Thursday , August 24 2017
Home / مذہبی صفحہ / موت کا مزہ ہر ایک کو چکھنا ہے

موت کا مزہ ہر ایک کو چکھنا ہے

سیدزبیرھاشمی نظامی، معلم جامعہ نظامیہ
اﷲ عزوجل نے ہم تمام کو اشرف المخلوقات بناکر اس دنیائے فانی میں بھیجا ہے یقیناً یہ ایک ایسی عظیم نعمت ہے کہ جس پر خالق کائنات رب ذوالجلال کا جتنا بھی شکر بجالائیں اتنا کم ہی ہیں ۔ وہ اس لئے کہ اس عالَم میں اور بھی کئی مخلوق ہیں مثلاً حیوان ، چرند ، پرند ، درخت ، پتھر ، نباتات وغیرہ وغیرہ ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ہم پر جو ذمہ داریاں ڈالی گئی ہیں کیا اس کو اپنایا جارہا ہے یا نہیں ؟ اگر اس کا جواب ہاں میں ہے تو یہ بڑی خوش نصیبی کی بات ہے ۔ اور اگر اس کا جواب نفی ’’ نہیں ‘‘ میں ہیں تو ہم اشرف المخلوقات بننے کا حق ادا نہیں کررہے ہیں۔ اور یہی ہماری بڑی بد نصیبی کی بات ہے اور اس پر جتنا افسوس کیا جائے اتنا ہی کم ہے ۔

اس تمہید کا  مقصد یہ ہے کہ اس دنیا میں جب ہم آئے ہیں تو اس وجہ یہی ہے کہ اپنے مولائے حقیقی کو راضی کریں اور اس کے قرب کے حصول کی کوشش کریں ۔ یہ دنیوی زندگی چند روزہ ہے جب آئے ہیں تو رخصت تو ہونا ضرور ہے ۔ موت کب کس کو کیسے اور کہاں آئیگی اس کا پتہ کسی کو بھی نہیں ہے ۔ ہاں اتنا ضرور ہے کہ قرآن کے مطابق ’’موت کا مزہ ہر ایک کو چکھنا ضروری ہے‘‘ اس کو پیش نظر رکھنا ہمارے لئے بیحد ضروری ہے ۔ ہم خیرامت ہیں تو کس وجہ سے ہے اس کے متعلق ایسی چند منتخب احادیث تحریر کی جائیں گی کہ جس کے ذریعہ ’’خیرامت‘‘ کے متعلق بھی معلوم ہوجائیگا اور انشاء اﷲ زندگیوں میں ایک بہتر انقلاب بھی آئیگا جو فی زمانہ ہمارے لئے انتہائی ضروری ہے کیونکہ آج ہم ایک ایسے دور سے گزر رہے ہیں کہ جس میں ہم نہ تو عبادت صحیح ڈھنگ سے کررہے  ہیں اور نہ فرائض و واجبات اور دیگر کام انجام دیتے ہیں بلکہ اکثر جگہ فتنہ ، فساد ، قتل ، غارتگری ، جھوٹ ، مرتدہونا ، نوجوانوں میں غلط روش کا پیدا ہونا یہ سب ہم دیکھ رہے ہیں ۔ اس لئے ہم کو چاہئے کہ جہاں تک ہوسکے ایسے کام اختیار کریںجس سے اﷲ سبحانہ وتعالیٰ اور نبی کریم ﷺ دونوں کی رضا اور خوشنودی حاصل ہوجائے ۔
٭  بخاری اور مسلم شریف میں حدیث پاک ہے جس کے روای حضرت سیدناعبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا : مجھ پر تمام امتیں پیش کی گئیں پس ایک نبی گزرنے لگے اور ان کے ساتھ ان کی امت تھی ، ایک نبی ایسے بھی گزرے کہ ان کے ساتھ بھی چند افراد تھے ، ایک نبی کے ساتھ دس آدمی ، ایک نبی کے ساتھ پانچ آدمی ، ایک نبی صرف تنہا  ، میںنے نظر دوڑائی تو ایک بڑی جماعت نظر آئی میں نے پوچھا : ائے جبرئیل علیہ السلام ! کیا یہ میری امت ہے ؟ عرض کیا : نہیں بلکہ یارسول اﷲ ﷺ آپ افق کی جانب توجہ فرمائیں ، میں نے دیکھا تو وہ بہت ہی بڑی جماعت تھی عرض کیا : یہ آپ کی امت ہے اور یہ جو ستر (۷۰) ہزار ان کے آگے ہیں ان کے لئے نہ حساب ہے نہ عذاب ، میں نے پوچھا: کس وجہ سے ؟ انہوں نے کہا : یہ لوگ داغ نہیںلگواتے تھے ، غیر شرعی جھاڑ پھونک نہیں کرتے تھے ۔شگون نہیں لیتے تھے اور اپنے رب پر کامل بھروسہ رکھتے تھے ۔ حضرت عکاشہ بن محصن کھڑے ہوکر عرض کئے : یارسول اﷲ ﷺ اﷲتعالیٰ سے دعا کیجئے کہ وہ مجھے بھی ان لوگوںمیں شامل فرمالے ۔ آپ ﷺ نے دعافرمائی : ائے اﷲاسے ان لوگوں میں شامل فرما ۔ پھر دوسرا آدمی کھڑا ہوکر عرض کیا یارسول اﷲﷺ اﷲتعالیٰ سے دعا کیجئے کہ مجھے بھی ان میں شامل فرمالے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا : عکاشہ تم سے سبقت لے گئے ۔
(بخاری ، کتاب الرقاق)

٭  حضرت ابوہریرہ رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا : اﷲتعالیٰ نے میری امت سے ان کی دل کی باتوں یعنی وسوسے اور خیالات کو معاف فرمادیا ہے جب تک وہ اس پر عمل نہ کرے یا زبان سے نہ کہے۔ (مسلم، نسائی، ابن ماجہ )
٭  حضرت حذیفہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضور نبی کریم ﷺ نے اتنا طویل سجدہ فرمایا کہ ہم نے گمان کیا کہ شاید آپ ﷺ کا وصال اقدس ہوگیا ہے پھر جب آپ ﷺ سجدہ سے فارغ ہوئے تو فرمایا : میرے رب نے مجھ سے میری امت کے بارے میں مشورہ طلب کیا ، اس میں فرمایا : اور ہمارے لئے وہ بہت سی چیزیں حلال کردیں جو ہم سے قبل امتوںپر ممنوع تھیں اور ہم پر اس دنیا میں کوئی تنگی نہیں رکھی ۔ (رواہ احمد بن حنبل)۔
٭  حضرت سیدنا علی رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا : مجھے وہ کچھ عطا کیا گیا جو سابقہ انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام میں سے کسی کو بھی عطا نہیں کیا گیا ۔ ہم نے عرض کیا : یارسول اﷲ ﷺ وہ کیا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : میری رعب و دبدبہ سے مددکی گئی اور مجھے زمین کے تمام خزانوں کی کنجیاں عطا کی گئیں اور میرا نام احمد رکھا گیا اور مٹی کو بھی میرے لئے پاکیزہ قرار دیا گیا اور میری امت کو بہترین امت بنایا گیا ہے ۔ (ابن ابی شیبہ)
اﷲ تعالیٰ ہم سب کو خیرامت کا حق ادا کرنے کی توفیق عطافرمائے۔
[email protected]

TOPPOPULARRECENT