Saturday , May 27 2017
Home / شہر کی خبریں / منی کنڈہ میں اسلامک سنٹر کا قیام تنازعہ کا شکار

منی کنڈہ میں اسلامک سنٹر کا قیام تنازعہ کا شکار

عدالت میں مقدمہ کے خلاف اپیل دائر نہیں کی گئی، وقف بورڈکا لیگل سیکشن اوروکلاء کا رویہ مایوس کن

حیدرآباد ۔ 15 ۔  فروری (سیاست نیوز) اوقافی جائیدادوںکے تحفظ میں ناکامی کا اہم سبب عہدیداروںکی لاپرواہی اور عدم دلچسپی ہے ۔ اس کا ثبوت اس وقت ملا جب سپریم کورٹ کی جانب سے گٹلا بیگم پیٹ کی 90 ایکر اوقافی اراضی کے سلسلہ میں وقف بورڈ کے حق میں فیصلے کے باوجود ابھی تک نیا نوٹفیکیشن جاری نہیں کیا گیا جس کیلئے سپریم کورٹ نے مشورہ دیا تھا ۔ اسی طرح اسلامک سنٹر کی تعمیر کیلئے جس اراضی کا تعین کیا گیا، اس پر ہائیکورٹ میں مقدمہ کے خلاف ابھی تک اپیل دائر نہیں کی گئی۔ بتایا جاتا ہے کہ ان دونوں معاملات میں وقف بورڈ کا لیگل سیکشن اور عدالتوں میں وقف بورڈ کے وکلاء  ذمہ دار ہیں۔ چیف اگزیکیٹیو آفیسر محمد اسد اللہ کی ہدایت کے باوجود لیگل سیکشن اور وکلاء اپنی سست رفتاری پر برقرار ہیں۔ چیف منسٹر نے جس پراجکٹ کا اعلان کیا تھا ، اس کی عاجلانہ تکمیل کے سلسلہ میں حکومت کے مشیر اے کے خاں مساعی کر رہے ہیں لیکن انہیں وقف بورڈ کے لیگل سیکشن اور وکلاء کے رویہ سے مایوسی ہو ئی ہے۔ اے کے خاں نے وقف بورڈ کے عہدیداروں پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے عدالت میں اپیل دائر نہ کرنے کی وجوہات معلوم ہوئی ۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر خود بھی محکمہ اقلیتی بہبود کی کارکردگی سے خوش نہیں ہیں کیونکہ انہوں نے جس اہم پراجکٹ کا اعلان کیا تھا، اس کیلئے غیر متنازعہ اراضی کی نشاندہی میں عہدیدار ناکام رہے جس کے نتیجہ میں حکومت تعمیری کام کا آغاز کرنے سے قاصر ہے ۔ چیف منسٹر خود چاہتے تھے کہ وہ اسلامک سنٹر کا سنگ بنیاد رکھیں۔ اراضی کی نشاندہی کے سلسلہ میں عہدیداروں نے جلد بازی کا مظاہرہ کیا جبکہ وقف بورڈ کے عہدیدار اراضی کا جائزہ لینے کے بعد ہی نشاندہی کئے جانے کے حق میں تھے ۔ عجلت میں چیف منسٹر کو جس اراضی کی نشاندہی کی گئی ، انہوں نے اسی کا اسمبلی میں اعلان کر دیا ۔ بعد میں اس اراضی پر کئی دعویدار پیدا ہوگئے اور معاملہ ہائیکورٹ زیر دوران ہے ۔ وقف بورڈ کی جانب سے اپیل دائر کرنے کے سلسلہ میں بتایا جاتا ہے کہ ایک سینئر کی خدمات حاصل کی گئیں لیکن ابھی تک عدالت میں اپیل دائر نہیں کی گئی ۔ اطلاعات کے مطابق ابھی تک وقف بورڈ سے متعلقہ فائل ہائی کورٹ کے وکیل کو روانہ نہیں کی گئی ہے ۔ ان حالات میں اسلامک سنٹر کی اراضی کا مقدمہ وقف بورڈ کے حق میں ہوگا یا نہیں کہا نہیں جاسکتا ۔ دوسری طرف گٹلا بیگم پیٹ کی اراضی کے معاملہ میں وقف بورڈ کو نیا نوٹفکیشن جاری کرنا ہے ۔ سپریم کورٹ نے قابضین کے مالکانہ حقوق ختم کرتے ہوئے وقف بورڈ کو ہدایت دی تھی کہ وہ نیا نوٹفکیشن جاری کرے اور تمام دعویداروں کو اپنا حق ثابت کرنے کیلئے موقع فراہم کیا جائے ۔ بتایا جاتا ہے کہ اس سلسلہ میں بھی جس وکیل کی خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ، انہوں نے فریقین کو نوٹس جاری کرنے کی صلاح دی ہے جبکہ چیف اگزیکیٹیو آفیسر نے عام نوٹس جاری کرنے کا مشورہ دیا تھا ۔ صرف فریقین کو نوٹس جاری کرنے کی صورت میں کوئی بھی ایسا شخص اراضی پر اپنی دعویداری پیش کرسکتا ہے جسے نوٹس جاری نہیں کی گئی ۔ بتایا جاتا ہے کہ سکریٹری اقلیتی بہبود نے چیف اگزیکیٹیو آفیسر کی رائے سے اتفاق نہیں کیا۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف فریقین کو نوٹس کی اجرائی سے 90 ایکر اراضی کا بآسانی حصول ممکن نہیں ہوگا۔ سپریم کورٹ کے فیصلہ کو تقریباً ایک ماہ گزرنے کو ہے لیکن ابھی تک وقف بورڈ نے نوٹس جاری کرنے کے طریقہ کار کا تعین نہیں کیا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وقف بورڈ میں وقف مافیا کے نمائندے ان کارروائیوں میں رکاوٹ پیدا کر رہے ہیں۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT