Wednesday , July 26 2017
Home / اداریہ / مودی حکومت اور ملزمین کی حوالگی مسئلہ

مودی حکومت اور ملزمین کی حوالگی مسئلہ

کانگریس زیر قیادت یو پی اے حکومت کے دور میں بدعنوانیوں کا ارتکاب کرنے والے خانگی افراد کو کھلی چھوٹ دینے کے الزامات کا سامنا کرنے والی قومی پارٹی کو اب وجئے ملیا اور للت مودی جیسے مفرور افراد کے خلاف مرکز کی مودی حکومت کی کارروائیوں سے دھکہ پہونچے گا ۔ کانگریس نے وجئے ملیا کی ملک سے فراری کے بعد سے مودی حکومت کو شدید نشانہ بنانا شروع کیا تھا ۔ اپنے وقت کے بے تاج بادشاہ سمجھے جانے والے وجئے ملیا کے خراب کرماؤں نے انہیں نشانوں کے شکنجہ میں کس دیا ہے ۔ لندن میں ان کی گرفتاری کے چند گھنٹوں بعد اگرچیکہ برطانوی قانون کے دفعات کے مطابق ویسٹ منسٹر کورٹ نے مشروط ضمانت پر رہا کردیا ہے مگر ان کی گرفتاری سے اس مرتبہ یہ تو پیام ملا ہے کہ اب وہ پہلے کی طرح آزادی کے ساتھ آرام طلب یا لکثرری لائف نہیں گذار سکیں گے کیوں کہ قانون کی نظریں ان پر ٹکی ہوئی ہیں ۔ ملک سے مفرور لوگوں کے خلاف مودی حکومت کی کارروائی سے ان تمام مفرور افراد کو یہ سخت پیام ضرور جائے گا کہ اب ان کے دن دور نہیں ہیں دھوکہ دہی ، قرض کی عدم ادائیگی اور چیکس باونس کیسوں میں ملوث وجئے ملیا ، ڈپلومیٹ پاسپورٹ کے سہارے 2 مارچ 2016 کو ہندوستان سے فرار ہوئے تھے ۔ وجئے ملیا کی اس گرفتاری اور رہائی سے مودی حکومت کی کوششوں کو ظاہر کرنے کے لیے بی جے پی کے قائدین جیسے ایم پی سبرامنیم سوامی ، وزیر فینانس ارون جیٹلی مملکتی وزیر فینانس سنتوش گانگوار ، جتندر سنگھ اور دیگر نے وزیراعظم مودی کی مداح سرائی میں ٹی وی چیانلوں کا خوب فائدہ اٹھایا ہے ۔ آئندہ 2019 کے عام انتخابات کی تیاریوں میں مصروف بی جے پی نے آئندہ وزارت عظمیٰ کا عہدہ مودی کے نام لکھدیا ہے تو اب وہ وجئے ملیا اور دیگر باتوں کو مودی حکومت کا کارنامہ قرار دے کر خوب تشہیر کریں گے ۔ ایک اپوزیشن کی حیثیت سے کانگریس کے کمزور موقف نے بی جے پی کے امکانات کو قوی کردیا ہے ۔ وجئے ملیا کے داخلی میلس کے افشا ہونے کے بعد یہ بات سامنے آئی تھی کہ شراب کے اس بیوپاری نے اس وقت کے وزیراعظم منموہن سنگھ اور اس وقت کے وزیر فینانس پی چدمبرم سے ملاقات کی تھی ۔ اس ای میلس کے افشا ہونے کے بعد کانگریس پارٹی شدید دباؤ کا شکار ہوچکی تھی ۔ اب لندن میں گرفتاری اور مقدمہ بازی کا مرحلہ پورا ہونے تک دہلی کی سیاست میں کیا اتھل پتھل ہوگی یہ اپوزیشن کانگریس کے مضبوط موقف پر منحصر ہے ۔ جہاں تک وجئے ملیا کی ہندوستان کے حوالے کرنے کا سوال ہے یہ دہلی دور است کے مترادف ہے کیوں کہ ہندوستان کو حوالگی کے معاملہ میں حکومت برطانیہ اور اس کے قانون میں ایک لچک پائی جاتی ہے ۔ وجئے ملیا کو ہندوستان لانے کے لیے مودی حکومت کو ایک طویل عمل سے گذرنا پڑے گا ۔ فی الحال ان کی گرفتاری کا جشن منانے والی بی جے پی حکومت کے لیے فوری طور پر دھکہ لگا کہ برطانوی عدالت نے چند منٹوں میں انہیں رہا کردیا ۔ اپنی رہائی کے فوری بعد ٹوئیٹ کرنے والے ملیا نے مودی حکومت کو انگوٹھا دکھانے ایک لمحہ ضائع نہیں کیا ۔ اگر ملک سے مفرور افراد کے معاملہ سے نمٹنے میں مودی حکومت ملزمین کی گرفتاری اور ملک کی حوالگی پر کوشش سے زیادہ اپنی تشہیر کی خاطر ڈرامائی کوشش کرے گی تو اس کا آئندہ انتخابات میں کوئی فائدہ نہیں ہوگا ۔ ماضی کے تجربات اور طویل قانونی عوامل کو دیکھتے ہوئے یہ واضح ہونا چاہئے کہ وجئے ملیا کو ہندوستان لانا مشکل ہے ۔ وجئے ملیا ، ہندوستان کو مطلوب پہلے فرد نہیں ہیں برطانیہ میں مقیم دیگر بااثر افراد میں للت مودی ، روی شنکرن ( سابق بحری جنگ روم افشا کیس ) ندیم سیفی ( گلشن کمار قتل کیس ) اور ٹائیگر حنیف ( گجرات دھماکے ) ملزم شامل ہیں ۔ اب تک صرف ایک ملزم سمیر بھائی وینو بھائی پٹیل کی ہندوستان کو حوالگی عمل میں آئی ہے ۔ 2002 گجرات فسادات میں ملوث ہونے کی وجہ سے وہ ہندوستان کو مطلوب تھے ۔ اس حوالگی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ پٹیل نے اپنی حوالگی کی مخالفت نہیں کی تھی مگر ماباقی ملزمین کو ہندوستان واپس لانا مودی حکومت کے لیے نا ممکن نہیں مشکل ضرور ہے ۔ وجئے ملیا کی گرفتاری کے فوری بعد  مودی حکومت اور اس کے حامی میڈیا نے جس طرح کی مدح سرائی کر کے تعریفوں کے قلعہ باندھ دیئے تھے اس طرح کی شعبدہ بازی حکومت کی نیت اور اصل ملزمین کے خلاف کارروائی میں پوشیدہ حقائق پر شبہ ہوتا ہے ۔۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT