Thursday , April 27 2017
Home / ہندوستان / ممنوعہ کرنسی نوٹ کا کمال۔ کولکتہ کا بازارِ حُسن خوشحال

ممنوعہ کرنسی نوٹ کا کمال۔ کولکتہ کا بازارِ حُسن خوشحال

کولکتہ۔/11نومبر، ( سیاست ڈاٹ کام ) اعلیٰ قدر کے کرنسی نوٹس کے چلن پر پابندی سے شہر کولکتہ میں چھوٹے تاجرین کا کاروبار متاثر ہوگیا لیکن جنوبی ایشیاء کے سب سے بڑے ریڈ لائیٹ ایریا ( بازار حُسن)سوناگا چھی میں کاروبار اچانک بڑھ گیا ہے کیونکہ یہاں کی سیکس ورکرس ممنوعہ کرنسی قبول کرنے پر آمادہ ہوگئی ہیں۔ بنگال میں 1.3لاکھ سیکس ورکرس کی تنظیم مہیلا سمنویہ کمیٹی لیڈر بھارتی نے بتایا کہ ہمارے ارکان سے کہا گیا ہے کہ 500 اور 1000 روپئے کے نوٹ قبول کرلیں اور گاہکوں سے یہ بھی کہا جارہا ہے کہ ایک ہفتہ کے بعد یہ نوٹ قابول قبول نہیں ہوں گے جس کے باعث گاہکوں کا ہجوم اُمڈ آرہا ہے اگرچیکہ سرفہرست زمرہ کے سیکس ورکرس کیلئے کوئی مسئلہ درپیش نہیں لیکن 300 تا400 روپئے لینے والے ورکرس کیلئے مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بازار حُسن میں جن ورکرس کی قیمت 500 روپئے سے کم ہیں وہ گذشتہ دو یوم سے گاہکوں سے محروم ہیں جبکہ کسٹمرس کا پہلا سوال یہ ہوتا ہے کہ 500اور 1000 روپئے کے نوٹ قبول کئے جارہے ہیں یا نہیں؟ اگر ہمارے نہ کہنے پر گاہک سے محروم ہوجانا پڑتا ہے لہذا ہم یہ نوٹس قبول کرلیت ہیں کیونکہ اوشا بینک نے ہمیں تیقن دیا ہے کہ ان کی رقومات ضائع نہیں ہوں گی۔ جبکہ یہ بینک جسم فروشی کے کاروبار سے وابستہ خواتین کی امداد کیلئے ایک سابق سیکس ورکر نے سال 2001 میں قائم کیا ہے اور گذشتہ 2 یوم میں سونا گاچھی اور قرب و جوار کے سیکس ورکرس نے 55 لاکھ روپئے ڈپازٹ کروائے ہیں۔ کرنسی نوٹ پر پابندی سے قبل سیکس ورکرس اپنی رقومات گھروں میں رکھتی تھیں لیکن کاروبار میں اچانک اضافہ اور نوٹوں کے تبادلہ کیلئے یہ رقومات بینک میں محفوظ کروادی گئی ہیں۔ عموماً اس بینک میں یومیہ 5 لاکھ روپئے کا کاروبار بھی نہیں ہوتا لیکن گذشتہ دو یوم سے ڈپازٹس میں حیرت انگیز اضافہ ہوگیا ہے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT