Monday , August 21 2017
Home / ہندوستان / منسوخ نوٹوں کی تعداد ہنوز کیوں نہیں بتائی گئی

منسوخ نوٹوں کی تعداد ہنوز کیوں نہیں بتائی گئی

’’ڈیجیٹل انڈیا کی باتیں لیکن کرنسی نوٹوں کو گننا مشکل ہوگیا ‘‘
نئی دہلی ۔ 25 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) راجیہ سبھا میں اپوزیشن نے آج جاننا چاہا کہ کیوں ریزرو بینک آف انڈیا نے منسوخ شدہ 500 اور 1000 روپئے کے نوٹوں کی تعداد جو بینکنگ سسٹم میں واپس ہوچکے ہیں، ابھی تک نہیں بتائی ہے حالانکہ نوٹ بندی کے فیصلہ کو 9 ماہ گذر چکے ہیں۔ وقفہ صفر کے دوران یہ مسئلہ اٹھاتے ہوئے آنند شرما (کانگریس) نے کہا کہ 9 ماہ میں تو بچہ پیدا ہوجاتا ہے لیکن ملک کو یہ نہیں معلوم کہ کتنے پرانے اور جعلی کرنسی نوٹ واپس کئے گئے ہیں۔ حکومت نے گذشتہ سال 8 نومبر کو 500 اور 1000 روپئے کے نوٹوں کا قانونی موقف ہٹا لیا تھا تاکہ کالے دھن اور جعلی کرنسی کا پتہ چلایا جاسکے۔ آنند شرما نے کہا کہ ہم چاند اور مریخ پر جانے اور ڈیجیٹل انڈیا کی باتیں کررہے ہیں لیکن آپ رقم کی گنتی تک نہیں کرسکے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ بینکنگ سسٹم میں واپس ہونے والے پرانے کرنسی نوٹوںکی تعداد قوم کو معلوم ہونا چاہئے۔ ان کی بات کو دیگر اپوزیشن پارٹیوں کی حمایت حاصل ہوئی اور اس تائید کے ساتھ شرما نے کہا کہ آر بی آئی کیلئے میں تو کرنسی نوٹوں کی گنتی کیلئے خود کو پیش نہیں کرسکتا۔ حیران کن نوٹ بندی فیصلہ کے بعد حکومت نے مختلف زمروں کے لوگوں کیلئے مختلف وقت کی مہلت دیتے ہوئے پرانی کرنسی بینک اکاؤنٹس میں جمع کرانے کا موقع دیا تھا۔

TOPPOPULARRECENT