Monday , September 25 2017
Home / Top Stories / مناسک حج کے دوران حرمین شریفین میں تین مرحلوں کے سکیورٹی انتظامات

مناسک حج کے دوران حرمین شریفین میں تین مرحلوں کے سکیورٹی انتظامات

فضائی سلامتی کو یقینی بنانے مقدس مقامات پر خصوصی طیاروں کی پروازیں، زمینی صورتحال پر نظر

جدہ۔ 16 اگست (سیاست ڈاٹ کام)سعودی عرب کی “جنرل سکیورٹی ایوی ایشن کمانڈ” بھی سکیورٹی سسٹم کے ضمن میں حجاج کرام کی خدمت میں شریک رہتی ہے۔ سکیورٹی ایوی ایشن نہ صرف خود سکیورٹی کی صورت حال پر کڑی نظر رکھتی ہے بلکہ تمام سکیورٹی اداروں اور مختلف سرکاری سیکٹروں کو بھی معاونت فراہم کرتی ہے۔ ایام حج سیزن کے دوران سکیورٹی ایوی ایشن کے منصوبے پر تین مراحل میں عمل درامد ہوتا ہے ۔20 ذوالقعدہ سے شروع ہونے والے پہلے مرحلے میں طیارے اپنے اڈوں سے حرکت میں آ کر مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے ریجنوں میں تعینات کیے جاتے ہیں۔ اس کے بعد طیارے فضا میں گشت کرتے ہیں تا کہ مقامات مقدسہ یعنی منٰی ، مزدلفہ ، عرفات ، حرمین شریفین کے مرکزی علاقوں اور ان کو ملانے والے راستوں پر تعمیراتی منصوبوں کی پیش رفت کی جان کاری حاصل کی جا سکے۔دوسرے مرحلے پر عمل درامد کا آغاز ذوالحجہ کی ابتدا سے ہوتا ہے۔ اس دوران پروازوں میں مکہ مکرمہ کے مرکزی داخلی راستوں ، مکہ کو جدہ اور مدینہ منورہ سے ملانے والے ہائی ویز پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔ علاوہ ازیں سکیورٹی کی صورت حال ، ٹریفک کی آمد و رفت اور حجاج کرام کی نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھی جاتی ہے۔

8 ذوالحجہ یعنی یومِ ترویہ کی صبح تمام افرادی قوت ، تکنیکی امور اور آپریشن میں شریک طیاروں کے ہر دم تیار رہنے کی سطح کو بڑھا دیا جاتا ہے۔ جہاں فضائی گشتوں کا سلسلے میں اضافہ ہو جاتا ہے اور حجاج کرام کی منٰی منتقلی پر خاص نظر رکھی جاتی ہے۔10 ذوالحجہ کی صبح منی میں گشت کو بڑھا دیا جاتا ہے تا کہ رمی جمرات کے عمل کے دوران نگرانی کی جا سکے۔ اس کے علاوہ مکہ مکرمہ کا رخ کرنے والے ٹریفک پر بھی نظر رکھی جاتی ہے جہاں حجاج طوافِ زیارت کیلئے جا رہے ہوتے ہیں۔ فضائی گشتوں کا یہ سلسلہ 13 ذوالحجہ تک جاری رہتا ہے۔تیسرے مرحلے کا آغاز 13 تاریخ کے اختتام پر ہوتا ہے جہاں حجاج کرام کی مدینہ منورہ منتقلی کے دوران سکیورٹی ایوی ایشن کے طیارے ان کے ہمراہ رہتے ہیں۔ تمام حجاج کرام کی مدینہ منورہ روانگی تک یہ سلسلہ ذوالحجہ کے اختتام تک جاری رہتا ہے۔ اس کے علاوہ پورے حج سیزن کے دوران مقامات مقدسہ میں طبی نوعیت کے انخلا کیلئے بھی طیارے تیار رہتے ہیں۔ ان طیاروں میں جدید ترین طبی ساز و سامان ، آلات اور اعلیٰ اہلیت کے حامل ڈاکٹروں پر مشتمل ٹیم موجود ہوتی ہے۔ اس کا مقصد کسی بھی مریض کو ہنگامی حالت میں فضائی راستے ہسپتال تک منتقل کرنا ہوتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT