Friday , September 22 2017
Home / مذہبی صفحہ / ممنوع اوقات میں سجدۂ تلاوت کرنا

ممنوع اوقات میں سجدۂ تلاوت کرنا

سوال :  کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میںکہ طلوع آفتاب ، زوال آفتاب، غروب آفتاب کے وقت نماز پڑھنا صحیح نہیں ہے۔ اگر ان اوقات میں قرآن مجید کی تلاوت کے دوران آیت سجدہ کی تلاوت کی جائے تو کیا سجدۂ تلاوت ادا کیا جاسکتا ہے یا نہیں ۔ ؟  بینوا تؤجروا
جواب :  شریعت اسلامیہ میں ان تینوں ممنوعہ اوقات میں فرض و نفل نماز کا ادا کرنا مکروہ ہے ۔ تاتار خانیہ ج اول ص ۷۰۴  میں ہے: الاوقات التی یکرہ فیھا الصلوۃ خمسۃ، ثلاثۃ یکرہ فیھا التطوع و الفرض و ذلک عند طلوع الشمس و وقت الزوال وعند غروب الشمس، إ لا عصر یومہ فانھا لا یکرہ عند غروب الشمس۔
پس صورت مسئول عنہا میں مذکورہ اوقات ممنوعہ میں تلاوت قرآن مکروہ نہیں، اگر ممنوعہ وقت میں تلاوت کرتے ہوئے آیت سجدہ کی تلاوت کیجائے تو سجدۂ تلاوت کرنا بغیر کسی کراہت کے جائز ہے، اگر آیت سجدہ کی تلاوت ان اوقات کے علاوہ میں ہو اور تلاوت کرنے والا، واجب شدہ سجدۂ تلاوت ان اوقات میں کرنا چاہے تو شرعاً درست نہیں ۔ عالمگیری ج اول ص ۵۳۱ باب سجود التلاوۃ میں ہے :  ولو تلاھا فی وقت مباح فسجدھا فی أوقات مکروھۃ لم تجز ولو تلاھا فی اوقات مکروھۃ فسجدھا فی ھذہ الاوقات جاز۔
ڈرامہ (ناٹک) کی کمائی مسجد میں صرف کرنا
سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کچھ عرصہ تک ڈرامہ {ناٹک} کے کاروبار کرتا تھا، اس پیشہ سے کافی آمدنی رہی۔ اپنی ضروریات پر خرچ کرنے کے علاوہ رقم پس انداز بھی کیا۔ اب زید اس کاروبار کو چھوڑ دیا اور تائب ہوکر حج و زیارت سے فارغ ہوچکا ہے۔ اس پس انداز کردہ رقم کے منجملہ کچھ تعمیر مسجد اور مدرسہ دینیہ میں خرچ کرنا چاہتا ہے۔
ایسی صورت میں شرعاً کیا حکم ہے  ؟ بینوا تؤجروا
جواب :  مال خبیث و غیر طیب جوکہ ناجائز طریقوں سے حاصل کیا گیا اوسکو مسجد میں صرف کرنا شرعاً مکروہ تحریمی و ناجائز ہے ردالمحتار جلد اول صفحہ ۴۶۲ میں ہے:  قال تاج الشریعۃ اما لو انفق فی ذلک مالا خبیثا و مالا سببہ الخبیث والطیب فیکرہ لان اﷲ تعالٰی لا یقبل الا الطیب فیکرہ تلویث بیتہ بمالا یقبلہ۔ نیز جو کام بغرض تقرب الٰہی ثواب کی نیت سے کئے جاتے ہیں اس میں حرام مال صرف کرنیوالا گنہگار بلکہ کافر ہے، اسی لئے حرام مال سے خیرات وغیرہ ناجائز ہے۔ درمختار برحاشیہ رد المحتار جلد دوم صفحہ ۲۷ میں ہے:  وفی شرح الوھبانیۃ عن البزازیۃ انما یکفر اذا تصدق بالحرام القطعی۔ اسی کتاب میں ہے:  رجل دفع الی فقیر من المال الحرام شیئاً یرجو بہ الثواب یکفر۔
پس صورت مسئول عنہا میں زید کو چاہئے کہ وہ اپنی پس انداز رقم کسی شخص کو بلا نیت ثواب دیدے اوروہ شخص اپنی طرف سے مسجد و مدرسہ کو عطیہ دے تو اس کا استعمال مسجد و مدرسہ دینیہ میں درست ہوگا۔ یا پھر زید کچھ رقم کسی سے قرض لے کر مسجد و مدرسہ کوعطیہ دیدے اور اس قرض کی ادائی اپنے پس انداز روپئے سے کردے۔ عالمگیری جلد پنجم کتاب الکراھیۃ میں ہے:  آکل الربا وکاسب الحرام اھدی الیہ أو اضافہ وغالب مالہ حرام لایقبل ولا یأکل مالم یخبرہ ان ذلک المال اصلہ حلال ورثہ أو استقرضہ وان کان غالب مالہ حلال لابأس بقبول ھدیتہ والاکل منھا کذا فی الملتقط۔
فقط واﷲ تعالیٰ اعلم بالصواب

TOPPOPULARRECENT