Thursday , July 27 2017
Home / شہر کی خبریں / مودی اور کے سی آر کا تین سالہ دور حکومت مایوس کن

مودی اور کے سی آر کا تین سالہ دور حکومت مایوس کن

پولیس فائرنگ میں کسانوں کی ہلاکت پر اظہار افسوس ، اتم کمار ریڈی صدر پی سی سی
حیدرآباد ۔ 7 ۔ جون : ( سیاست نیوز ) : صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی اتم کمار ریڈی نے مدھیہ پردیش میں پولیس فائرنگ میں 6 کسانوں کی ہلاکت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مرکز میں بی جے پی ریاست میں ٹی آر ایس کے برسر اقتدار میں آنے کے بعد زرعی شعبہ بحران کا شکار ہوگیا اور کسان خود کشی کرنے پر مجبور ہورہے ہیں ۔ 2019 میں کانگریس برسر اقتدار آئے گی تلنگانہ میں 2 لاکھ روپئے تک کسانوں کے قرضہ جات یکمشت میں معاف کیے جائیں گے ۔ 24 گھنٹے برقی سربراہ کی جائے گی ۔ آج گاندھی بھون میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے یہ بات بتائی ۔ اس موقع پر کانگریس کے رکن اسمبلی ٹی جیون ریڈی سابق رکن پارلیمنٹ ملوروی بھی موجود تھے ۔ اتم کمار ریڈی نے کہا کہ مودی اور کے سی آر کا تین سالہ دور حکومت ناکام و مایوس کن ہے ۔ سماج کا کوئی بھی طبقہ دونوں حکومتوں کی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہے ۔ 70 فیصد عوام کا ملک میں زراعت پر انحصار ہے وہی شعبہ بحران کا شکار ہے ۔ تلنگانہ ، مہاراشٹرا اور مدھیہ پردیش کے علاوہ ملک کے دوسرے ریاستوں میں کسان پریشان ہیں ۔ جائز حقوق کے لیے پرامن احتجاج کرنے پر مدھیہ پردیش میں 6 کسانوں پر فائرنگ کرتے ہوئے ہلاک کردیا گیا ۔ کھمم میں مرچ کی فصل پر اقل ترین قیمت ادا کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے پرامن احتجاج کرنے والے کسانوں پر لاٹھی چارج کیا گیا ۔ ان پر ملک سے غداری کے مقدمات دائر کئے گئے اور ہتھکڑیاں لگا کر عدالت میں پیش کیا گیا ۔ وزیراعظم نریندر مودی نے کارپوریٹ سیکٹر کے دیڑھ لاکھ کروڑ روپئے کے قرض معاف کردیئے مگر کسانوں کا ایک روپیہ قرض بھی معاف نہیں کیا ۔ بی جے پی کے انتخابی منشور میں کسانوں کی فلاح و بہبود کے لیے ڈھیر سارے وعدے کیے گئے ۔ لیکن اس پر کوئی عمل آوری نہیں کی گئی ۔ ملک میں 30 اور تلنگانہ میں 3 روزانہ کسان خود کشی کررہے ہیں ۔ رضاکارانہ تنظیم ریتو سوراجیا ودیکا نے تلنگانہ کے کسانوں کے مسائل پر ایک رپورٹ تیار کی ہے ۔ جس میں گذشتہ تین سال کے دوران 2964 کسانوں کے خود کشی کرنے کا انکشاف کیا گیا ہے ۔ جن میں چیف منسٹر کے اسمبلی حلقہ گجویل میں 112 کسانوں نے خود کشی کی ہے ۔ نقلی بیج سربراہ کرنے والے کمپنیوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی اور نہ ہی نقصانات سے دوچار ہونے والے کسانوں کو کوئی معاوضہ ادا کیا گیا ہے ۔ صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی نے کہا کہ 2019 کے عام انتخابات میں کانگریس پارٹی برسر اقتدار آئے گی اور تلنگانہ میں کسانوں کے دو لاکھ روپئے تک کے قرض یکمشت میں معاف کئے جائیں گے ۔ فصلوں کی اقل ترین قیمت پر ریاستی حکومت کی جانب سے بونس بھی فراہم کیا جائے گا ۔ ساتھ ہی 24 گھنٹے برقی سربراہ کی جائے گی ۔ چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر نے کنٹراکٹرس کو 25 ہزار کروڑ روپئے ادا کئے ہیں مگر کسانوں کو ایک روپیہ بونس بھی نہیں دیا ہے ۔۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT