Monday , August 21 2017
Home / Top Stories / مودی حکومت میں مسلمان اور دلت نشانہ

مودی حکومت میں مسلمان اور دلت نشانہ

Lucknow: Uttar Pradesh Chief Minister Mayawati addressing a press conference in Lucknow on Tuesday. PTI Photo by Nand Kumar (PTI6_21_2011_000125B)

اچھے گاو رکھشکوں سے متعلق بھاگوت کے بیان کی مذمت : مایاوتی
لکھنو 11 اکٹوبر ( سیاست ڈاٹ کام ) گائے کے تحفظ کیلئے قانونی دائرہ میں کام کرنے والے ’’ بے شمار اچھے لوگوں ‘‘ کی حمایت کرنے والے آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت کے ریمارکس کی مذمت کرتے ہوئے بی ایس پی کی سربراہ مایاوتی نے آج کہا کہ غیر قانونی ‘ پر تشدد انداز میں اور ذات پات کی بنیاد پر کام کرنے والوں کی ستائش کرنے کو قومی مفاد کا کام قرار نہیں دیا جاسکتا ۔ مایاوتی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ عوامی جذبات کے خلاف جاتے ہوئے اور گاو رکھشکو کی تائید کو قومی مفاد کا کام قرار نہیں دیا جاسکتا کیونکہ یہ گاو رکھشک غیر قانونی انداز میں اور پر تشدد طریقہ سے ذات پات کی بنیادوں پر کام کرتے ہیں۔ حقیقی گاو رکھشکوں کی شناخت کرنے بھگوت کے بیان کو انہوں نے متعصب فرقہ وارانہ ذہنیت قرار دیا اور کہا کہ آر ایس ایس کو گاو سیوا عدم تشدد کے عمل پر غور کرنا چاہئے نہ کہ گاو رکھشا پر ۔ گاو رکھشا کے نام میں تشدد ہے اسی سے اونا جیسے واقعات ہوتے ہیں۔ یہ الزام عائد کرتے ہوئے کہ گاو رکھشا کے نام پر پر تشدد واقعات بی جے پی اقتدار والی ریاستوں میں پیش آ رہے ہیں مایاوتی نے کہا کہ جب سے مودی حکومت اقتدار پر آئی تھی پہلے مسلمانوں کو اور اب دلتوں کو گائے کے تحفظ کے نام پر نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔ اس سب کے باوجود آر ایس ایس سربراہ گاو رکھشا والوں کی حمایت کر رہے ہیں

TOPPOPULARRECENT