزارت شہری ہوا بازی کا تیقن
حیدرآباد۔18اگسٹ (سیاست نیوز) ممنور ایر پورٹ ورنگل کا احیاء عمل میں آئے گا اور اس ائیر پورٹ کے ذریعہ اندرون ملک پروازوں کی شروعات کو ممکن بنانے کے اقدامات کئے جائیں گے! رکن پارلیمنٹ ورنگل مسٹر اجمیرا سیتا رام نائک نظام دور حکومت کے اس وسیع و عریض ائیر پورٹ کے احیاء کے لئے کوششیں کررہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ان کے حلقہ میں موجود اس وسیع و عریض ائیر پورٹ پر فضائی خدمات کا دوبارہ آغا ز کیا جائے ۔ممنور ائیر پورٹ ایک تاریخی اہمیت کا حامل ائیر پورٹ رہا ہے جس کا استعمال ہند ۔ چین جنگ کے دوران کیا گیا تھا جبکہ دہلی ائیر پورٹ کو نشانہ بنایا جا چکا تھا۔ ورنگل میں موجود اس غیر کارکرد ائیر پورٹ کے متعلق کہا جاتا ہے کہ آزادی سے قبل کے ہوائی اڈوں میں ممنور ائیر پورٹ سب سے بڑا ائیر پورٹ ہوا کرتا تھا جس کا رقبہ 1875ایکڑ پر محیط ہے اور 1930میں قائم کئے گئے اس ائیر پورٹ 6.6کیلومیٹر طویل رن وے موجود ہے۔ سلطنت آصفیہ کے آخری حکمراں نواب میر عثمان علی خان کے دورحکومت میں تعمیر کئے گئے اس ائیر پور ٹ پر طویل عرصہ تک خدمات انجام دی جاتی رہیں لیکن اس ائیر پورٹ پر 1987میں ایک آخری پرواز اتاری گئی تھی جو کہ 20نشستی طیارہ تھا لیکن اس کے بعد سے یہ ائیر پورٹ مکمل غیر کارکرد ہے لیکن متحدہ ریاست آندھرا پردیش میں حکومت نے مرکزی وزارت شہری ہوابازی سے معاہدہ کرتے ہوئے اس ائیر پورٹ کے احیاء کی کوششوں کا آغاز کیا تھا لیکن اس کے بعد یہ مسئلہ نظر انداز ہوگیا لیکن اب مسٹر اجمیرا سیتا رام نائک کا کہنا ہے کہ ریاست تلنگانہ میں حیدرآباد کے بعد ورنگل کو کافی اہمیت حاصل ہے اور ورنگل میں ائیرپورٹ کی شدید ضرورت محسوس کی جانے لگی ہے ۔1930میں اس ائیر پورٹ کے آغاز کے وقت یہ ائیر پورٹ اعظم جاہی ملس اور ورنگل میں موجود دیگر صنعتی اداروں کے لئے کا فی اہمیت کا حامل ہوا کرتا تھا اور اب تو ورنگل اور اطراف کے علاقوں میں کئی صنعتی مراکز کے علاوہ سیاحتی مراکز کو حکومت کی جانب سے زبردست فروغ دیا جانے لگا ہے جس کے سبب عوام کی آمد و رفت میں کافی اضافہ ہوا ہے اسی لئے ریاستی حکومت کے توسط سے مرکزی حکومت کو اس بات کیلئے راضی کروانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ ممنور ائیر پورٹ کو اندرون ملک چلائی جانے والی کمرشیل پروازوں کیلئے شرو ع کیا جائے۔ وزارت شہری ہوابازی اور جی ایم آر گروپ کے درمیان کئے گئے معاہدہ کے مطابق شہر حیدرآباد کے نواحی علاقہ میں تعمیر کئے گئے شمس آباد انٹرنیشنل ائیر پورٹ کے اطراف 150 کیلو میٹر کے حدود میں کسی نئے ائیر پورٹ کی تعمیر یا آغاز کو 2029 تک منظوری نہیں دی جائے گی تاکہ شمس آباد انٹرنیشنل ائیر پورٹ کے ذریعہ سفر کرنے والے مسافرین کی تعداد پر کوئی اثر نہ پڑے اسی لئے حکومت کی جانب سے بیگم پیٹ ائیر پورٹ کے احیاء کے متعلق بھی کوئی لب کشائی نہیں کی جا رہی ہے لیکن مسٹر اجمیرا سیتا رام نائک ورنگل کے ممنور ائیر پورٹ کے احیاء کے متعلق سنجیدہ کوششیں کرنے لگے ہیں اور ان کی ان کوششوںکو ریاستی حکومت بالخصوص مسٹر کے ٹی راما راؤ ریاستی وزیر بلدی نظم و نسق و انفارمیشن ٹکنالوجی کی مکمل تائید حاصل ہونے لگی ہے ۔ باوثوق ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے مطابق حکومت نے موجودہ ائیر پورٹ کی اراضی کے اطراف مزید 400تا600ایکڑ اراضی قانون حصول اراضی کے تحت حاصل کرتے ہوئے مرکزی وزارت شہری ہوابازی کے حوالہ کرتے ہوئے ممنور ائیرپورٹ کے احیاء کیلئے اقدامات کا بھی تیقن دیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT