Wednesday , September 27 2017
Home / Top Stories / مودی اور بی جے پی، انتخابات سے قبل عوام کو گمراہ کررہے ہیں: مایاوتی

مودی اور بی جے پی، انتخابات سے قبل عوام کو گمراہ کررہے ہیں: مایاوتی

ریاست اترپردیش میں غلط تشہیر اور پروپگنڈہ کے ذریعہ ووٹ حاصل کرنے کی کوشش، صدر بی ایس پی کا بیان
لکھنؤ 26 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) صدر بہوجن سماج پارٹی مایاوتی نے آج کہاکہ بی جے پی اور اس کے قائدین اترپردیش اسمبلی انتخابات سے قبل عوام کو گمراہ کررہے ہیں۔ انھوں نے وزیراعظم نریندر مودی کے اس بیان کو کہ انھوں نے الزام عائد کیاکہ بی ایس پی اور سماج وادی پارٹی میں سانٹھ گانٹھ ہوئی ہے یہ سیاسی مقصد براری کا الزام ہے۔ اگرچیکہ اترپردیش میں اسمبلی انتخابات کے لئے ابھی تواریخ کا اعلان نہیں ہوا ہے لیکن وزیراعظم اپنی پارٹی کی طرح عوام کو گمراہ کرنے اور غلط پبلسٹی کرنے میں ملوث ہیں۔ وزیراعظم یہ ایسا اس لئے کررہے ہیں کیوں کہ ریاست میں ان کی پارٹی بی جے پی کی بُری حالت ہے۔ اس پر ان کا یہ کہنا کہ بی ایس پی اور سماج وادی پارٹی میں گٹھ جوڑ ہوا ہے، یہ ازخود ایک مضحکہ خیز بات ہے۔ مایاوتی نے مزید کہاکہ مودی کا بیان سراسر سیاسی مقصد براری پر مبنی ہے تاکہ اپنی حکومت کی ناکامیوں اور وعدوں کی عدم تکمیل سے عوام کی توجہ ہٹائی جاسکے۔ بی ایس پی سربراہ نے مزید کہاکہ 1995 ء کے اسٹیٹ گیسٹ ہاؤز واقعہ کے بعد سے سماج وادی پارٹی کی قیادت ان پر ناقابل معافی جرم کی مرتکب ہوئی ہے اور وہ ان پر مسلسل حملے کررہے ہیں۔ اس پارٹی کا کسی پارٹی کے ساتھ کوئی سیاسی تعلق نہیں ہے۔ مایاوتی نے مزید کہاکہ جب سے بی ایس پی نے یوپی کی حکمراں پارٹی ایس پی کے مجرمانہ چہرہ کو بے نقاب کیا ہے وہ بہوجن سماج پارٹی کو نشانہ بنارہی ہے۔ میری پارٹی کا کسی دوسری پارٹی کے ساتھ کوئی گٹھ جوڑ نہیں ہے اور نہ ہی اس سلسلہ میں کوئی سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

اس سلسلہ میں بہوجن سماج پارٹی کو کوئی فائدہ یا نقصان نہیں ہوا ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ بی جے پی اور سماج وادی پارٹی کے درمیان ساز باز ہوئی ہے۔ ایک دوسرے کا ساتھ دے رہی ہیں اور فسادات اور فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا کرنے کی سیاست میں ملوث ہیں۔ یہ سب جانتے ہیں کہ آخر ملائم سنگھ یادو کے جن سنگھ سے کس طرح راست تعلقات ہیں اور اس کی موجودہ شکل بی جے پی سے بھی 1967 ء سے وابستہ ہیں۔ ملائم سنگھ یادو نے 1967 ء کے علاوہ 1977 ء اور 1989 ء کے انتخابات میں بھی ایک ساتھ حصہ لیا تھا۔ حال ہی میں دونوں پارٹیوں نے سیکولر فورس کے خلاف بہار اسمبلی انتخابات کا بھی مقابلہ کیا تھا۔ ان دونوں پارٹیوں کے درمیان مفاہمت 2013 ء کے فسادات کے دوران آشکار ہوئی تھی۔ سماج وادی پارٹی حکومت نے ان فسادات میں ملوث افراد کے خلاف ابھی تک کوئی کارروائی نہیں کی ہے۔ آج بھی یہ خاطی آزادی سے گھوم رہے ہیں۔ انھوں نے مزید کہاکہ مرکز نے گورنر سیے کوئی رپورٹ بھی طلب نہیں کی ہے۔ ریاست میں لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال کیسی ہے جبکہ ریاست میں لاء اینڈ آرڈر کا مسئلہ بُری طرح ابتر ہے۔ مایاوتی نے الزام عائد کیاکہ یہ دونوں پارٹیاں ایودھیا کیس پر بھی مل جل کر سیاسی کھیل کھیل رہی ہیں۔ وزیراعظم نریندر مودی نے اتوار کو مہادبا جلسہ عام کے دوران دعویٰ کیا تھا کہ سماج وادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی کے درمیان ناپاک گٹھ جوڑ پایا جاتا ہے۔ دونوں پارٹیاں رشوت ستانی کے دیگر معاملوں میں بھی ملوث ہیں۔ جب کبھی انتخابات آتے ہیں دونوں پارٹی ایک دوسرے کے خلاف رشوت کے کیسوں کو اٹھاتے ہیں۔ جب اقتدار ملتا ہے تو کوئی کارروائی نہیں کی جاتی۔

TOPPOPULARRECENT