Wednesday , June 28 2017
Home / Top Stories / مودی حکومت میں ہند۔ اسرائیل تعلقات مزیدنمایاں

مودی حکومت میں ہند۔ اسرائیل تعلقات مزیدنمایاں

وزیراعظم کے دورہ اسرائیل سے قبل اسرائیلی سفیر ڈینیل کارمن سے ملاقات ‘ہند ۔اسرائیل سفارتی تعلقات کے 25سال مکمل

نئی دہلی ۔ 23اپریل ( سیاست ڈاٹ کام) ہند ۔ اسرائیل تعلقات مودی حکومت میں مزید نمایاں ہوگئے ہیں ۔ اسرائیل نے اس کی ستائش کرتے ہوئے آج کہاکہ ہندوستان کی پالیسی یہودی مملکت کے ساتھ اور عرب ممالک کے ساتھ مستحکم ہے ۔ اس کا پیغام وزیراعظم کے مجوزہ دورہ اسرائیل سے ملتا ہے ۔ امکان ہے کہ وزیراعظم جولائی میں اسرائیل کا دورہ کریں گے ۔ اسرائیل کے سفیر برائے ہند ڈینیل کارمن نے آج اُن سے ملاقات کر کے دفاعی تعلقات میں گہرے تعاون کی ضرورت پر زور دیا ۔ اسرائیل ‘ہندوستان کے ساتھ کئی شعبوں میں تعاون کررہا ہے جن میں دفاع ‘ صیانت ‘ زراعت ‘ تعلیمات اور ثقافت کے شعبے شامل ہیں ۔ کارمن نے پی ٹی آئی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ہند ۔اسرائیل تعلقات نریندر مودی کے برسراقتدار آنے کے بعد مزید نمایاں ہوگئے ہیں ۔ یہودی مملکت اس تبدیلی کا احترام کرتی ہے ۔ ہندوستان کی پالیسی اسرائیل اور عرب ممالک کے ساتھ مساوی ہے اور ہندوستان سے ان تمام ممالک کو ایک مثبت پیغام گیا ہے ۔ ہر اہم شعبہ میں دونوں ممالک کے تعلقات میں نمایاں پیشرفت نریندر مودی کے برسراقتدار ہونے کے بعد آئی ہے اور اسرائیل اس تبدیلی کا خیرمقدم کرتا ہے ۔ موجودہ این ڈی اے حکومت کی اسرائیل سے تعلقات کے سلسلہ میں پالیسی سابق منموہن سنگھ حکومت کی بہ نسبت زیادہ شفاف ہے اور اسرائیل کے ساتھ ہندوستان کے تعلقات پوشیدہ نہیں ہے ۔ ہندوستان اور اسرائیل اپنے سفارتی تعلقات کے 25کی تکمیل پر جاریہ سال ایک تقریب منعقد کررہے ہیں ۔ توقع ہے کہ وزیراعظم مودی جولائی میں مشرق وسطی کے اس ملک کا دورہ کریں گے اور اس موقع پر دونوں ممالک کلیدی شعبوں میں باہمی تعلقات کے استحکام کو قطعیت دیں گے ۔ ماضی کی بہ نسبت دونوں ممالک کے تعلقات عروج پر ہیں لیکن یہ آخری عروج نہیں ہے جو کبھی نہیں آئے گا کیونکہ ہم وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ تعلقات مزید مستحکم کرتے رہیں گے ۔ فی الحال ہم باہمی تعلقات کے گذشتہ 25سال کا جائزہ لے رہے ہیں اور اپنے کارناموں کی تقریب منارہے ہیں ۔ کارمن نے کہا کہ ہند ۔ اسرائیل تعلقات خوشگوار ہیں لیکن ہندوستان کے تعلقات عرب ممالک کے ساتھ یکساں طور پر خوشگوار ہیں ۔ آج کل مشرق وسطی ٰ میں تبدیلیاں آرہی ہیں ۔ چند عرب ممالک سے اسرائیل کے خوشگوار تعلقات قائم ہوگئے ہیں ‘ دیگر عرب ممالک سے اسرائیل کے مفادات مشترک ہیں ۔ ہم ایران سے ابھرنے والے خطرہ کو اچھی طرح سمجھتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل ہندوستان کی پالیسی کا احترام کرتا ہے جو اس کے پڑوسی عرب ممالک سے بھی خوشگوار تعلقات رکھتا ہے ۔ ساتھ ہی ساتھ اسرائیل کے ساتھ بھی ہندوستان کے تعلقات خوشگوار ہیں ۔انہوں نے کہا کہ عربوں کے خلاف ہندوستان میں کبھی کوئی احتجاج نہیں ہوا ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہندوستان پُرامن بقائے باہم پر یقین رکھتا ہے ۔ یہ ہندوستان کی جانب سے ایک اہم اور مثبت پیغام ہے جسے اسرائیل میں احترام کے ساتھ قبول کیا جاتا ہے ۔

وزیراعظم مودی کا مجوہ دور ہ اسرائیل ، دفاعی معاہدے متوقع
ہندستانی وزیراعظم کا آئندہ ماہ جولائی میں یہودی مملکت کا پہلا دورہ
نئی دہلی ۔ /23 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) ہندوستانی بحریہ کے لئے ایک فضائی دفاعی نظام کے حصول کے بشمول بہت بڑے دفاعی معاہدوں کی تکمیل کی توقع کے ساتھ وزیراعظم نریندر مودی کا آنے والے دورہ اسرائیل کو اہمیت دی جارہی ہے ۔ کیوں کہ کسی ہندوستانی وزیراعظم کا یہ پہلا دو رہ یہودی مملکت ہوگا ۔ اس دورہ سے قبل ہی جو جولائی میں ہونے والا ہے  اسرائیل کے سفیر ڈانیل کارمون نے کہا کہ یہ ایک بہت بڑا دورہ ہے ۔ اس سے کئی اہم شعبوں میں بڑے پیمانہ پر دونوں ملکوں کے درمیان تعاون کا مظہر ہوگا ۔ مودی کے دورہ تل ابیب کے موقع پر دونوں ملکوں ہند ۔ سرائیل کے درمیان مارک 8 ایر ڈیفنس میزائیل سسٹم کے لئے بھی معاہدہ ہوگا ۔ ہند ۔اسرائیل تعلقات میں بہت بڑی پیشرفت بھی ہوگی ۔ یہ نہایت اہم ترین دورہ ہے ۔ مودی کے اس دورہ کو دونوں ملکوں کے درمیان 25 سال سے قائم سفارتی تعلقات کو ایک نئی جہت کے طور پر دیکھا جارہا ہے ۔ اسرائیل کی ہندوستان کے ساتھ دوستی کے علاوہ دفاع کے بشمول کئی شعبوں میں تعاون اور معاہدے ہوئے ہیں ۔ ہندوستان ہی سب سے بڑا ملک ہے جو اسرائیل کے ملٹری ہارڈ ویر خریدنا ہے ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT