Sunday , September 24 2017
Home / Top Stories / ’مودی جشن ‘میں عوام کی کوئی شراکت نہیں :کانگریس

’مودی جشن ‘میں عوام کی کوئی شراکت نہیں :کانگریس

نئی دہلی26مئی (سیاست ڈاٹ کام ) کانگریس نے آج کہا کہ بی جے پی حکومت د و ہزار کروڑ روپے خرچ کرکے اپنے تین سالہ کارکردگی تعریف کرنے کے لئے جو’مودی جشن‘ منارہی ہے اس میں ملک کے عوام کی کوئی شراکت نہیں ہے کیوں کہ وہ تو جملہ باز، نعرہ باز اور کھوکھلے وعدوں والی حکومت سے اوب چکی ہے ۔کانگریس کے جنرل سکریٹری کمل ناتھ نے یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں ایک پریس کانفرنس میں بی جے پی حکومت پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی کا اصل منتر ہے ’بھاشن اور آشواسن (یقین دہانی) یہ ہے میرا شاسن (اقتدار)‘۔ یہ حکومت تین سال کے کاموں کو بیان کرنے کے لئے صرف اشتہار بازی پر دو ہزار کروڑ روپے خرچ کررہی ہے اور یہ صرف بی جے پی اور این ڈی اے کا جشن ہے اوراس میں ملک کے نوجوان، کسان، مزدوراور تاجر طبقہ شامل نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی ملک کی حکومت نے نہ تو اتنا نعرہ دیا ہے اور نہ ہی پروپیگنڈہ پر اتنی زیادہ رقم خرچ کی جتنی مودی حکومت نے پچھلے تین سال میں کی ہے ۔ لیکن حکومت ان نعروں کو عملی جامہ نہیں پہنا سکی اور حکومت ہر محاذ پر ناکام ثابت ہوئی ہے ۔  کمل ناتھ نے کہا کہ ملک میں کسان خودکشی کررہے ہیں، نوجوانوں کی ملازمتیں ختم ہورہی ہیں ،

صنعت اور کاروبار بند ہورہے ہیں اور خواتین خود کو غیر محفوظ محسوس کررہی ہیں اور مودی حکومت اپنے کاموں کا جشن منانے کیلئے پروپگینڈہ پر بے دریغ رقومات خرچ کررہی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ مجھے اس بات پر حیرت ہے کہ آخر وہ کس بات کا جشن منارہے ہیں۔ پارٹی ترجمان رندیپ سرجے والا نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ مودی برانڈ کا غبارہ جلد ہی پھٹے گا اور لفاظی کی سیاست کا پردہ فاش ہوگا ۔ ملک کے عوام کو برانڈ نہیں بلکہ رہنما کی ضرورت ہے ۔ برانڈ کی ضرورت کارپوریٹ دنیا کو ہوتی ہے ۔ روزگار پر وائیٹ پیپر جاری کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کمل ناتھ نے کہا کہ اس میں آئند ہ دو سال میں روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لائحہ عمل کی تفصیل ہونی چاہئے ۔مودی حکومت نے ہر سال دو کروڑ لوگوں کو روزگار دینے کا وعدہ کیا تھا لیکن 2015میں صرف ایک لاکھ 35 ہزار روزگار ہی دئے گئے ۔ ویاپم کو ملک کا سب سے بڑا اسکام قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس میں پیسہ دینے والے تو جیل گئے لیکن جنہوں نے رشوت لی ان کا کچھ نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ نوٹ بندی سے کتنا کالا دھن باہر نکلا حکومت کے پاس اس کا ریکارڈ نہیں ہے ۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT