Sunday , September 24 2017
Home / Top Stories / منموہن سنگھ کیخلاف وزیراعظم مودی کے ریمارکس پر پارلیمنٹ میں احتجاج

منموہن سنگھ کیخلاف وزیراعظم مودی کے ریمارکس پر پارلیمنٹ میں احتجاج

لوک سبھا میں کانگریس کا وزیراعظم سے معذرت خواہی کا مطالبہ اور واک آوٹ، راجیہ سبھا میں اپوزیشن کے احتجاج سے دو بار کارروائی ملتوی

نئی دہلی ۔ 9 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) کانگریس اور دیگر اپوزیشن پارٹیوں نے آج وزیراعظم نریندر مودی سے اپنے پیشروؤں کی توہین کرنے والے ریمارکس کیلئے معذرت خواہی کا مطالبہ کرتے ہوئے راجیہ سبھا کی کارروائی کو دو مرتبہ ملتوی کرنے پر مجبور کیا جبکہ لوک سبھا میں بھی کانگریس نے احتجاج درج کراتے ہوئے وزیراعظم سے معذرت خواہی پر زور دیا اور ایوان سے واک آوٹ کیا۔ کانگریس نے کہا کہ پارلیمانی  جمہوریت میں اس طرح کا طنز کبھی سننے میں نہیں آیا تھا۔ کانگریس ایم پی ششی تھرور نے پارلیمنٹ کے باہر کہا کہ ہمیں بہت مایوسی ہوئی جو کچھ پی ایم نے گذشتہ روز کہا۔ میں نہیں سمجھتا کہ ہندوستانی پارلیمانی جمہوریت کی  تاریخ میں ہم نے کبھی کسی پی ایم کو اپنے پیشرو منموہن سنگھ کی اس طرح گھٹیا اصطلاح استعمال کرتے ہوئے توہین کرتے ہوئے سنا ہے۔ انہوں نے مودی سے اپنے بیان کو واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ سیاست میں اختلافات ہوسکتے ہیں لیکن آپ ہمارے پارلیمانی مباحث میں اس قسم کا بیان کبھی نہیں پائیں گے۔ پی ایم کو ایسے ریمارک سے دستبردار ہوجانا چاہئے۔ انتخابی مہم میں لوگ ایک دوسرے کو تلخ باتیں کہہ دیتے ہیں لیکن ایوان میں شائستگی کو ضرور برقرار رکھنا چاہئے۔ ہمارا شدت سے احساس ہیکہ ایسی باتیں نہیں ہونا چاہئے تھا۔ راجیہ سبھا میں کانگریس ارکان کے علاوہ آل انڈیا انا ڈی ایم کے اراکین بھی ایوان کے وسط میں پہنچ گئے۔ کانگریس، سی پی آئی ایم اور جے ڈی (یو) نے گذشتہ روز تحریک تشکر برائے خطبہ صدرجمہوریہ کے دوران مودی ایک خطاب میں کئے گئے بعض ریمارکس کا مسئلہ اٹھایا اور کہا کہ وزیراعظم نے ہتک آمیز رویہ اختیار کیا اور توہین آمیز زبان استعمال کی۔ انہوں نے کہا کہ انہیں گذشتہ روز مباحث کے دوران وضاحتیں طلب کرنے کا موقع نہیں دیا گیا حالانکہ صدرنشین حامدانصاری نے ایوان کی روایت کا حوالہ دیا کہ ارکان کو وزیراعظم یا کسی وزیر کے خطاب پر جواب طلب کرنے کا حق ہے۔ برسراقتدار بنچوں کی طرف سے شدید جوابی وار کے درمیان کانگریس اور دیگر اپوزیشن پارٹی اراکین ایوان کے وسط میں پہنچ کر مودی سے معذرت خواہی کا مطالبہ کرنے والے نعرے لگائے۔ اس پر ڈپٹی چیرمین پی جے کورین نے ایوان کو دوپہر تک ملتوی کردیا۔ وزیرفینانس اور ایوان کے لیڈر ارون جیٹلی نے کہا کہ کرسی صدارت کی رولنگ کو قاعدہ 267 کے تحت نوٹس کے ذریعہ چیلنج نہیں کیا جاسکتا اور قواعد حکومت کو مباحث کا جواب دینے کا حق دیتے ہیں لیکن اس میں وضاحتی سوالات کا جواب فراہم کرنے کی گنجائش نہیں ہے۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT