Sunday , August 20 2017
Home / Top Stories / مودی حکومت پر سونیا کی کراری تنقید ، سماج میں تفرقہ ڈالنے کا الزام

مودی حکومت پر سونیا کی کراری تنقید ، سماج میں تفرقہ ڈالنے کا الزام

مختلف اداروں کو غیرمستحکم کرنے کی سازش ، دستوری اقدار سے انحراف ، پارلیمانی اکثریت من مانی حکومت کا لائیسنس نہیں
نئی دہلی ۔ 20 جولائی۔(سیاست ڈاٹ کام) نریندر مودی حکومت پر کرارے حملے میں صدر کانگریس سونیا گاندھی نے آج اُس کو مختلف اداروں کو غیرمستحکم کرنے ، سماج میں تفرقہ ڈالنے اور اپنی پارلیمانی اکثریت کو عوام پر اپنی کوتاہ نظر سوچ کو مسلط کرنے کے لائیسنس پر محمول کرلینے کا مورد الزام ٹھہرایا ۔ پارلیمنٹ کے جاریہ مانسون سیشن کے دوران کانگریس پارلیمانی پارٹی کی پہلی میٹنگ سے خطاب میں سونیا گاندھی نے حکومت کی دھوکہ دہی کی عادت ، شعبدہ بازی والے نعروں اور دلتوں ، آدی واسیوں کے حقوق صلب کرنے کی روش پر بھی سخت تنقید کی اور خصوصیت سے گجرات واقعہ کا حوالہ دیا جہاں چار دلتوں کو زدوکوب کرتے ہوئے سرعام ذلیل کیا گیا۔ صدر کانگریس نے گجرات معاملے کو موجودہ مرکزی حکومت کی سماجی دہشت گردی کی محض ایک مثال قرار دیا۔ گزشتہ چند ماہ میں ہم نے دیکھا ہے کہ مودی حکومت کس طرح مختلف اداروں کو غیرمستحکم کرتے ہوئے ہمارے سماج میں تفریق پیدا کررہی ہے اور دستوری اقدار کی دھجیاں اُڑائی جارہی ہے ۔

مودی حکومت نے اپنی پارلیمانی اکثریت کو غلطی سے ایسا لائیسنس سمجھ لیا ہے کہ عوام پر اپنے نظریہ کو مسلط کیا جائے ۔ ایسا لگتا ہے کہ حکومت یہ فراموش کرچکی ہے کہ پارلیمانی اکثریت کو کبھی یہ وجہ نہیں سمجھا جاسکتا کہ دستوریت پر عمل درآمد اور دستوری اصولوں کو ترک کردیا جائے ۔ سونیا گاندھی نے وادی کشمیر میں جاری بدامنی کا بھی حوالہ دیا ، جہاں حزب المجاہدین کمانڈر برہان وانی کی ہلاکت کے بعد گزشتہ 11 یوم سے افراتفری کا ماحول ہے اور جھڑپوں میں زائد از 40 جانیں تلف ہوچکی ہیں۔ وادی کے حالیہ واقعات پر افسوس ہوتا ہے اور یہ ملک کے لئے سنگین خطرہ ہے ۔ قومی سلامتی پر کوئی مفاہمت نہیں ہوسکتی ۔ عسکریت پسندوں سے ضرور سختی سے نمٹا جائے لیکن ہم خود پر یہ سمجھنا لازم کرلیں کہ متعدد نوجوان لوگوں کو آخر کس چیز نے تشدد کی راہ اختیار کرنے پر مجبور کیا ہے۔

وزیراعظم کی خارجہ پالیسی پر سوال اُٹھاتے ہوئے صدر کانگریس نے کہاکہ وزیراعظم بار بار بیرون ملک سفر کرتے ہیں پھر بھی مودی حکومت اپنی خارجہ پالیسی میں عدم ارتباط کی کس طرح وضاحت کرپائے گی ۔ عالمی قائدین سے اُن کی وقفہ وقفہ سے ملاقاتیں ہوتی ہیں اور سالگرہ کے موقع پر وہ مبارکبادیاں بھی دیتے ہیں۔ اس کے باوجود پاکستان کے تئیں حکومت کی پالیسی اور حقیقی صورتحال میں بہت بڑی خلیج معلوم پڑتی ہے ۔ حکومت ایسا لگتا ہے کہ سکیورٹی اور ڈیفنس کے بارے میں ملک کے موقف کو تبدیل کررہی ہے اور اُن پالیسیوں سے انحراف کیا جارہا ہے جو آزمائش کے کئی موقعوں پر درست ثابت ہوچکی ہیں۔ سونیا گاندھی نے کہاکہ فیصلہ سازی میںمودی حکومت کا مبہم موقف اس کے اعتبار پر سوالیہ نشان لگاچکا ہے ۔ انھوں نے کہاکہ حکومت کارہائے نمایاں کے بلند بانگ دعوے کرتے ہوئے عوام کو دھوکہ میں مبتلا کررہی ہے ۔ برسراقتدار پارٹی کے لئے دھوکہ دہی کوئی نئی بات نہیں ۔ اس معاملے میں وہ ہُنر رکھتے ہیں۔ دو سالہ اقتدار کی تکمیل کے موقع پر انھوں نے ایسا ماحول پیدا کرنے کی کوشش کی کہ حکومت بہت کچھ کارہائے نمایاں انجام دے چکی ہے لیکن آپ بتائیے کہ فی الواقع کیا نمایاں کام انجام پائے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT