Tuesday , September 19 2017
Home / اداریہ / منی پور اور اروم شرمیلا

منی پور اور اروم شرمیلا

منی پور کی خاتون کارکن اُروم شرمیلا نے اپنی 16 سالہ دنیا کی سب سے طویل بھوک ہڑتال کو ختم کرتے ہوئے مستقبل کے عزائم کا اعلان کیا۔ کسی انسان کی زندگی دوسروں کی خدمت اور وفاداری سے عبارت ہوتی ہے تو اسے اہمیت حاصل ہونا یقینی سمجھا جاتا ہے۔ 16 سال قبل 2000 ء میں 44 سالہ شرمیلا نے منی پور میں سخت ترین فوجی قانون مسلح افواج کو خصوصی اختیارات ایکٹ (AFSPA) کی برخاستگی کا مطالبہ کرتے ہوئے بھوک ہڑتال شروع کی تھی۔ ان کی بھوک ہڑتال کے ختم کرنے پر کوئی خاص عوامی ردعمل سامنے نہیں آیا۔ البتہ ان کی اہمیت میں کئی دلوں اور ذہنوں میں یہ بات اجاگر ہوئی ہے کہ منی پور میں اب حالات پہلے جیسے نہیں رہیں گے۔ ان تمام برسوں میں شرمیلا کی بھوک ہڑتال کا مرکز اور ریاست پر کوئی خاص اثر نہیں پڑا۔ ملک کی شمال مشرقی ریاستوں کے بارے میں مرکز کی پالیسی پر اعتراضات بھی اٹھائے جاتے رہے ہیں۔ 1990 اور 2000ء کے دہے میں وادی منی پور میں مسلح افواج قانون کے خلاف شدید احتجاجی مظاہرے دیکھے گئے تھے اور اسی مدت کے دوران منی پور میں سکیوریٹی فورسس کی جانب سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف رزیاں بھی دیکھی گئی تھیں۔ شرمیلا کی بھوک ہڑتال کا سلسلہ سال بہ سال چلتا رہا مگر منی پور میں اس خطرناک قانون کوٹہ ہی ہٹایا گیا اور نہ ہی اس میں کوئی ترمیم لائی گئی۔ برسوں میڈیا میں رہنے کے باوجود وہ اپنی ریاست منی پور کے لئے اپنی مرضی کے مطابق فیصلہ کروانے میں ناکام رہیں۔ مرکزی حکومت نے ریاستوں کے مسائل کی یکسوئی میں اس وقت دلچسپی نہیں دکھائی جب یہ مسئلہ کسی فرد و احد کی طرف گشت کرنے لگتا ہے۔

منی پور کی صورتحال بھی ایسی بنی تھی۔ سخت ترین قوانین کے خلاف عوام سڑکوں پر اتر آئے مگر گولیوں کا شکار بن گئے۔ اُروم شرمیلا کو اپنی بھوک ہڑتال اور جدوجہد میں ایک معمولی کامیابی یہ ضرور ملی کہ حالیہ برسوں میں منی پور کے وادی ہابہازی والے اضلاع میں قانون AFSPA کو ہٹادیا گیا۔ ایک لحاظ سے شرمیلا کی یہ بھوک ہڑتال کامیاب ہی رہی۔ اب جیل سے رہائی کے بعد منی پور کی سیاست میں قدم رکھ کر آئندہ سال اسمبلی انتخابات میں حصہ لینے کا ارادہ رکھتی ہیں۔ جہاں تک منی پور کی چیف منسٹر بن کر ریاست کی ترقی کے لئے کام کرنے کا عزم ہے یہ انتخابی نتائج ہی ان کے عزائم کو ایک نئی راہ دکھائیں گے۔ جس دن شرمیلا نے اپنا برت توڑا اس دن وزیراعظم نریندر مودی نے وادی کشمیر کے عوام کے باے میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہیں قومی دھارے میں شامل ہونے کی خواہش کی تھی اس وادی کشمیر میں بھی مسلح افواج کو خصوصی اختیارات قانون دیئے جانے کے خلاف احتجاجی مظاہرے، فائرنگ اور تشدد کے واقعات دیکھے جاتے رہے ہیں۔ کیوں کہ اس قانون کی آڑ میں سکیورٹی فورسس کی جانب سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے الزامات بھی ہیں۔

وزیراعظم نریندر مودی نے وادی کشمیر کے بارے میں اپنی حکومت کی پالیسی پر غور کیا ہے تو وادی منی پور بھی اس سخت قانون سے چھٹکارے کا متمنی ہے۔ بعض شمال مشرقی ریاستوں، فوج کو یہ اختیارات حاصل ہے کہ وہ مشتبہ باغیوں کو دیکھتے ہی گولی ماردے۔ اس سے انسانی حقوق کا سنگین مسئلہ پیدا ہوتا ہے۔ وادی منی پور میں حالات کا جائزہ لینے والی ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی اُروم شرمیلا کی بھوک ہڑتال کو عالمی سطح پر مقبول بنایا تھا۔ اب ان کی بھوک ہڑتال ختم کرنے کے فیصلہ کو حکومت ہند کے لئے ایک بہترین موقع بتایا کہ ایسے موقع پر مرکز اپنے سخت ترین قانون کو برخاست کرسکتی ہے۔ منی پور میں اُروم شرمیلا کی اہمیت میں اضافہ ضرور ہوا ہے مگر بھوک ہرتال ختم کرنے کے ان کے فیصلہ پر منی پور کے انقلابی گروپس اور باغیوں نے برہمی ظاہر کی ہے۔ ان گروپس نے اُروم شرمیلا کو بھوک ہڑتال جاری رکھنے کی ترغیب دی تھی۔ فوجی قانون کے خلاف جدوجہد کو کمزور کردینے کی اگر مرکز نے درپردہ کوشش یا سازش کی ہے تو منی پور کا مستقبل اور سیاسی حالات ابتری کا شکار ہوں گے۔ لہٰذا مرکز کو اس معاملہ میں سختی سے کام لینے کے بجائے حالات کا مشاہدہ اور آنے والے دنوں میں رونما ہونے والے واقعات پر کڑی نظر رکھنے کی ضرورت ہوگی کیوں کہ جو عناصر اپنے مفادات کو عزیز رکھنے میں وہ اروم شرمیلا کی بھوک ہرتال ختم کردینے کا غلط فائدہ بھی اٹھا سکتے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT