Tuesday , October 24 2017
Home / شہر کی خبریں / موبائل فون کے ذریعہ انکم ٹیکس ریٹرنس کا ادخال

موبائل فون کے ذریعہ انکم ٹیکس ریٹرنس کا ادخال

پیان کارڈ کے بشمول صرف ایک فارم سے ٹیکس کی ادائیگی ، مرکزی حکومت کے اقدامات
حیدرآباد۔16فروری(سیاست نیوز) انکم ٹیکس ریٹرنس موبائیل فون کے ذریعہ داخل کئے جا سکیں گے! جی ہاں محکمہ انکم ٹیکس کی جانب سے پیان کارڈ کے لزوم کے ساتھ انکم ٹیکس ریٹرنس اور ٹیکس کی ادائیگی بذریعہ فون ممکن بنانے کے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ مرکزی حکومت نے ٹیکس دہندگان کی تعداد میں اضافہ کے لئے کئے جانے والے اقدامات کے طور پر صرف ایک فارم کے ذریعہ ٹیکس کی ادائیگی کو ممکن بنانے کی کوشش میں مصروف ہے۔ ذرائع کے بموجب ملک بھر میں آدھار سے منسلک بینک کھاتوں کے ساتھ پیان کارڈ کے منسلک ہوجانے اور ای۔ویالٹ و فون بینکنگ کے فروغ کے بعد حکومت نے شہریو ںکو ٹیکس کی ادائیگی کی سمت راغب کروانے کا منصوبہ تیار کیا ہے جس کے تحت اسمارٹ فون کو شہریوں کا چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے جس میں محکمہ انکم ٹیکس و مرکزی حکومت کو کامیابی کی توقع ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ٹیکس کی ادائیگی میں عام شہری کو ہونے والی دشواریوں کے سبب عام شہری کی جانب سے انکم ٹیکس ریٹرنس داخل نہیں کئے جاتے اسی لئے محکمہ انکم ٹیکس کی جانب سے ’سرل انکم ٹیکس‘ ویب پورٹل شروع کیا گیا جس کے ذریعہ کافی لوگوں نے شخصی طور پر ریٹرنس داخل کرنے شروع کردیئے جس کے نتیجہ میں ملک بھر میں انکم ٹیکس ریٹرنس داخل کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا لیکن اس کو مزید سہل بنانے کیلئے اقدامات کے طور پر محکمہ انکم ٹیکس پیان کارڈ نمبر کی بنیاد پر چلنے والے موبائیل فون ایپلیکیشن کی تیاری میں مصروف ہے جس سے آدھار کارڈ‘ بینک کھاتے کو مربوط کیا جاسکتا ہے ۔ بتایاجاتا ہے کہ ایپلیکیشن کو اس طرح تیار کرنے کے اقدامات کئے جا رہے ہیں کہ شہریوں کو حساب رکھنے کی ضرورت ہی نہ پڑے بلکہ آمدنی و اخراجات مکمل طور پر آدھار کارڈ اور پیان کارڈ کی بنیاد پر یکجا ہوتے رہیں گے۔ بتایا جاتا ہے کہ محکمہ انکم ٹیکس کے عہدیدار انکم ٹیکس ریٹرنس کے ادخال میں ہونے والی دشواریوں کے سلسلہ میں متعدد مرتبہ متوجہ کروا چکے ہیں لیکن عصری ٹکنالوجی کے استعمال کے ذریعہ کئے جانے والے ان اقدامات سے کتنے لوگ دیانتداری کے ساتھ استفادہ کرتے ہیں یہ ایک اہم مسئلہ ہے۔ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ عام شہری انکم ٹیکس ریٹرنس داخل کرنے میں پس و پیش نہیں کرتا لیکن ریٹرنس کے ادخال میں جو دشواریاں ہیں اس کے سبب وہ داخل نہیں کر پاتا مگر اب جبکہ موبائیل فون کے ذریعہ ریٹرنس کے ادخال کی سہولت فراہم کرنے کا منصوبہ ہے تو ایسی صورت میں انکم ٹیکس ریٹرنس داخل کرنے والوں کی تعداد میں زبردست اضافہ ریکارڈ کیا جا سکتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT