Friday , August 18 2017
Home / شہر کی خبریں / منشیات کی تجارت کے اصل ذرائع کا پتہ چلایا جائے

منشیات کی تجارت کے اصل ذرائع کا پتہ چلایا جائے

ڈی جی پی کی ہدایت ۔ صورتحال پر غور کیلئے جامعات کے وائس چانسلروں کا علیحدہ اجلاس
حیدرآباد 7 جولائی ( این ایس ایس ) ایسا لگتا ہے کہ دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد میں ڈرگ مافیا کی سرگرمیوں کا پتہ چلائے جانے سے مختلف حکام خاص طور پر نفاذ قانون کی ایجنسیوں اور خانگی تعلیمی اداروں کی آنکھیں کھل رہی ہیں کہ وہ صورتحال کی سنگینی کا جائزہ لے سکیں اور ترجیحی بنیادوںپر اس لعنت سے نمٹ سکیں۔ تلنگانہ کے ڈائرکٹر جنرل پولیس انوراگ شرما نے آج تمام پولیس کمشنروں اور سینئر عہدیداروں بشمول اکسائز و انٹلی جنس ونگ کے حکام کا آج ایک اجلاس طلب کیا تاکہ صورتحال کا جائزہ لیا جاسکے ۔ یہ اجلاس اس پس منظر میں منعقد کیا گیا کہ طلبا کے والدین نے تشویش کا اظہار کیا ہے کیونکہ ڈرگ مافیا کی جانب سے مبینہ طور پر گاہکوں کی تلاش کیلئے تعلیمی اداروں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔ عہدیداروں سے خطاب کرتے ہوئے ڈائرکٹر جنرل پولیس نے پولیس کمشنران کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے حدود میں خصوصی سیلس تشکیل دیں اور منشیات کا کاروبار کرنے والوں کے ساتھ سختی سے نمٹیں۔ اس سلسلہ میں انہوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ جن اسکولس کے حدود میں اسکولس اور کالجس آتے ہیں وہ ان اداروں کے آس پاس میں مشتبہ سرگرمیوں پر نظر رکھیں۔ معمولی دوکانداروں اور ٹھیکہ بنڈی والوں پر بھی نظر رکھی جائے جو تعلیمی اداروں کے قریب سرگرم رہتے ہیں۔ انوراگ شرما نے اس ضرورت پر بھی زور دیا کہ پولیس اسٹیشنوں کو چاہئے کہ وہ مقامی انٹلی جنس عہدیداروں کی بھی خدمات حاصل کریں تاکہ مشتبہ چال چلن والوں کے تعلق سے اطلاعات لے سکیں جو ہوسکتا ہے کہ ڈرگ مافیا کے ڈیلرس کے طور پر کام کر رہے ہوں۔ انہوںن ے یہ واضح کردیا کہ ان ذرائع کا پتہ چلایا جائے جن سے ڈرگ کاروباریوں کو یہ منشیات حاصل ہو رہی ہیں۔ اس کیلئے یہ ضروری ہے کہ پبس اور حقہ پارلرس پر نظر رکھی جائے جہاں نوجوان اور طلبا بشمول آئی ٹی ماہرین اکثر و بیشتر آتے جاتے رہتے ہوں۔ اس دوران ان اطلاعات پر کہ کالج طلبا خاص طور پر انجینئرنگ کے طلبا منشیات تاجروں کے مستقل گاہک ہیں تلنگانہ کی تمام یونیورسٹیز کے وائس چانسلرس نے بھی کونسل برائے اعلی تعلیم کے تحت ایک اجلاس منعقد کیا تاکہ تعلیمی اداروں میں منشیات کی لعنت پر تبادلہ خیال کرسکیں۔ اس مسئلہ پر تفصیلی تبادلہ خیال کے بعد وائس چانسلروں کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ انسداد منشیات کمیٹی تشکیل دی جائیگی جو کالجس میں اس لعنت کے پھیلنے کے خلاف مختلف اقدامات پر عمل آوری کا جائزہ لیتی رہے گی ۔ صدر نشین کونسل برائے اعلی تعلیم پروفیسر پاپی ریڈی نے کہا کہ جو ترجیحی اقدامات کئے جا رہے ہیں ان میں تمام کالجس کے احاطوں میں سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب بھی شامل ہے ۔ یہ کیمرے کالجس کی عمارتوں میں حساس مقامات پر نصب کئے جائیں گے علاوہ ازیں کالجس کے انتظامیہ کو بھی ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اس لعنت کو روکنے کیلئے دوسرے درکار اقدامات بھی کریں۔ انہوں نے بچوں پر والدین کی نگرانی کی اہمیت پر بھی زور دیا ۔

TOPPOPULARRECENT