Saturday , October 21 2017
Home / سیاسیات / ’ مودی حکومت کا دوستوں سے زیادہ دشمن پر بھروسہ ‘

’ مودی حکومت کا دوستوں سے زیادہ دشمن پر بھروسہ ‘

پٹھان کوٹ حملہ پر پاکستانی ٹیم کی رپورٹ پر شیوسینا کا ردعمل

ممبئی ۔ 6 ۔ اپریل : ( سیاست ڈاٹ کام) : پاکستانی میڈیا کی ان اطلاعات پر کہ بادی النظر میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے یہ پایا کہ پٹھان کوٹ دہشت گردانہ حملہ ، ہندوستان کا ایک ڈرامہ تھا ۔ شیوسینا نے آج مرکز کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ پڑوسی ملک کا سرخ قالین پر استقبال کا یہ نتیجہ برآمد ہوا ہے ۔ پارٹی ترجمان سامنا کے اداریہ میں کہا گیا ہے کہ شیوسینا نے بارہا حکومت کو خبردار کیے جانے کے بعد یہ موقع فراہم کیا گیا کہ پاکستان کا موقف درست ہے جب کہ حکومت ہند کی جانب سے فراہم کردہ تمام ثبوتوں کو پاکستانی تحقیقاتی ٹیم نے مسترد کردیا ہے ۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ نہ صرف ہندوستانی ثبوتوں کو مسترد کردیا گیا بلکہ غیر دانشمندانہ طریقہ سے نتائج بھی اخذ کرلیے گئے ۔ حتی کہ سرحد پار سے آئے ہوئے دہشت گردوں کے حملہ کو ہندوستان کا ڈرامہ قرار دیا ۔ شیوسینا نے کہا کہ دہشت گرد تنظیموں کے سرغنہ حافظ سعید نے پٹھان کوٹ حملہ کے بعد نہ صرف عسکریت پسندوں کو مبارکباد پیش کی بلکہ یہ اعتراف بھی کیا تھا کہ مذکورہ حملہ اس کی کارستانی تھی ۔ اداریہ میں یہ نشاندہی کی گئی ہے کہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم اپنی رپورٹ نواز شریف حکومت کو پیش کرنے سے قبل ہی میڈیا میں افشاء کردی گئی جس میں بے شرمی سے یہ دعویٰ کیا جارہا ہے کہ پاکستان کو رسوا کرنے کے لیے ہندوستان نے حملہ کا ڈرامہ تیار کیا تھا ۔ شیوسینا نے کہا کہ وقتا فوقتا حکومت کو خبردار کیا جاتا رہا لیکن پٹھان کوٹ فضائی اڈہ پر حملہ کی تحقیقات کے لیے پاکستانی ٹیم کے دورہ کی اجازت دیدی گئی ۔ جب کہ حکومت نے دوستوں کے مشورہ کو نظر انداز کر کے دشمن پر بھروسہ کیا ۔ حتی کہ وزیر اعظم نریندر مودی اچانک لاہور پہنچ گئے اور اپنے پاکستانی ہم منصب نواز شریف سے ملاقات کی اس وقت بھی ہم نے خبردار کیا تھا کہ یہ ایک ریاکاری ہے جو کہ پٹھان کوٹ دہشت گردانہ حملہ کی شکل میں برآمد ہوئی ہے ۔

پارٹی نے کہا کہ سب سے بڑا لطیفہ یہ تھا کہ پاکستان کی تحقیقاتی ٹیم میں آئی ایس آئی کے عہدیدار بھی شامل تھے ۔ جب کہ ہندوستان میں دہشت گردانہ حملوں کا منصوبہ آئی ایس آئی نے تیار کیا ہے اور حکومت نے بھی کئی مرتبہ دہشت گردانہ کارروائیوں کے لیے آئی ایس آئی کو مورد الزام ٹھہرایا ہے ۔ستم ظریفی یہ ہے کہ آئی ایس آئی عہدیدار لیفٹنٹ کرنل تنویر احمد کو پٹھان کوٹ میں اس مقام پر تحقیقات کرنے کی اجازت دی گئی جہاں سے دہشت گردوں نے حملے کیے تھے ۔ جو کہ شرمناک امت ہے اور حکومت کو اس خصوص میں وضاحت پیش کرنا چاہئے ۔ شیوسینا نے یہ سوال کیا ہے کہ ہندوستان میں دہشت گردانہ حملے آیا پاکستان کی خارجہ پالیسی کا حصہ ہے کیوں کہ پٹھان کوٹ حملہ سے یہ ظاہر ہوگیا ہے کہ پاکستانی فوج اور آئی ایس آئی نے یہ سازش تیار کی تھی لہذا حکومت ہند کو چاہئے کہ پاکستان کے لیے شاخ زیتون ( امن کی علامت ) پیش نہ کرے ۔ پارٹی نے آخر میں کہا کہ ہمیں مطمئن کیجئے قوم پرستوں کی جانب سے یہ چند ایک سوالات حکومت کے گوش گذار کیے گئے ہیں ۔

TOPPOPULARRECENT