Tuesday , September 26 2017
Home / اداریہ / منی پور اور گوا

منی پور اور گوا

منی پور اور گوا میں اسمبلی انتخابات کے نتائج کے بعد معلق اسمبلیوں کا وجود میں آنا ہر ایک پارٹی کے لئے تذبذب کا باعث ہوتا ہے۔ سب سے طاقتور پارٹی ہی کو اقتدار حوالے کرنے کا دستوری جواز تلاش کرنے کے دوران اگر کوئی جمہوریت کا قتل کرنے کے الزامات کا شکار ہوتا ہے تو ایسی صورت میں ایوان کے اندر طاقت یا اکثریت کی آزمائش کے مرحلے سے گذرنا ایک عمومی عمل پڑتا ہے۔ گوا میں بی جے پی نے اقتدار حاصل کیا ۔منی پور میں بھی گورنر نجمہ ہبت اللہ نے بی جے پی کو تشکیل حکومت کی دعوت دی۔ ان دونوں ریاستوں کے گورنروں کے رول پر اُٹھنے والے سوال کے درمیان اگر ماضی میں پیدا ہوچکے ایسے ہی حالات میں دستوری ذمہ داروں نے کیا رول ادا کیا تھا، اس سے سیاسی بالادستی یا دستوری تقاضوں کے درمیان فرق کو محسوس ہوگا۔ کانگریس نے اگرچیکہ دونوں ریاستوں منی پور اور گوا میں ووٹ لئے ہیں لیکن حکومت بنانے کے موقف میں نہیں رہی۔ بی جے پی حکومت سازی کیلئے مطلوب اعداد کو مجتمع کرنے میں کامیاب رہی۔ یہاں کانگریس کے ماضی کو یاد دلایا جائے تو اس کی حکمرانی میں ایسے کئی واقعات ہوئے ہیں کہ اس نے اقتدار پر رہ کر ریاستوں میں اپنی طاقت کا بے جا استعمال کیا تھا۔ بی جے پی آج یہی کررہی ہے جو کانگریس نے ماضی میں کیا ہے۔ منی پور اور گوا میں حکومت بنانے بی جے پی کی کوششوں کی مخالفت کرنے کا کانگریس کو حق حاصل ہے تو پھر اس نے اپنے اس حق سے استفادہ کرنے میں عجلت کیوں نہیں کی۔ ارکان اسمبلی کی تعداد بڑھانے اور اپنا لیجسلیچر لیڈر منتخب کرنے میں ناکام کانگریس قیادت کو پرانے وقتوں میں اپنے رول کو یاد کرنا چاہئے۔ بی جے پی نے اسی جانب توجہ دلائی ہے کہ کانگریس نے اپنے اختیارات کا غلط استعمال کیا تھا اور آرٹیکل 356 کا بھی بے جا طریقہ سے استعمال کیا جاچکا ہے۔ اس نے سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھرنے والی پارٹیوں کو حکومت سازی کا موقع نہیں دیا تھا لہٰذا موجودہ صورتحال میں اسے بی جے پی پر تنقید کرنے کا اخلاقی حق نہیں ہے۔ بی جے پی نے گوا کے ساتھ ساتھ منی پور میں وہی تجربہ دہرایا ہے جو سابق میں کانگریس نے خراب مثال قائم کی تھی۔ اگرچیکہ اُن دنوں ریاستوں میں رائے دہندوں نے کانگریس کو سبقت فراہم کی تھی لیکن وہ بروقت عددی طاقت کا مظاہرہ کرنے میں ناکام رہی اور بی جے پی نے موقع سے فائدہ اٹھاکر اقتدار حاصل کرلیا۔ گوا میں عام رائے یہ ہے کہ بی جے پی نے عوام کے فیصلہ کا سرقہ کرلیا ہے۔ اب کانگریس اس خصوص میں جتنی بھی دلیلیں پیش کرے، اسے ایوان میں اپنی طاقت کا ثبوت دینے کا موقع دیا جائے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا وہ ایوان میں بی جے پی حکومت کو ناکام بنانے میں کامیاب ہوسکے گی۔ منوہر پاریکر نے21 ارکان اسمبلی کی تائید کا دعویٰ کیا تھا۔ ایسے میں گورنر تشکیل حکومت کیلئے 17 ارکان والی پارٹی کو مدعو نہیں کرسکتے۔ ماضی میں گورنروں کی جانب سے کئے گئے ایسے کئی فیصلوں ایک نظیر بن کر گوا اور منی پور میں حکومت سازی کی راہ کو ہموار کیا ہے۔ گورنر کے اختیارات کا بے جا استعمال کا جہاں تک کانگریس کا الزام ہے، اس سلسلے میں اسے ازخود اپنے اکثریت پیش کرنے میں پہل کرنی چاہئے تھی۔ گوا حکومت سازی کے خلاف سپریم کورٹ میں پیش کردہ درخواست میں مسترد کردی جاچکی ہے۔ اسمبلی انتخابات کے بعد کسی ایک پارٹی کے حق میں قطعی اکثریت کا حاصل نہ ہونا دستوری تقاضہ کا مسئلہ پیدا کردیتا ہے، ایسے میں سب سے بڑی طاقت کی حامل پارٹی ان دستوری اختیارات کا غلط استعمال کرتی ہے۔ 2005ء میں جھارکھنڈ میں بھی گورنر سبط رضی نے شیبو سورین کو حکومت سازی کیلئے مدعو کیا تھا جبکہ بی جے پی اس وقت سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری تھی لیکن مرکز کی اس وقت کی کانگریس قیادت کی ایماء پر حکومت سازی کیلئے جے ایم ایم کو ہی مدعو کیا گیا۔ اس سلسلے میں ماضی کے مزید واقعات کا حوالہ دیا جائے تو بہار میں اس وقت کے گورنر بوٹا سنگھ نے بی جے پی، جنتا دل (یو) اتحاد کو مدعو نہیں کیا تھا جبکہ اس اتحاد کو تقریباً اکثریت حاصل تھی۔ 1998ء میں اُترپردیش کے گورنر رمیش بھنڈاری نے چیف منسٹر کلیان سنگھ کو برطرف کردیا تھا۔ ایوان میں اکثریت ثابت کرنے کا موقع نہیں دیا گیا۔ ایس آر بومائی کیس کا حوالہ ہر اس نازک موقع پر دیا جاتا ہے جب گوا یا منی پور جیسی صورتحال پیدا ہوئی ہے۔ 1983ء، 1984ء میں کرناٹک میں ایس آر بومائی کو برطرف کردیا گیا تھا۔ اس طرح آندھرا پردیش کے گورنر کی حیثیت سے 1984ء میں رام لال نے این ٹی آر حکومت کے ساتھ کیا گیا تھا۔ یہ مسئلہ سیاسی حلقوں میں ایک غلط فیصلہ کی حیثیت سے آج بھی زیربحث آتا ہے لہٰذا کانگریس کو دونوں ریاستوں گوا اور منی پور میں ایوان کے اندر اپنی اکثریت ثابت کرنے یا حکومتوں کو اقلیت میں ہونے کی آزمائش سے گذرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔

TOPPOPULARRECENT