Tuesday , August 22 2017
Home / مضامین / مودی جی ’’کچھ تو کہے کہ لوگ کہتے ہیں‘‘

مودی جی ’’کچھ تو کہے کہ لوگ کہتے ہیں‘‘

غضنفر علی خان
امریکہ کی حکومت کی بنائی ہوئی کمیٹی برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی نے 2 نومبر 2016ء کو ہندوستان میں مذہبی آزادی کی صورتحال پر اپنی رپورٹ میں بہت ساری باتوں کا تذکرہ کیا۔ امریکہ خود بھی ان برائیوں کا شکار ہے جو رپورٹ میں ہندوستان کے تعلق سے کہی گئی ہیں۔ مذہبی آزادی کا دعویٰ کم از کم امریکہ نہیں کرسکتا کیونکہ مذہبی آزادی یہاں بھی تیزی سے ختم ہورہی ہے۔ پچھلے چند برسوں کے دوران امریکہ کے مختلف شہروں میں وہاں بسنے والی اقلیتوں کے ساتھ سنگین ناانصافیاں ہورہی ہیں۔ گردواروں، مساجد اور مندروں پر حملے اور انہیں تباہ و تاراج کرنے کے واقعات نے یہ پول کھول دی ہیکہ امریکہ میں کسی مذہب کے تعلق سے کوئی تعصب نہیں پایا جاتا۔ سکھوں کے علاوہ امریکہ میں لاکھوں کی تعداد میں برسوں سے آباد مسلمان بھی انتہائی درجہ کے مذہبی تعصب کا شکار بنائے جارہے ہیں۔ حجاب استعمال کرنے والی مسلم خواتین کو طیاروں سے اتار دیا جاتا ہے۔ انہیں روک کر ان سے بے معنی سوالات کئے جاتے ہیں۔ یہ کام بڑے امریکی شہروں میں زیادہ شدت اختیار کر گیا ہے۔ اس داخلی صورتحال کے علاوہ کئی بے قصور مسلمانوں کو قید و بند میں رکھ کر کئی سال سے انہیں ایذا پہنچائی جارہی ہے۔ آج ہندوستان میں اگر مذہبی اقلیتیں خود کو غیرمحفوظ سمجھنے لگی ہیں تو اس میں بھی سچائی ہے لیکن امریکہ جیسے ملک کو ہمارے ملک میں مذہبی تعصب، تنگ نظری اور عدم رواداری کے لئے تنقید کا نشانہ بنانا اور ایک سرکاری کمیشن کی رپورٹ میں باقاعدہ طور پر اس کی تفصیلات شائع کرنا امریکہ کیلئے ایسا ہے جیسے ’’کیریلا نیم کے پیڑ سے کہہ رہا ہے کہ تو بہت کڑوا ہے‘‘۔ اس امریکی رپورٹ پر ہندوستان نے سخت احتجاج کرتے ہوئے اس کو مسترد کردیا۔ ہندوستانی وزارت خارجہ کے سکریٹری مسٹر سروپ نے صفائی پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان ایک ایسا ملک ہے جہاں مختلف رنگ و نسل اور مذہبی عقائد کے لوگ بستے ہیں اور یہاں نہایت مضبوط جمہوریت ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہندوستانی دستور نے اپنے ہر شہری کو تمام بنیادی حقوق کی ضمانت فراہم کی ہے جس میں مذہبی عقیدہ کی آزادی بھی شامل ہے۔ ان باتوں کے علاوہ مسٹر سروپ نے یہ بھی کہا ہیکہ ’’ہندوستانی حکومت کے خیال میں‘‘ کسی بیرونی ملک کے کسی کمیشن جیسا کہ امریکہ کے ایک ادارہ نے کہا ہے ہمارے ملک میں مذہبی آزادی کے فقدان کا ذکر کرنے کا حق نہیں دے سکتی۔ قانونی طور پر ان کی یہ بات صحیح بھی ہوسکتی ہے۔ یہ رپورٹ ہندوستان کے تعلق سے نہیں ہے بلکہ اس کا Shorp Focus ہندوستان کی موجودہ حکومت ہے۔ آج تک کبھی کسی بیرونی ملک نے ہندوستان میں مذہبی آزادی کے کمزور ہونے کی بات کہنے کی اس لئے جرأت نہیں کی کہ ابھی تک جتنی بھی حکومتیں آئیں اور گئیں ان میں کبھی برسراقتدار پارٹی کے چند مخصوص لیڈروں کو اقلیتوں کے تعلق سے زبان درازی کرنے کی ایسی کھلی اجازت نہیں دی گئی تھی جیسے آج ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ 2015ء کے بعد سے آج تک مذہبی اقلیتوں کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں، زیادتیوں اور ان کے عقیدہ پر ضرب لگانے کی منظم کوشش کبھی نہیں ہوتی۔ اگر اکا دکا واقعہ میں حکومت نے ایسا کرنے والوں کو کیفرکردار تک پہنچایا ہوتا۔ مودی جی ایسا نہیں کرسکے اور شاید ایسا کر بھی نہیں سکتے کیونکہ جن بی جے پی لیڈروں کی منہ زوریوں کا ذکر رپورٹ میں کیا گیا ہے ان میں بی جے پی کے ممتاز لیڈر یوگی آدتیہ ناتھ، ساکشی مہاراج کا حوالہ دیا گیا ہے۔ امریکہ پر تنقید کرنے کا ہمارے ملک کو حق ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہندوستان کے مختلف پارٹیوں کے لیڈروں نے ان دونوں بی جے پی لیڈروں کے بارے میں یہ نہیں کہا کہ یہ دونوں اور کچھ دیگر اپنی تقریروں اور بیانات میں مسلم اقلیت کے خلاف مسلسل زہرافشانی کررہے ہیں۔ صورتحال اس لئے پیدا ہوئی کہ مودی نے وزیراعظم ہونے کے باوجود کبھی زہرافشانی کرنے والے اپنی پارٹی کے ان لیڈروں کے خلاف کوئی اقدام نہیں کیا۔ اس سچائی سے بھلا کیا انکار کیا جاسکتا ہے کہ بی جے پی کے اقتدار پر آنے کے بعد اور وزارت عظمیٰ پر مودی کے فائز ہونے کے بعد تو بی جے پی کے بعض لیڈروں کے دل و دماغ سے دستور کا احترام اور قانون کا خوف ہی ختم ہوگیا۔ ان چند لیڈروں کے خلاف کسی قسم کی کارروائی کے نہ ہونے سے بی جے پی کے کئی چھوٹے لیڈروں کو بھی حوصلہ ملا اور اقلیت کے خلاف زبانی دہشت گردی کا ایک سلسلہ چل پڑا۔ ایک ٹی وی مباحثہ میں بی جے پی کے لیڈر ظفر سریش والا اور ایک خاتون نے تو یہ کہہ کر وزیراعظم نے مذہبی تنگ نظری کے خلاف سخت وارننگ دی ہے سفید جھوٹ کی بھی ساری حدوں کو پار کردیا۔ مودی جی نے کوئی ایک کام نہیں کیا اور زبانی دہشت گردی کرنے والوں کو چھوٹ دیتے رہے۔ یہ کہنا اس وقت صرف ہمارے ملک میں عدم رواداری نہیں ہے تمام حقائق کو جھٹلانے کے مترادف ہے۔ ایک سوال امریکی رپورٹ کے بارے میں بی جے پی کے لیڈروں اور خاص طور پر مودی جی سے کرنا چاہئے کہ کیوں 2015ء کے بعد ہی سے عدم رواداری، مذہبی تعصب کا ماحول پیدا ہوا۔ اس سے پہلے بھی کسی پارٹی کے کچھ لیڈر مذہبی عصبیت اور تنگ نظری کا مظاہرہ کرتے رہے ہوں گے لیکن اس برائی کو باقاعدہ ایک تحریک بنا لینے کا کام تو بی جے پی کی حکومت ہی نے کیا ہے۔ 2015ء کے بعد سے ہی کیوں ملک میں اقلیتیں خود کو غیرمحفوظ سمجھنے لگی ہیں۔ کیوں بی جے پی کے دور ہی میں دادری میں محمد اخلاق کا بے رحمی سے قتل ہوا۔ کیوں اترپردیش کے بعض شہروں میں مسلمانوں کو زبردستی یا پھر جھوٹی ترغیبات دے کر ہندو دھرم میں شامل کیا گیا۔ کیوں 2015ء میں ملک کا دورہ کرنے والے امریکی صدر بارک اوباما نے کہا تھا کہ ’’ہندوستان کی عظمت اس کی ’’تکثیریت‘‘ میں ہے۔ جب تک ہندوستان میں ہمہ مذہبی روایات برقرار رہے گی تب تک یہ ملک ترقی کی منازل طئے کرتا رہے گا۔ مسٹر مودی سوچئے کہ کیوں آپ ہی کے دورحکومت میں امریکی صدر نے آپ کو مشورہ دیا کہ مذہبی تنگ نظری ہندوستان کے وجود کیلئے سب سے بڑا خطرہ ہے۔ ماضی میں کسی بیرونی ملک کے سربراہ کو یہ کہنے کی ضرورت نہیں محسوس ہوئی کہ ہندوستان میں تکثیریت باقی رہنی چاہئے۔ آج ہمارا ملک ساری دنیا میں بدنام ہورہا ہے۔ لوگ طرح طرح کی باتیں، طرح طرح کے اعتراضات کررہے ہیں تو آپ کو وزیراعظم کی حیثیت سے یہ سوچنا چاہئے کہ ’’کہتی ہے خلق خدا غائبانہ کیا۔ مسلم اس شتر مرغ کی طرح نہیں رہ سکتے جو ریت کے طوفان کے وقت خود ریت کے ڈھیر میں چھپ کر یہ سمجھتا ہے کہ یہ ریگستانی طوفان گذر جائے گا۔ طوفان تو گذر جاتا ہے لیکن ریت کے تودے اس نادان شتر مرغ کو ختم کردیتے ہیں۔ امریکی رپورٹ تو آج کل کی بات ہے یہ بات ہمیں سوچنی پڑے گی کہ دنیا میں عالمی سطح کے اور کئی ادارے ہیں جو نہ صرف ہمارے ملک کی داخلی صورتحال پر ناقدانہ نظر رکھتے ہیں بلکہ دنیا کے کئی ممالک ان کی نظر میں ہیں۔

TOPPOPULARRECENT