Tuesday , October 17 2017
Home / ہندوستان / منگلور دہشت گردانہ معاملہ:فریقین کی بحث مکمل

منگلور دہشت گردانہ معاملہ:فریقین کی بحث مکمل

ممبئی6اپریل(سیاست ڈاٹ کام) ممنوعہ دہشت گرد تنظیم انڈین مجاہدین کے رکن ہونے اور انڈین مجاہدین نامی تنظیم کے مبینہ بانیوں بھٹکل برادران کو منگلور شہر میں پناہ دینے والے معاملے میں گرفتار 7 ملزمین کے مقدمہ کی سماعت مکمل ہوچکی ہے اور فیصلہ 10اپریل کو متوقع ہے ۔ یہ اطلاع آج یہاں ممبئی میں ملزمین کو قانونی امدا د فراہم کرنے والی تنظیم جمعیت علماء مہاراشٹر (ارشدمدنی) قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے دی۔گلزار اعظمی نے بتایا کہ ماہ اکتوبر2008میں ریاض بھٹکل اور دیگر انڈین مجاہدین تنظیم سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو پناہ دینے نیز انڈین مجاہدین تنظیم سے وابستہ ہونے کے الزامات کے تحت منگلور پولیس نے سید محمد نوشاد، احمد باوا، محمد علی، محمد رفیق ، فقیر احمد اور شبیر بھٹکل کو گرفتار کیا تھا اور ان کے خلاف مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا تھا۔منگلور کی خصوصی عدالت کے روبرو استغاثہ نے ملزمین کے خلاف گواہی دینے کے لئے 90گواہوں کو پیش کیا جس میں پولس افسران،تحقیقاتی افسران، فارینسک سائنس لیباریٹری کے اہل کار اور دیگر شامل ہیں۔جمعیت علماء نے ملزمین کے دفاع میں ایڈوکیٹ وکرم ہیگڑے ، ایڈوکیٹ شانتارام شیٹی اور ایڈوکیٹ نارائنا پجاری کو مقرر کیا تھا جنہوں نے سرکاری گواہوں سے جرح کی اور دوران حتمی بحث عدالت کو بتایا کہ کسی بھی شخص کو پناہ دینا کوئی جرم نہیں ہے ۔ملزمین کا اول دن سے یہ کہنا ہے کہ انہوں نے کسی بھی ایسے شخص کو پناہ دی ہی نہیں جس کا دہشت گردانہ کارروائیوں سے تعلق رہا ہو اور نہ ہی انڈین مجاہدین نامی تنظیم سے کبھی وابستہ تھے ۔

TOPPOPULARRECENT