Saturday , August 19 2017
Home / اداریہ / منتخبہ حکومتیںبھی محفوظ نہیں

منتخبہ حکومتیںبھی محفوظ نہیں

منتخبہ حکومتیںبھی محفوظ نہیں
اکثر کہا جاتا ہے کہ سیاسی جماعتیں اقتدار حاصل کرنے کیلئے کچھ بھی کرنے سے گریز نہیں کرتیں۔ کسی بھی حد تک چلی جاتی ہیں اور اقتدار ہتھیا لیتی ہیں ۔ اگر انتخابات ہوتے ہیں تو عوام کے ووٹ حاصل کرنے کیلئے جمہوریت کے نام پر تمام غیر جمہوری طریقے اختیار کئے جاتے ہیںاور عوامی رائے کو الٹ پھیر کرنے سے بھی گریز نہیں کیا جاتا ۔ ہر جماعت دوسری جماعت کو اور ہر حکومت دوسری حکومت کو غلط اور خود کو صحیح قرار دینے کی کوئی نہ کوئی گنجائش ضرور نکال لیتی ہے ۔ ہندوستان میں نریندر مودی کی قیادت میں این ڈی اے حکومت کے قیام کے بعد سے جہاں سماج کے مختلف طبقات کو نشانہ بنانے کا عمل شروع ہوا تھا وہیں اب ملک میں منتخبہ حکومتوں اور منتخبہ نمائندوں کو نشانہ بنانے کا عمل بھی شروع ہوچکا ہے ۔ پہلے تو تلنگانہ اور آندھرا پردیش میں اپوزیشن جماعتوں کے ارکان اسمبلی کو لالچ دے کر یا دوسرے طریقوں سے خریدنے کا سلسلہ شروع ہوا اور اپوزیشن کے وجود کو ہی مٹانے کی کوششیں شروع ہوگئی تھیں۔ اب خود مرکز میں برسر اقتدار پارٹی نے اپوزیشن کے اقتدار والی ریاستوں میں عوام کی منتخبہ حکومتوں کو نشانہ بنانے اور انہیں عدم استحکام و زوال کا شکار کرنے کا سلسلہ شروع کیا ہے ۔ چند دن قبل اروناچل پردیش میں کانگریس حکومت کو نشانہ بنایا گیا اور وہاں کانگریس کے ارکان اسمبلی کو لالچ دے کر یا کسی اور طریقے سے انحراف کی حوصلہ افزائی کی گئی اور عوام کی جانب سے مسترد کردئے جانے کے بعد پچھلے دروازے سے بی جے پی نے حکومت حاصل کرلی ۔ اب اترکھنڈ میںیہی طریقہ اختیار کیا جا رہا ہے ۔ یہاں بھی کانگریس کے ناراض و باغی ارکان اسمبلی کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے عوام کے ووٹ سے منتخب ہوئی حکومت کو عدم استحکام کا شکار کیا جا رہا ہے ۔ کانگریس کے باغی اور نارا ض ارکان اسمبلی کی تائید حاصل رہنے کا ادعا کرتے ہوئے بی جے پی نے ریاست میں حکومت بنانے کا منصوبہ بھی ظاہر کردیا ہے اور یہ دعوی کیا ہے کہ ایوان میں اسے اقتدار حاصل ہے اور اسے ریاست میں حکومت بنانے کا موقع ملنا چاہئے ۔ ریاست کے عوام نے بی جے پی کو حکومت نہیں سونپی تھی ۔ بی جے پی اب ارکان اسمبلی کی انحراف کیلئے حوصلہ افزائی کرتے ہوئے اقتدار حاصل کرنا چاہتی ہے ۔
کانگریس ارکان اسمبلی کو ریاست کے چیف منسٹر ہریش راوت اور حکومت یا ان کے طریقہ کار سے اختلاف ہوسکتا ہے یا ناراضگی ہوسکتی ہے لیکن اس کا یہ مقصد نہیں ہے کہ اپوزیشن جماعتیں حکومت کو زوال کا شکار کرنے کیلئے ان کی حوصلہ افزائی کریں۔ عدم استحکام پیدا کرنا سیاسی لڑائی نہیں ہوسکتی ۔ سیاست لڑائی عوام کے درمیان اور عوام کی عدالت میںلڑی جاتی ہے ۔ جمہوریت میںعوام کو ہی حرف آخر سمجھا جاتا ہے اور سیاسی جماعتیںاس تعلق سے بلند بانگ دعوے بھی کرتی ہیں۔ ہر جماعت سیاست میںا خلاق و اقدار کے چلن کی حوصلہ افزائی کرنے کا درس دیتی ہے ۔ دوسروں کو تنقیدوں کا نشانہ بنایا جاتا ہے ۔ ہندوستانی جمہوریت کی دہائیاں دی جاتی ہیں لیکن ہر جماعت اپنے عمل سے اور اقتدار کیلئے اپنی ہوس کو پورا کرنے کیلئے اسی جمہوریت کی دھجیاں اڑائی جاتی ہیں۔ جن ارکان اسمبلی نے اترکھنڈ میں کانگریس حکومت یا چیف منسٹر سے اختلاف کیا ہے انہیں ان کی پارٹی کے منشور کی بنیاد پر عوام نے ووٹ دیا تھا ۔ عوام نے ان ارکان اسمبلی کو اپنی پارٹی سے انحراف کرنے اور دوسری جماعتوں کے ساتھ سودے بازیاں کرتے ہوئے وزارتیں حاصل کرنے یا عہدے حاصل کرنے کیلئے ووٹ نہیں دیا تھا ۔ اس کے باوجود ارکان اسمبلی انحراف کا جواز تلاش کرلیتے ہیں اور اپوزیشن جماعتیں ان کی حوصلہ افزائی کرنے کا جواز اپنے طور پر تلاش کرلیتی ہیں ۔ یہ طریقہ کار وقتی طور پر ان کی اقتدار کی ہوس کو تو پورا کرتا ہے لیکن اس سے جمہوریت اور جمہوری عمل کی جو دھجیاں اڑتی ہیں وہ سب سے زیادہ مضر ہے ۔
ملک میں کوئی بھی سیاسی جماعت اپنے منشور اور کارکردگی کی بنیاد پر عوام سے ووٹ ملنے کا یقین نہیں رکھتی ۔ ہر جماعت کو اندیشے لاحق ہیں۔ ہر جماعت جو بھی موقع مل جائے اسی کا استحصال کرنے کو تیار رہتی ہے اور یہ اب ہندوستان میں جمہوری عمل کا حصہ بنتا جا رہا ہے ۔ ملک کے جمہوریت پسند عوام کو حالات کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے اور خود سیاسی جماعتوں کو اپنے قول و فعل میں یکسانیت پیدا کرنے کی ضرورت ہے تاکہ انحراف کی سیاست سے گریز کیا جاسکے اور ملک میں جمہوری عمل کو اقتدار پسندوں کی ہوس پوری کرنے کا ذریعہ بننے سے روکا جاسکے ۔ اس حقیقت کو سب کو تسلیم کرنا چاہئے کہ عوام ایک رائے کااظہار کررہے ہیںاور سیاسی جماعتیں اس رائے کو اپنے مقصد کی تکمیل کیلئے استعمال کر رہی ہیں۔ یہ طریقہ اور روایت انتہائی غلط ہے اور اس سے جمہوری عمل کا وقار اور اس کی افادیت کو خطرہ لاحق ہے جس کیلئے سیاسی جماعتیں ذمہ دار ہیں۔

TOPPOPULARRECENT