Sunday , July 23 2017
Home / شہر کی خبریں / منشیات کی خریدی کیلئے طلبا کا اپنے ہی گھروں میں سرقہ

منشیات کی خریدی کیلئے طلبا کا اپنے ہی گھروں میں سرقہ

 

سیل فونس، قیمتی الیکٹرانک اشیاء فروخت ،لڑکیاں عریاں تصاویر پوسٹ کرنے مجبور ‘ والدین کی چوکسی اور نگرانی ضروری
حیدرآباد۔ 6 جولائی (سیاست نیوز) حیدرآباد پولیس اور محکمہ آبکاری کی جانب سے شہر میں منشیات کی فروخت اور منشیات مافیا کے ہاتھوں کمسن طلباء و طالبات کے استحصال سے متعلق انکشافات کے ساتھ ہی سرپرستوں میں ہلچل پیدا ہوگئی ہے۔ مختلف شعبہ حیات سے تعلق رکھنے والی شخصیتوں سے عام آدمی بھی اس بات سے حیرت میں مبتلا ہے کہ آخر منشیات مافیا کس طرح شہر کے مشہور و معروف اسکولس اور کالجس کو نشانہ بنا رہا ہے۔ منشیات کے دلال میں زیادہ تر دولت مند اور تعلیم یافتہ خاندان سے تعلق رکھنے والے طلبا پھنس رہے ہیں۔ یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ آٹھویں اور نویں جماعت کے طلباء و طالبات جن کی عمریں 13 اور 14 سال کی ہیں، وہ بھی اس لعنت کا شکار ہورہے ہیں۔ منشیات کے حصول کیلئے 3,000 روپئے تک خرچ کئے جارہے ہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخرکار ایک یا دو، چار ڈوز خریدنے کیلئے بچوں کے پاس یہ رقم کہاں سے آرہی ہے۔ منشیات کے عادی طلبہ اپنے شوق کو پورا کرنے کیلئے سیل فونس، الیکٹرانک اشیاء، بھاری دستی گھڑیاں، برانڈیڈ عینکس وغیرہ فروخت کررہے ہیں۔ یہ بھی پتہ چلا ہے کہ بعض بچوں نے اپنے ہی گھروں سے قیمتی اشیاء کا سرقہ کرتے ہوئے منشیات خرید کر اپنا شوق پورا کیا ہے۔ شوقیہ طور پر حقہ کا استعمال کرنے والے طلبا مختلف عادتوں کا شکار ہوکر منشیات کے قریب پہنچ رہے ہیں۔ ایک مرتبہ اس کے استعمال کے بعد پھر اس کے ہی غلام بنتے جارہے ہیں۔ باوثوق ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ منشیات کی غلام کمسن و نوجوان لڑکیاں اپنے شوق کو پورا کرنے کیلئے اتنی مجبور ہوگئی ہیں کہ وہ اپنی عریاں تصاویر سوشیل میڈیا پر پوسٹ کررہی ہیں۔ منشیات مافیا کا بہت بڑا نیٹ ورک شہر میں پھیل چکا ہے اور یہ واٹس ایپ کے ذریعہ گروپ تیار کرتے ہوئے نوجوان نسل کو منشیات کا عادی بنا رہے ہیں۔ اگر ان لڑکیوں پر فوری توجہ نہیں دی گئی تو مستقبل میں منشیات کی خاطر بہ آسانی ان کا جنسی استحصال کیا جاسکتا ہے تب والدین اور سرپرستوں کے پاس سوائے ہاتھ ملنے کے کچھ باقی نہیں رہے گا ۔ اس سماجی برائی پر خاص توجہ نہیں دی گئی تو اس کو ناسور بننے میں دیر نہیں لگے گی۔ اسکولس اور کالجس کے طلبہ منشیات مافیا کا شکار ہونے کی اطلاعات عام ہوتے ہی پولیس بالخصوص اکسائیز ڈپارٹمنٹ نے جس چستی و پھرتی کا مظاہرہ کیا ہے، وہ قابل ستائش ہے۔ تہہ تک پہنچ کر تحقیقات کرتے ہوئے ان اسکولس اور کالجس کی فہرست تیار کی گئی ہے جس میں زیرتعلیم طلبہ اس سماجی برائی کا شکار ہوئے ہیں۔ یہ طلبہ کئی طرح کی دباؤ کا شکار ہیں جس میں معاشرتی دباؤ، گھر، تعلیمی اداروں میں اچھے نمبرات سے کامیابی کا دباؤ ، ٹکنالوجی کے دباؤ کا شکار ہوکر ذہنی تناؤ میں مبتلا ہورہے ہیں اور اپنے تناؤ کو دور کرنے کیلئے اس لعنت کا شکار ہورہے ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ قانون انسداد منشیات کی دفعہ 22 کے تحت یہ ایک بہت بڑا جرم ہے۔ اس کے باوجود پولیس اس مسئلہ کو انسانی ہمدردی سے دیکھ رہی ہے اور اسکولس و کالجس میں شعور بیدار کرتے ہوئے اس لعنت سے طلبہ کو چھٹکارہ دلانے کا منصوبہ تیار کیا ہے۔ ڈائریکٹر اکسائیز ڈپارٹمنٹ اکون سبھروال نے 14 جولائی کو شہر حیدرآباد کے 83 تعلیمی اداروں کے انتظامیہ کا ایک اجلاس طلبہ کیا ہے تاکہ طلبہ کے اس خطرناک رجحان کے بارے میں معلومات فراہم کی جاسکے۔ انہیں اسکولس کے قریب واقع دوکانات، ٹھیلہ بنڈی اور ڈبوں پر بھی نظر رکھنے کی ہدایت دی گئی۔ ساتھ ہی طلبا کے والدین اور سرپرستوں کو بھی مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ بچوں میں پیدا ہونے والی تبدیلیوں، ان کی چال ڈھال میں پائے جانے والے فرق کو محسوس کرتے ہوئے گھروں میں ان کی کونسلنگ کریں۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT