Saturday , April 29 2017
Home / Top Stories / منی پور میں بھی تشکیل حکومت کیلئے بی جے پی کا ادعاء

منی پور میں بھی تشکیل حکومت کیلئے بی جے پی کا ادعاء

بیرین سنگھ قائد مقننہ بی جے پی پارٹی منتخب ، سب سے بڑی جماعت کو پہلے موقع دینے کانگریس کا اصرار
امپھال ۔13 مارچ ۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) این بیرین سنگھ کو آج متفقہ طورپر بی جے پی مقننہ پارٹی منی پور کا قائد منتخب کرلیا گیا ۔ انھوں نے گورنر نجمہ ہپت اﷲ سے ملاقات کرکے آئندہ حکومت تشکیل دینے کا دعویٰ پیش کردیا ۔ موجودہ چیف منسٹر و ایبوبی سنگھ نے آج رات دیر گئے اپنا استعفیٰ گورنر کے سپرد کردیا۔ ذرائع کے بموجب مرکزی وزیر پیوش گوئیل نے نئی دہلی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ بیرین سنگھ بی جے پی کے چیف منسٹری کے امیدوار ہیں اور انھیں چھوٹی سیاسی پارٹیوں کی تائید بھی حاصل ہے ۔ قبل ازیں منی پور اسمبلی انتخابات میں سب سے بڑی جماعت کی حیثیت سے اُبھرنے پر کانگریس اگرچہ اس کو حکومت سازی کیلئے پہلے موقع دینے کا مطالبہ کررہے ہیں لیکن ریاستی گورنر نجمہ ہپت اﷲ نے آج کہاکہ موجودہ چیف منسٹر او ایبوبی سنگھ کے مستعفی ہونے کے بعد ہی وہ حکومت سازی کے عمل کا آغاز کرسکتی ہیں۔ نجمہ ہپت اﷲ نے کہاکہ ’’مجھے چیف منسٹر (ایبوبی سنگھ) کا استعفیٰ تاحال موصول نہیں ہوا ہے اگرچہ گزشتہ روز میں ان سے کہہ چکی تھی کہ آپ کے مستعفی ہونے کے بعد ہی میں حکومت سازی کے عمل کا آغاز کرسکتی ہوں‘‘ ۔ راج بھون کے اعلیٰ ذرائع نے کہاکہ ’’قواعد کے مطابق چیف منسٹر کے مستعفی ہونے تک آئندہ حکومت کی تشکیل کے عمل کا آغاز نہیں کیا جاسکتا‘‘ ۔ ذرائع نے کہاکہ ’’ایبوبی سنگھ نے گزشتہ شب ڈپٹی چیف منسٹر گائیکھا نگم اور پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ایل این ہاؤکپ نے گورنر سے ملاقات کی تھی ۔ گورنر نے ان سے کہا تھا کہ وہ فوری مستعفی ہوجائیں تاکہ وہ حکومت سازی کا عمل شروع کرسکیں۔ ذرائع نے کہاکہ ’’ایبوبی سنگھ نے اس ملاقات کے دوران کانگریس کے 28 ارکان کی فہرست بتاتے ہوئے آئندہ حکومت کی تشکیل کا دعویٰ کیا اور کہا کہ انھیں نیشنل پیپلز پارٹی ( این پی پی ) کے چار ارکان اسمبلی کی تائید حاصل ہے‘‘۔ ذرائع نے مزید کہاکہ ’’ایک سادہ کاغذ پر این پی پی کے چار ارکان اسمبلی کے نام دیکھنے کے بعد گورنر نے ایبوبی سنگھ سے کہاکہ وہ این پی پی کے صدر اور ارکان اسمبلی کو پیش کریں‘‘ ۔ گورنر نے کہا کہ دعویٰ اور جوابی دعویٰ کا جائزہ لینا اُن کی ذمہ داری ہے اور سادہ کاغذ پر لکھے ناموں کو وہ مکتوب تائید ، کے طورپر قابول نہیں کرسکتیں تاوقتیکہ این پی پی کے چار ارکان اسمبلی اُن سے ملاقات کرتے ہوئے حکومت کی تائید کا اعلان نہ کریں۔ اس دوران بی جے پی کی ریاستی قیادت نے اپنے 21 نومنتخب ارکان اسمبلی کے علاوہ این پی پی کے صدر ان کی پارٹی کے چار ارکان اور کانگریس کے ایک رکن کے علاوہ ایل جے پی اور ٹی ایم سی کے ایک ایک رکن اسمبلی کے ساتھ گورنر سے ملاقات کی ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT