Friday , September 22 2017
Home / شہر کی خبریں / منشیات اور دیگر معاملات میں کانگریس کی الزام تراشی، ثبوت پیش کیا جائے

منشیات اور دیگر معاملات میں کانگریس کی الزام تراشی، ثبوت پیش کیا جائے

غیر مشروط معذرت خواہی کا مطالبہ، ٹی آر ایس حکومت کی مقبولیت سے خوفزدہ، کے ٹی آرکا شدید ردعمل
حیدرآباد۔/25جولائی، ( سیاست نیوز) وزیر انفارمیشن ٹکنالوجی کے ٹی راما راؤ نے کانگریس پارٹی پر الزام عائد کیا کہ وہ منشیات اور دیگر معاملات میں کسی ثبوت کے بغیر حکومت کے خلاف الزام تراشی کررہی ہے۔ انہوں نے کانگریس قائدین کو چیلنج کیا کہ اگر ان میں ذرا بھی شرم و حیاء ہو تو وہ غیر مشروط طور پر معذرت خواہی کریں۔ کے ٹی آر نے آج میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ڈگ وجئے سنگھ اور جئے رام رمیش جیسے کانگریس قائدین کی جانب سے حکومت پر عائد کئے گئے الزامات پر سخت تنقید کی۔ انہوں نے کانگریس کو سخت الفاظ میں نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ کانگریس پارٹی گھٹیا اور نچلی سطح کی سیاست پر اُتر آئی ہے اور جس انداز میں کانگریس پارٹی الزامات عائد کررہی ہے اس سے بوکھلاہٹ کا اندازہ ہوتا ہے۔ کے ٹی آر نے کہا کہ کانگریس قائدین کو دراصل مستقبل کا خوف ستارہا ہے اور انھیں یقین ہوچکا ہے کہ پارٹی دوبارہ برسراقتدار نہیں آئے گی۔ انہوں نے کانگریس قائدین کو مشورہ دیاکہ وہ حکومت کو بدنام کرنے کی کوششیں ترک کردیں۔ کے ٹی آر نے کہا کہ کانگریس کا دوسرا نام لوٹ، جھوٹ اور سوٹ کیس ہے اور بے قاعدگیوں میں ملوث قائدین ٹی آر ایس حکومت پر تنقیدیں کررہے ہیں۔ ڈرگس اسکام کے سلسلہ میں ڈگ وجئے سنگھ کے الزامات کا حوالہ دیتے ہوئے کے ٹی آر نے کہا کہ ڈگ وجئے سنگھ کے الزامات کے پس پردہ سیاسی مقاصد کار فرما ہیں اور کسی ثبوت کے بغیر اس طرح کی باتیں کرنا مناسب نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈگ وجئے سنگھ اگر چاہیں تو وہ الزامات کے حق میں ثبوت پیش کریں لیکن ان کے پاس کوئی ثبوت نہیں ہے۔ انہوں نے کانگریس قائدین اور بطور خاص صدر پردیش کانگریس اتم کمار ریڈی کو مشورہ دیا کہ وہ زبان قابو میں رکھیں۔ ڈگ وجئے سنگھ نے ڈرگس اسکام میں کے ٹی آر کے قریبی افراد کے ملوث ہونے کا الزام عائد کیا تھا۔ جئے رام رمیش کی جانب سے حکومت پر تنقیدوں کا حوالہ دیتے ہوئے کے ٹی آر نے کہا کہ حکومت نے امن و ضبط کی صورتحال کو پیش نظر رکھتے ہوئے محکمہ پولیس کو مستحکم کرنے کے اقدامات کئے ہیں۔ محکمہ پولیس کو عصری بنانے کیلئے کئی قدم اٹھائے گئے۔ اس سلسلہ میں 300 اِنووا گاڑیاں خریدی گئیں۔ ڈی جی ایس اینڈ ڈی ادارہ کے ذریعہ یہ گاڑیاں خریدی گئیں۔ موجودہ قیمت کے اعتبار سے ہی یہ گاڑیاں خریدی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ یو پی اے حکومت میں اسوقت کی ریاستی حکومتوں نے اسی ادارہ کے ذریعہ گاڑیاں خریدی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ اس ادارہ کو بدنام کرنے کا کام کانگریس حکومت نے کیا تھا۔ انہوں نے جئے رام رمیش سے مطالبہ کیا کہ وہ حکومت سے معذرت خواہی کریں۔ ریت کے کاروبار میں قریبی افراد کے ملوث ہونے سے متعلق اتم کمار ریڈی کے الزامات کا حوالہ دیتے ہوئے کے ٹی آر نے کہا کہ 2014 سے قبل کانگریس قائدین نے ہی ریت کا کاروبار کیا تھا۔ کانگریس دور حکومت میں ریت کی غیر قانونی منتقلی میں کانگریس قائدین ملوث رہے اور انہوں نے بھاری رقومات حاصل کی ہیں۔ 2007 سے 2014 تک حکومت کی آمدنی ریت کے ذریعہ 10 کروڑ روپئے نہیں تھی تاہم تلنگانہ حکومت آنے کے بعد 2015 میں ریت کی منتقلی سے حکومت کی آمدنی 378 کروڑ روپئے ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 8 سال تک کانگریس قائدین نے ریت کے کاروبار سے فائدہ اٹھایا اور سرکاری خزانہ کی رقم کو اپنی جیبوں میں منتقل کیا۔ تقریباً 4000 کروڑ روپئے کانگریس قائدین نے اس کاروبار سے حاصل کئے ہیں۔ ٹی آر ایس حکومت نے ریت کی غیر قانونی منتقلی کے خلاف کئی مقدمات درج کئے۔ سرسلہ ضلع میں 200 مقدمات درج کئے گئے۔ جاریہ سال ریت سے حکومت 600 کروڑ روپئے کی آمدنی کا اندازہ رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سی بی آئی مقدمات میں ملوث افراد آج بے قاعدگیوں کی بات کررہے ہیں۔ دلتوں پر ٹی آر ایس دور حکومت میں حملوں کی تردید کرتے ہوئے کے ٹی آر نے کہا کہ حکومت نے دلتوں کی بھلائی کیلئے کئی اقدامات کئے جس کا اعتراف دلتوں کو ہے۔ اس کے برخلاف کانگریس دور حکومت میں دلتوں پر مظالم ڈھائے گئے اور ان کی ترقی کو نظرانداز کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ دلتوں پر حملوں کیلئے کانگریس پارٹی اصل ذمہ دار ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کی قیادت میں ریاست ترقی کی راہ پر گامزن ہے اور خوشحال ہے۔ تلنگانہ کے بارے میں کانگریس قائدین گوبل پروپگنڈہ کررہے ہیں۔ غریبوں کی بھلائی کیلئے حکومت عہد کی پابند ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی وزیر ایم وینکیا نائیڈو کی دختر کے ادارہ سورنا بھارتی ٹرسٹ کو 2 کروڑ روپئے کے ٹیکس سے استثنیٰ کے بارے میں کانگریس قائدین جئے رام رمیش اور ڈگ وجئے سنگھ کی تنقید مضحکہ خیز ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بسوا تارکم کینسر ہاسپٹل کو 5کروڑ 70 لاکھ روپئے کے ٹیکس سے استثنیٰ دیا گیا۔ عوام کی خدمت کرنے والے اداروں کو ٹیکس سے رعایت دی جارہی ہے۔ اس بارے میں سابق مرکزی وزراء کا لاعلم رہنا باعث افسوس ہے۔

TOPPOPULARRECENT