Wednesday , August 23 2017
Home / مضامین / مودی بہ مقابلہ کجریوال کیا خوب سودا نقد ہے، اس ہاتھ دے اُس ہاتھ لے

مودی بہ مقابلہ کجریوال کیا خوب سودا نقد ہے، اس ہاتھ دے اُس ہاتھ لے

غضنفر علی خان
پہلے ہماری جمہوریت میں لیڈروں کے درمیان اچھے اور مفید کام کرنے کیلئے مسابقت ہوتی تھی۔ بہت زمانہ پہلے کی بات نہیں آج سے 20 یا 25 سال پہلے ایسے لیڈر بھی ایک دوسرے کا احترام کرتے تھے جن میں سخت نظریاتی اختلافات ہوا کرتا تھا ۔ اب صورتحال یکسر بدل گئی ہے، سیاسی لیڈروں میں تو تو میں میں جیسے ایک چلن بن گیا ہے۔ اس میں مزید گراوٹ پچھلے ڈیڑھ دو سال سے دیکھی جارہی ہے۔ سیاسی پارٹیوں کے لیڈر ایک دوسرے کے خلاف بد زبانی ، بد کلامی کرتے ہوئے غیر پارلیمانی زبان استعمال کرنے لگے ہیں ۔ گزشتہ ہفتہ اس وقت یہ اخلاقی انحطاط اپنی آخری حد پار کر گیا جبکہ دہلی کے چیف منسٹر اروندکجریوال کی حکومت کے ایک وزیر نے کہا کہ ’’وزیراعظم مودی آئی ایس آئی کے ایجنٹ ہیں‘‘ ان کے علاوہ خود دہلی کے چیف منسٹر اروند کجریوال نے کہا کہ پٹھان کوٹ پر دہشت گردوں کے حملہ کے سلسلہ میں پاکستان کے وفد کی یہاں آمد اور اس میں (پاکستانی وفد میں) آئی ایس آئی کے ایک ایجنٹ کی مبینہ شمولیت سے ظاہر ہوتا ہے کہ ضرور وزیر اعظم پاکستان میاں نواز شریف سے وزیراعظم نریندر مودی نے کوئی رازدارانہ معاہدہ کیا ہے۔ آئی ایس آئی کا وزیراعظم کو ایجنٹ قرار دینا یا پاکستانی وزیر اعظم سے کوئی چھپی ہوئی مفاہمت کرنا نہایت سنگین الزامات ہیں ۔ اروند کجریوال  نسبتاً کم عمر لیڈر ہیں ۔ دوسری مرتبہ چیف منسٹر بنے ہیں۔ شاید انہیں اندازہ نہیں ہے کہ ’’کب کیا کہنا اور کیا نہیں کہنا چاہئے، لیکن وزیراعظم مودی تو 15 سال گجرات کے چیف منسٹر رہے ہیں اور کم و بیش دو سال سے ملک کے وزیراعظم ہیں۔ یہ بات اس لئے کہی جارہی ہے کہ دونوں کے سیاسی تجربات میں فرق ہے۔ ملک کے وزیراعظم اور کسی ریاست کے چیف منسٹر میں کوئی تقابل نہیں۔ دونوں الگ الگ منصب پر فائز ہیں ۔ دونوں اپنے بل بوتے پر انتخابات جیت کر آئے ہیں۔ برسوں بعد بی جے پی نے یکا و تنہا پارلیمنٹ میں اکثریت حاصل کرلی ہے جبکہ اس معاملہ میں عام آدمی پارٹی کے لیڈر اروند کجریوال نے مودی کو بھی میلوں پیچھے چھوڑدیا۔ انہوں نے دہلی اسمبلی کے انتخابات میں اتنی بڑی کامیابی حاصل کی تھی کہ جس کی نظیر ملنی مشکل ہے ۔ دہلی اسمبلی کی 70 سیٹوں میں سے 67 پر عام آدمی پارٹی کے امیدوار منتخب ہوئے ۔ حالانکہ جس وقت دہلی چناؤ ہوئے تھے ، وزیراعظم مودی کی عوامی مقبولیت کا گراف بہت اونچا تھا لیکن اس کے باو جود عام آدمی کی پارٹی نے دہلی اسمبلی کے چناؤ میں بی جے پی کو سیاسی یتیم بناکر رکھ دیا۔

وزیراعظم مودی کے وزارت کی بی جے پی پارٹی یا آر ایس ایس نے ذہنی طور پر عام آدمی پارٹی کی فوقیت اور برتری کو تسلیم نہیں کیا بلکہ اروند کجریوال کے خلاف خود مسٹر مودی نے ایسے الفاظ انتخابی مہم کے دوران استعمال کئے کہ خود ان کا امیج متاثر ہوا۔ دہلی انتخابات میں وز یراعظم نے کجریوال کو ’’اے کے 47 ‘‘ سے تعبیر کیا ۔ کبھی کجریوال کی ’’نکسلائٹ‘‘ کہا ، کبھی وزیراعظم یا انتخابی مہم چلانے والے دیگر لیڈروں نے یہ محسوس نہیں کیا کہ وہ جو کچھ کہہ رہے ہیں انتہائی قابل اعتراض باتیں ہیں ۔ آج پلٹ کر یہی کجریوال پٹھان کوٹ کے فوجی ہوائی اڈہ پر حملہ کی وجوہات معلوم کرنے گئے تھے، ہندوستان اور خاص طور پر پٹھان کوٹ کا دورہ کرنے کی اجازت دینے پر وزیراعظم کو پاکستان سے خفیہ مفاہمت کرنے کا الزام  عائد کر رہے ہیں ، جو کسان جس قسم کی فصل اگاتا ہے وہی کاٹتا بھی ہے ۔ جوار بو کر گیہوں کی فصل کی امید نہیں کی جاسکتی۔ کجریوال نکسلوادی نہیں ہیں، وہ ا یک عام ہندوستانی شہری ہیں، محض اتنی ہی مسابقت میں انہیں نکسلوادی قرار دینا وہ بھی وزیراعظم کی زبان سے کوئی اچھی بات نہیں تھی ۔ آج اگر عام آدمی پارٹی یا اس کے لیڈر کجریوال اور دیگر پارٹی قائدین وزیراعظم کو ’’آئی ایس آئی‘‘ کا ایجنٹ قرار دے رہے ہیں تو یہی کہا جاسکتا ہے کہ ’’کیا خوب سودا نقد ہے اس ہاتھ دے اس ہاتھ لے‘‘۔  دونوں کو زبان کے استعمال میں احتیاط برتنی چاہئے کیونکہ کسی ایک کی غلطی کسی دوسرے کی غلط  روی کا جواز نہیں بن سکتا۔ اگر یہ روشن  رہی تو ملک کے سیاسی انتظامیہ میں کوئی اخلاقی معیار باقی نہیں رہے گا۔ غیر پارلیمانی زبان ، بد زبانی یا بد کلامی ہماری جمہوریت کی نئی پہچان بنتی جارہی ہے ۔ اس سلسلہ میں زیادہ بڑی غلطی وزیراعظم کی ہے ، اگر انہوں نے زبان کے استعمال میں احتیاط کی ہوتی تو اروند کجریوال یا ان کے وزیر کو مسٹر مودی پر آئی ایس آئی ایجنٹ ہونے کا الزام لگانے کی نہ تو ضرورت ہوتی اور نہ اس کی نوبت آتی ۔ بی جے پی کے اقتدار پر آنے کے بعد سے سیاسی امور میں اخلاقی گراوٹ نے ایک خاص مقام حاصل کرلیا ہے ۔ بی جے پی کے لیڈروں میں ایک طرح کی دوڑ ہورہی ہے کہ کون کس سے زیادہ غیر دستوری اور غیر پارلیمانی زبان استعمال کرتا ہے۔ کون کس پر ا پنے سیاسی حریف کو نیچا دکھانے کیلئے کس حد تک گر سکتا ہے ۔ بی جے پی کے لیڈروں نے کئی مرتبہ  غیر دستوری بیانات دیئے ہیں ۔ تازہ ترین مثال مہاراشٹرا کے چیف منسٹر کی ہے جنہوں نے کہا ہے کہ ’’جو بھارت ماتا کی جئے کانعرہ نہیں لگاتے ہیں،

انہیں ہندوستان چھوڑدینا چاہئے‘‘۔ اگر چیف منسٹر دہلی کجریوال نے زبان کے انتخابی میں احتیاط نہیں برتی تو وہ قصوروار ہیں لیکن اس سے بڑی غلطی چیف منسٹر مہاراشٹرا نے کی ہے ، وہ تو بھارت ماتا کی جئے نہ کہنے والوں سے ہندوستان سے چلے جانے کا مشورہ دے رہے ہیں۔ دستور میں اس نعرہ پر کوئی بات نہیں کہی گئی ہے ، پھر کس بنیاد پر چیف منسٹر مہاراشٹرا بھی غیر دستوری بات کرتے ہیں۔ کجریوال یا ان کے وزیر نے وزیراعظم کے خلاف ریمارک کئے لیکن مہاراشٹرا کے چیف منسٹر نے تو ان تمام ہندوستانیوں کو حق شہریت سے محروم کرنے کی بات کہی جو بھارت ماتا کی جئے نہیں کہتے ۔ ایسے بیانات سے کچھ وہ لوگ بھی متاثر ہوتے ہیں جس کا بی جے پی یا پھر سنگھ پریوار سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ بابا رام دیو نے بھی بھارت ماتا کی جئے کہنے پر اصرار کرتے ہوئے کہا کہ ’’قانو اور دستور اجازت نہیں دیتا ورنہ وہ ان تمام افراد کے سر کاٹ دیتے جو یہ نعرہ نہیں لگاتے ہیں۔ بی جے پی کے ایک لیڈر نے دہلی یونیورسٹی کے طلبہ لیڈر کنہیا کمار کی زبان کاٹ لینے والے کو پانچ لاکھ کا انعام مقرر کیا تو دوسرے نے ان کو ختم کرنے پر 15 لاکھ کی رقم دینے کا اعلان کیا ۔ یہ سب باتیں کیا یہ ثابت نہیں کرتی ہیں کہ بی جے پی کے لیڈروں پر وزیراعظم مودی کا کوئی کنٹرول نہیں ہے ۔ ہر شخص کوئی بھی بات خواہ وہ کتنی ہی غیر قانونی ، غیر اخلاقی اور غیر دستوری کیوں نہ ہو کہنے اور دھمکی دینے کی آزادی رکھتا ہے۔ بہرحال ہمارے ملک کی سیاست میں ہر طرح کی گراوٹ آگئی ہے ۔ گراوٹ کیوں نہ آئے جبکہ کوئی بھی پارٹی خود کو اخلاقی حدود میں رکھنے کی قائل ہی نہیں رہی۔ سیاسی پارٹیاں اپنے انتخابی مفادات کی خاطر جرائم پیشہ ریکارڈ رکھنے والوں کو بھی امیدوار بنالیتی ہیں اور جب یہ عناصر انتخابات میں کامیاب ہوکر ایوان اقتدار میں پہنچ جاتے ہیں تو ان کے تیور اور بھی خطرناک ہوجاتے ہیں۔ وہ اپنے انتخاب کو ایک ایسا لائسنس سمجھنے لگتے ہیں جو ہر قسم کی اخلاقی اور قانونی پابندی سے آزادی دلا دیتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT