Thursday , September 21 2017
Home / شہر کی خبریں / موبائیل عنقریب آدھار کارڈ بن سکتا ہے

موبائیل عنقریب آدھار کارڈ بن سکتا ہے

فون کے استعمال سے شہریوں کی شناخت و تصدیق ، موبائل ساز کمپنیوں سے مشاورت
حیدرآباد۔ 11 اگسٹ ( سیاست نیوز )  موبائیل بہت جلد آپکا آدھار کارڈ بن سکتا ہے۔ قومی سطح پر ہندستانیوں کو دی گئی منفرد شناخت کو موبائیل سے مربوط کرنے کے متعلق یونیک آئیڈینٹی فیکیشن اتھاریٹی آ ف انڈیا کی جانب سے غور کیا جانے لگا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ملک میں شہریوں کی جانب سے موبائیل کے ذریعہ خود تصدیق کی سہولت کی فراہمی کے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ اسمارٹ فون میں جہاں فنگر پرنٹس اور آئی ریس کے لاک آرہے ہیں اسی طرز پر اب شہری اپنی شناخت کی تصدیق بھی کر پائیں گے۔ UIDAIنے شہریوں کو یہ سہولت کی فراہمی کے متعلق موبائیل فون ساز اداروں سے مشاورت کا عمل شروع کردیا ہے۔ حکومت کی جانب سے اس سہولت کو یقینی بنائے جانے کی صورت میں کئی شہری صرف اپنے فون کے استعمال کے ذریعہ اپنی شناخت کی تصدیق کر پائیں گے اور انہیں آدھار کارڈ ساتھ رکھنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ سابق سربراہ UIDAIمسٹر نندن نلنکنی نے حکومت کی اس تجویز کی سراہنا کرتے ہوئے کہا کہ سائبر دور میں یہ اقدام انتہائی کارآمد ثابت ہو سکتا ہے اور اس اقدام کی صورت میں شہری بہ آسانی نقد رقم کے بغیر فون کے استعمال کے ذریعہ رقمی منتقلی کو یقینی بنا سکتے ہیں۔ حکومت کی جانب سے موبائیل فون کے ذریعہ خود کی شناخت کی تصدیق کو یقینی بنائے جانے کی صورت میں ممکن ہے کچھ مسائل پیدا ہوں لیکن ان مسائل کے حل کیلئے حکومت نے متعلقہ اتھاریٹی کو موبائیل فون بنانے والی کمپنیوں سے مشاورت اور انہیں محفوظ ترین میکانزم کی فراہمی پر توجہ مبذول کروانے کی کوشش میں لگ چکی ہے۔ ذرائع کے بموجب بہت جلد آدھار بھی موبائیل سے مربوط کر دیئے جانے کے بعد شہریوں کو اضافی دستاویزات یا شناختی کارڈ ساتھ رکھنے کی ضرورت نہیں رہے گی بلکہ شہری از خود اپنی شناخت کی تصدیق کے موقف میں رہیں گے اور وہ اپنے موبائیل کے ذریعہ فنگر پرنٹس اور آئی ریس جیسے محفوظ عمل کے ذریعہ یہ عمل انجام دے پائیں گے۔ ریاست تلنگانہ میں محکمۂ روڈ ٹرانسپورٹ اتھاریٹی نے جس طرح موبائیل اپیلیکیشنکے ذریعہ دستاویزات کو محفوظ کرنے کے علاوہ ان دستاویزات کو بوقت ضرورت پیش کرنے کی گنجائش فراہم کی ہے اسی طرز پر UIDAIکی جانب سے مزید محفوظ عمل کے ذریعہ یہ خدمات شروع کئے جانے کا امکان ہے کیونکہ یہ خدمات صرف دستاویزات تک محدود نہیں بلکہ شخصی شناخت کا مسئلہ ہے جو کوئی اور نہیں کر پائے گا۔

TOPPOPULARRECENT