Wednesday , May 24 2017
Home / Top Stories / منموہن سنگھ سے لوٹ کھسوٹ کے تبصرہ پر نریندر مودی کی مذمت

منموہن سنگھ سے لوٹ کھسوٹ کے تبصرہ پر نریندر مودی کی مذمت

وزیراعظم کی منموہن سنگھ پر تنقید عہدہ کے شایان شان نہیں : راہول، اپوزیشن پارٹیوں کی مذمت اور واک آؤٹ

نئی دہلی ۔ 8 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) راجیہ سبھا میں تحریک تشکر پر مباحث کا جواب دیتے ہوئے نریندر مودی نے آج اپنے پیشرو ڈاکٹر منموہن سنگھ کے اعلیٰ مالیتی کرنسی نوٹوں کی تنسیخ کے فیصلہ کو لوٹ کھسوٹ کے مترادف قرار دینے پر مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ان کا تبصرہ غسل خانے میں برساتی پہن کر نہانے کے مترادف ہے۔ ان کے اس تبصرہ پر کانگریس ارکان کی جانب سے برہمی کا مظاہرہ کیا گیا اور انہوں نے وزیراعظم کے جواب کے دوران اجلاس سے واک آوٹ کیا۔ بعدازاں ایوان میں تمام 651 ترمیمات کو منظوری دے دی گئی۔ بایاں بازو، ترنمول کانگریس اور جے ڈی یو کے ارکان نے وزیراعظم کے جواب کی تکمیل کے بعد واک آوٹ کرتے ہوئے کہا کہ وہ وزیراعظم کے رویہ پر ناراض ہیں اور ان سے سوالات کرنا چاہتے تھے جن کی اجازت نہیں دی گئی۔ مودی نے اپنی تقریر کا دفاع کرتے ہوئے کانگریس اور دیگر اپوزیشن پارٹیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ووٹوں کی تنسیخ کے فیصلہ کی ان کی جانب سے مخالفت ملک میں مناسب انفراسٹرکچر کی کمی کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ صرف 70 سالہ دوراقتدار کا رپورٹ کارڈ پیش کررہے ہیں۔ منموہن سنگھ پر تنقید کرتے ہوئے مودی نے کہا کہ اس ملک میں غالباً مشکل ہی سے معاشی شعبہ کا کوئی ماہر موضوع ہے جس نے ملک پر حکومت کی ہو۔ آزادی کے بعد 70 سال میں سے 30 تا 35 سال تک معاشی امور راست طور پر مالی فیصلوں کے تابع تھے۔ انہوں نے کہا کہ کئی اسکامس پیش آئے۔ بہت کچھ ہوا لیکن ان کے دامن پر کوئی داغ نہیں ہے۔ ڈاکٹر صاحب واحد شخص ہیں جو غسل خانے میں برساتی پہن کر غسل کرتے ہیں۔ کانگریس ارکان نے مودی کے اس تبصرہ پر شوروغل کرتے ہوئے اجلاس سے واک آوٹ کیا۔ انہوں نے کہاکہ ایک ایسا شخص جو ملک کے اعلیٰ ترین عہدہ پر فائز رہ چکا ہو اس نے لوٹ کھسوٹ جیسے استعمال کئے حالانکہ انہیں ایسے الفاظ استعمال کرنے سے پہلے کافی غوروخوض کرنا چاہتے تھا۔ مودی نے ایک کتاب سے اقتباسات پیش کرنے پر بھی منموہن سنگھ تنقید کی۔ ان کی تنقید پر ایوان میں شوروغل شروع ہوگیا۔ وزیراعظم کی تقریر میں خلل اندازی ہوئی۔ اس پر مودی نے کہا کہ بیشک اقتباسات پیش کئے جاسکتے ہیں بشرطیکہ یہ ضروری ہوں۔ ایک اور مرحلہ پر مودی نے ایک کتاب کا حوالہ دیا جو سابق معتمد داخلہ مادھو گوڈبولے نے تحریر کی تھی۔ آر بی آئی اور اس کے گورنر اریجیت پٹیل پر تنقید کا جواب دیتے ہوئے مودی نے کہا کہ مجھ پر اور حکومت پر تنقید کی جاسکتی ہے تاہم آر بی آئی اور اس کے گورنر کو اس میں گھسیٹنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔

انہوں نے اکھیلیش یادو حکومت پر تنقید کرتے ہوئے یو پی کے رائے دہندوں سے اپیل کی کہ وہ ’’ترقی کے بن باس‘‘ کے دور کا ایس پی ۔ کانگریس اتحاد کو ووٹ دیتے ہوئے احیاء نہ کریں۔ اپنے دورحکومت میں دہشت گردی میں کمی آنے کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اعلیٰ مالیتی کرنسی نوٹوں کی تنسیخ کے بعد تاحال 700 ماوسٹ خودسپردگی کرچکے ہیں کیونکہ ان کو مالیہ کی سربراہی بند ہوچکی تھی۔ انہوں نے کہا کہ کرنسی نوٹوں کی تنسیخ کا فیصلہ چھوٹے تاجروں کے خلاف بلکہ بڑے لوگوں کے کالے دھن کے خلاف جنگ ہے۔ اہم اپوزیشن کانگریس نے وزیراعظم پر تنقید کرتے ہوئے کہاکہ اپنے پیشرو ڈاکٹر منموہن سنگھ کے خلاف ان کا تبصرہ وزیراعظم کے عہدہ کے شایان شان نہیں ہے جبکہ نائب صدر کانگریس راہول گاندھی نے بلند شہر میں ایک انتخابی جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نریندر مودی پر سخت تنقید کی اور کہا کہ مودی کی شکل میں دیڑھ سال قبل ہندوستان پر ایک ڈونالڈ ٹرمپ مسلط ہوچکا ہے۔ نئی دہلی سے موصولہ اطلاع کے بموجب راجیہ سبھا میں تحریک تشکر پر کانگریس نے کرنسی نوٹوں کی تنسیخ کو ملک میں بیروزگاری میں اضافہ کا نقیب قرار دیا۔ سی پی آئی ایم نے وزیراعظم کے فیصلہ کو شخصیت میں انسانیت کی کمی کا نتیجہ قرار دیا۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT