Thursday , August 17 2017
Home / شہر کی خبریں / موبائیل ٹاورس حفظان صحت کیلئے خطرہ

موبائیل ٹاورس حفظان صحت کیلئے خطرہ

ٹاورس کی شعاعیں انسانی صحت کیلئے کئی بیماریوں کا موجب، سروے میں انکشاف
حیدرآباد 27 ڈسمبر (سیاست نیوز) موبائیل ٹاورس حفظان صحت کے لئے خطرہ ہیں۔ اس سلسلہ میں کئی رپورٹس منظر عام پر آچکی ہیں لیکن ہر مرتبہ حکومت اور موبائیل فون کمپنیوں کی جانب سے اس بات کی سخت تردید کی جاتی رہی ہے کہ سیل فون ٹاورس کے ذریعہ کسی قسم کی ایسی شعائیں نہیں نکلتیں جو انسانی صحت کو متاثر کرتی ہوں لیکن گزشتہ دنوں کنگ سعود یونیورسٹی کے پروفیسر سلطان ایوب میو کی ایک تحقیق منظر عام پر آئی ہے جسے انٹرنیشنل جرنل آف انوائرمنٹل ریسرچ اینڈ پبلک ہیلت میں شائع کیا گیا ہے۔ اس ریسرچ رپورٹ میں اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ سیل فون ٹاورس سے نکلنے والی شعاعیں صحت عامہ کے لئے انتہائی خطرناک ثابت ہوتی ہیں۔ تحقیق کے بعد ٹاورس سے نکلنے والی ریڈیائی شعاعیں انسانی صحت کے لئے نقصان دہ ہیں اور یہ شعاعیں ذیابیطس سے مقابلے کی صلاحیت میں کمی پیدا کرتی ہیں۔ کنگ سعود یونیورسٹی کی جانب سے کئے گئے اِس نئے مطالعہ کے بعد سیل فون ٹاور کے محفوظ ہونے پر ایک مرتبہ پھر سوالیہ نشان لگائے جانے لگے ہیں۔ دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد میں اس سلسلہ میں متعدد سوالات کھڑے کئے گئے لیکن ہر مرتبہ موبائیل فون ایجنسیز و کمپنیوں کی جانب سے اس بات کی تردید کی جاتی رہی ہے کہ سیل فون ٹاور سے نکلنے والی تابکاری (ریڈیائی) شعاعیں صحت کے لئے نقصان دہ نہیں ہیں لیکن اس نئی تحقیق میں اس بات کا بھی دعویٰ کیا جارہا ہے کہ یہ شعاعیں دراصل ابتدائی طور پر سر درد، اختلاج، ہائی بلڈ پریشر اور نیند نہ آنے کی شکایت پیدا کرتی ہیں لیکن اب یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ اِس سے ذیابیطس جیسا مرض بھی لاحق ہوتا ہے۔ فی الحال دنیا بھر میں 7.3 بلین موبائیل فون استعمال کئے جارہے ہیں جوکہ دنیا کی آبادی سے بھی تجاوز کرچکے ہیں۔ پروفیسر سلطان ایوب نے اپنی اس تحقیق میں تکمیل کے لئے ماحولیات اور صحت عامہ سے متعلق شائع ہونے والے جرائد کے لئے روانہ کیا جس میں یہ تحقیق شائع کی گئی ہے۔

TOPPOPULARRECENT