Tuesday , September 26 2017
Home / Top Stories / مناسک حج کا آئندہ پیر سے آغاز ، حادثہ کے باوجو دمعمول کی عبادات جاری

مناسک حج کا آئندہ پیر سے آغاز ، حادثہ کے باوجو دمعمول کی عبادات جاری

کرین حادثہ کی وجوہات کا پتہ چلانے شاہ سلمان کا عہد ، جاں بحق عازمین کے خاندانوں سے اظہار تعزیت ، زخمیوں کی عیادت

مکہ معظمہ۔13 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام)  سعودی عرب کے شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود نے حج بیت اللہ کے سالانہ مناسک سے قبل حرم مکہ میں پیش آئے کرین حادثہ کی وجوہات کا پتہ چلانا کا عہد کیا ہے ۔ اس المناک حادثہ میں بشمول دو ہندوستانی خواتین 107 عازمین جاں بحق اور دیگر 200 زخمی ہوگئے تھے ۔ حج جو اسلام کا ایک اہم رکن ہے گزشتہ سال اقطاع عالم کے دو لاکھ مسلمانوں نے یہ فریضہ ادا کیا تھا اور جمعہ کو پیش آئے اس حادثہ کے باوجود رواں سال بھی اس مقام پر مناسک ادا کئے جائیں گے ۔ سعودی حکام نے کہا ہے کہ اس واقعہ کے دوسرے دن سے ہزاروں عازمین اس مقدس مقام پر دوبارہ پہونچ گئے ہیں اور معمول کے مطابق عبادات میں مصروف ہیں ۔ مکہ معظمہ میں جمعہ کو ریت کے طوفان اور موسلادھار بارش کے سبب سرخ و سفید کرین گرپڑا تھا ۔ اس سے قبل ہی اقطاع عالم سے لاکھ  مسلم مرد و خواتین فریضہ حج ادا کرنے کیلئے ارض مقدس پہونچ چکے تھے ۔ دین اسلام کے مقدس ترین مقامات میں شامل اس مقام کا معائنہ کرنے کے بعد شاہ سلمان نے کہاکہ ہم تمام وجوہات کا پتہ چلانے کیلئے تحقیقات کریں گے جس کے بعد شہریوں کو تفصیلات سے واقف کروایا جائے گا ۔ کرین کے ملبہ کی صفائی کے لئے گزشتہ روز مطاف کے علاقہ کی حد بندی کردی گئی تھی ۔ اس حادثہ کا عازمین پر کوئی اثر نہیں ہوا اور وہ معمول کی سرگرمیوں عبادات اور دعاؤں میں مصروف رہے ۔ چند عازمین کو آہنی دھات کے منہدم ملبہ کی تصاویر لیتے دیکھا گیا ۔ ایک مصری عازم محمد ابراہیم نے اے ایف پی سے کہا کہ میری خواہش تھی کہ میں بھی اس سانحہ میں جاں بحق ہوجاتا ۔ کیونکہ ایک مبارک و مقدس گھڑی میں یہ واقعہ پیش آیا تھا ‘‘ مراقش کی ام سلمہ نے کہا کہ ’’ہمارے فون کی گھنٹیاں گزشتہ روز سے مسلسل بج رہی ہیں اور ہمارے رشتہ دار خیریت دریافت کررہے ہیں ‘‘ کرین حادثہ میں جاں بحق ہونے والوں میں ہندوستان اور انڈونیشیا کے بھی شہری شامل ہیں ۔ زخمیوں میں ملائیشیا ، ایران ، مصر ، ترکی ، افغانستان و پاکستان کے کئی شہری شامل ہیں ۔ شاہ سلمان نے متوفیوں کے غمزدہ خاندانوں سے تعزیت کا اظہار کیا ہے ۔ انہوں نے مقامی ہاسپٹل پہونچکر زخمیوں کی صحت کے بارے میں دریافت کیا ۔ اس دوران ایک سعودی عہدیدار نے کہا کہ اس المیہ کے باوجود مناسک حج بیت اللہ کا /21 ستمبر سے آغاز ہوگا ۔ اس عہدیدار نے اپنا نام بتانے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ’’ اس المیہ کے باوجود حج کے مناسک قطعاً متاثر نہیں ہوں گے ۔ متاثرہ علاقہ آئندہ چند دن میں بحال کرلیا جائے گا ‘‘ حج ، تمام صحتمند اور اہل استطاعت مسلمانوں کیلئے فرض ہے ۔ واضح رہے کہ دنیا کی تیسری بلند عمارت مکہ رائیل کلاک ٹاور کے قریب توسیعی کام کے دوران یہ آسمان چھونے والی بلند کرین کے انہدام کے سبب یہ حادثہ پیش آیا تھا ۔

TOPPOPULARRECENT