Wednesday , October 18 2017
Home / Top Stories / منصوبہ بندی کے بغیر نوٹ بندی اور جی ایس ٹی سے معیشت کمزور

منصوبہ بندی کے بغیر نوٹ بندی اور جی ایس ٹی سے معیشت کمزور

میک ان انڈیا نعرہ کھوکھلا ثابت ہورہا ہے ، مودی حکومت کشمیر مسئلہ کی یکسوئی میں ناکام ، بلٹ ٹرین پراجکٹ لاحاصل: شردپوار
ممبئی ۔ 3 اکتوبر۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) مودی حکومت میں معاشی سست روی اور بیروزگاری میں اضافہ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے این سی پی سربراہ شردپوار نے آج کہا کہ بغیر کسی تیاری کے اقدامات جیسے نوٹ بندی اور جی ایس ٹی کے نتیجہ میں یہ صورتحال پیدا ہوئی ہے ۔ انھوں نے کہاکہ ملک میں سرمایہ کاری کا ماحول سازگار نہیں ہے ، اس وقت کہیں بھی کوئی سرمایہ کاری نہیں ہورہی ہے ۔ حکومت کا ’’میک ان انڈیا‘‘ نعرہ ابتداء میں دلفریب لگ رہا تھا لیکن اب یہ ثابت ہوگیا ہے کہ یہ صرف ایک کھوکھلا نعرہ تھا ۔ انھوں نے آج ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس نعرہ کی کوئی اہمیت نظر نہیں آرہی ہے اور منفی اثرات صاف دکھائی دے رہے ہیں۔ شردپوار نے کہاکہ وزیراعظم نریندر مودی نے کسی طرح کی تیاری کے بغیر نوٹ بندی اور جی ایس ٹی کا فیصلہ کیاہے ، اس کی وجہ سے ملک کی معیشت کو شدید دھکہ پہونچا ہے ۔ انھوں نے کشمیر میں عسکریت پسندی کے واقعات پر بھی مرکز کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ حکومت نے وادی میں جو پالیسیاں اختیار کی ہیں ان میں کئی خامیاں پائی جاتی ہیں۔

انھوں نے کہاکہ حکومت کو چاہئے تھا کہ وہ مذاکرات کیلئے سازگار ماحول فراہم کرتے اور مسائل کی یکسوئی کیلئے سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ۔ انھوں نے احمدآباد تا ممبئی بلٹ ٹرین پراجکٹ پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹکنالوجی اور عصری اُمور کے معاملے میں موثر طریقہ کار اختیار کیا جانا چاہئے ۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ممبئی اور دہلی یا دہلی یا کولکتہ یا ممبئی اور چینائی کے مابین بلٹ ٹرین کی ضرورت ہے ۔ ممبئی اور احمدآباد کے مابین بلٹ ٹرین کوئی معنی نہیں رکھتی ۔ وہ نہیں جانتے کہ اس پراجکٹ سے کیا مقصد حاصل ہوگا ۔ مہاراشٹرا میں بمشکل چار اسٹیشن ہیں جہاں بلٹ ٹرین توقف کرے گی جبکہ زیادہ سے زیادہ اسٹیشن گجرات میں ہیں ، اس کے باوجود اس پراجکٹ میں مہاراشٹرا کو بھی مساوی مالی مصارف برداشت کرنے پڑ رہے ہیں ۔ این سی پی لیڈر نے کہا کہ وہ گجرات کو فوائد کے خلاف نہیں ہیں لیکن یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ اس پراجکٹ سے مہاراشٹرا کو فائدہ نہیں ہوگا ، اس کے برعکس حکومت کو ریلوے خدمات بہتر بنانے پر توجہہ دی جانی چاہئے تھی ۔ وزیر ریلوے پیوش گوئیل پر بھی تنقید کرتے ہوئے شردپوار نے کہاکہ وہ سمجھتے تھے کہ پیوش گوئیل کو ممبئی کے لوکل ٹرین کے بارے میں زیادہ معلومات ہیں۔ انھوں نے کہاکہ لال بہادر شاستری نے ٹرین حادثہ کے بعد استعفیٰ دیدیا تھا ۔ انھیں یہ توقع تھی کہ وزیر ریلوے بھی یہی قدم اُٹھائیں گے لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا ۔ پریس کانفرنس میں ایک ویڈیو کلپ بھی دکھائی گئی جس میں وزیراعظم نریندر مودی کا کہنا تھا کہ بلٹ ٹرین سے ملک کی طاقت کا مظاہرہ ہوگا ۔ مہاراشٹرا کو درپیش مسائل کا تذکرہ کرتے ہوئے شردپوار نے کہاکہ کسانوں کو قرض معافی کے لئے این سی پی احتجاج شروع کرے گی ۔ سابق چیف منسٹر نارائن رانے کے نئی پارٹی تشکیل دینے کے فیصلے پر شردپوار نے کہاکہ وہ خود اپنے بیٹے کوبھی اس پارٹی میں شامل نہیں کرسکتے ۔ اس بارے میں وہ مزید کیا تبصرہ کریں۔ شردپوار نے آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت کے کیرالا میں ایل ڈی ایف حکومت پر تنقید کے بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کیا جہاں این سی پی بھی پارٹنر ہیں۔

TOPPOPULARRECENT