Monday , August 21 2017
Home / شہر کی خبریں / ’’ مودی حکومت، چومُکھی آدم خور کے مترادف ‘‘: یچوری

’’ مودی حکومت، چومُکھی آدم خور کے مترادف ‘‘: یچوری

معاشی پالیسی ، فرقہ وارانہ سیاست، مطلق العنانی اور خارجہ پالیسی مرکزی حکومت کے چار روپ
حیدرآباد۔/16اگسٹ، ( پی ٹی آئی؍ این ایس ایس ) سی پی آئی( ایم ) کے جنرل سکریٹری سیتا رام یچوری نے نریندر مودی حکومت کو آدم خور بہروپیہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ چار صورتوں کی حامل بہروپ مودی حکومت کی ایک صورت اس کی معاشی پالیسی ہے جس کے ذریعہ وہ عوام کو مجروح کررہی ہے۔ ’ فرقہ وارانہ سیاست‘ ’ چومکھی ‘ مودی حکومت کی دوسری صورت ہے۔ تیسری صورت ’ مطلق العنانی ‘ اور چوتھی صورت اس کی ’ خارجہ پالیسی ‘ ہے۔ سیتا رام یچوری نے جو آج سی پی آئی ایم کی تلنگانہ یونٹ کے کھلے اجلاس سے خطاب کررہے تھے نریندر مودی حکومت کی قومی، بین الاقوامی اور معاشی پالیسی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ بالخصوص یوم آزادی کے موقع پر قوم سے خطاب کے موقع پر وزیر اعظم نریندر مودی کی طرف سے گلگت اور بلوچستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا حوالہ دیئے جانے کی مذمت کی اور کہا کہ ان کی اس ناعاقبت اندیشی سے پاکستان کو بھی مسئلہ کشمیر کو ایک بین الاقوامی مسئلہ بنانے کا موقع فراہم ہوگا۔ یچوری نے حکومت سے مسئلہ کشمیر کا سیاسی حل تلاش کرنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ کشمیر کی موجودہ صورتحال کو محض امن و قانون کا مسئلہ نہیں سمجھا جانا چاہیئے اور مودی حکومت مسئلہ کشمیر کا حل تش کرنے کے بجائے پاکستان پر الزا م تراشی کرتے ہوئے اپنی ذمہ داری سے فرار ہونے کی کوشش کررہی ہے۔ یچوری نے دلتوں پر حملوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’ گاؤ رکھشک بہت بڑھ گئے ہیں‘‘ سیتا رام یچوری نے مودی کے یوم آزادی خطاب کو جھوٹ کا پلندہ قرار دیا اور الزام عائد کیا کہ ہروقت ایک نیا نعرہ دینے والے نریندر مودی نے اس مرتبہ بھی ایک نیا نعرہ ہی دیا لیکن 90 منٹ طویل خطاب کے دوران کسی بھی مسئلہ پر واضح موقف بیان کرنے میں ناکام ہوگئے۔ یچوری نے کہا کہ مودی گذشتہ دو سال سے مسلسل کہہ رہے ہیں کہ ہندوستان ترقی کررہا ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ یہ ترقی کیا ہے اور کہاں ہوئی ہے۔ 2015کے دوران دیہی شرح آمدنی صفر فیصد رہی اور روزگار کی شرح میں 60فیصد کمی ہوئی۔ زرعی شعبہ سنگین بحران سے دوچار ہے ،پریشان حال کسان خودکشی کررہے ہیں لیکن حکومت کہہ رہی ہے کہ کسان قرض کے سبب نہیں بلکہ دوسری وجوہات کی بناء پر خودکشی کررہے ہیں۔ زرعی اشیاء کی قیمتوں میں اگرچہ بے پناہ اضافہ ہوا ہے صنعتی پیداواری شعبہ صورتحال سنگین ہے جہاں 2015 کے دوران روزگار کی فراہمی منفی 0.07 فیصد رہی۔

TOPPOPULARRECENT