Friday , August 18 2017
Home / سیاسیات / مودی حکومت کا سیاہ سیاسی فیصلہ

مودی حکومت کا سیاہ سیاسی فیصلہ

عوام کو دشواریاں ، رقمی ہیر پھیر میں ملوث افراد کو فائدہ : ممتا بنرجی
کولکتہ۔ 12 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) 500 اور 1000 روپئے کے کرنسی نوٹوں کا چلن برخاست کرنے مودی حکومت کے فیصلہ کی پھر ایک مرتبہ مذمت کرتے ہوئے مغربی بنگال کی چیف منسٹر ممتا بنرجی نے اس ’’سیاہ سیاسی فیصلہ‘‘ کو واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ عام آدمی کے خلاف ہے۔ ممتا بنرجی نے ٹوئٹر پر لکھ کہ ’’اس سیاہ سیاسی فیصلہ سے دستبرداری اختیار کی جائے جو عام آدمی کے خلاف ہے۔ (اس فیصلہ سے) ہندوستان برباد ہوگیا۔ قوت ِ خرید ختم ہوگئی۔ عوام کو تکلیف پہونچی ہے‘‘۔ یہ دعویٰ کرتے ہوئے کہ وہ پہلے ہی اس فیصلہ کی مخالفت کرچکی ہیں، ممتا بنرجی نے کہا کہ ’’مودی حکومت کے اس فیصلہ سے نوجوان، بوڑھا اور ہر کوئی متاثر ہوا ہے۔ مجھے پھر ایک مرتبہ مرکزی حکومت سے اپیل کرنے دیجئے کہ اس فیصلہ کو واپس لیا جائے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ ’’یہ فیصلہ ایک ’بہت بڑا کالا اسکینڈل‘ ہے جس سے عام شہری متاثر ہورہے ہیں جبکہ رقمی ہیر پھیر کرنے والے بھرپور فائدہ اُٹھا رہے ہیں‘‘۔ ترنمول کانگریس کی سربراہ نے تمام اپوزیشن جماعتوں پر زور دیا کہ مرکز میں برسراقتدار غریبوں کی بنرجی نے کہا کہ ’’ہمیں اس سیاسی و مالیاتی افراتفری کا مشترکہ مقابلہ کرنا چاہئے، اس لڑائی میں ہم آپ کے ساتھ ہیں‘‘۔ وزیراعظم کا مذاق اُڑاتے ہوئے ممتا بنرجی نے کہا کہ ہندوستان میں عوام کو غریب بنانے کے بعد نریندر مودی جاپان چلے گئے ہیں۔ ممتا کی ترنمول کانگریس پارلیمنٹ کے سرمائی سیشن کے پہلے دن 16 نومبر کو اس مسئلہ پر راجیہ سبھا میں بحث کیلئے پہلے ہی نوٹس دے چکی ہے۔ لوک سبھا میں ٹی ایم سی کے قائد سدیپ بندھو پادھیائے نے کہا ہے کہ ان کی پارٹی اسی روز (16 نومبر کو) ایوان میں تحریک التواء پیش کرے گی۔ 500 اور 1000 روپئے کے نوٹوں کی منسوخی کے موضوع پر ممتا بنرجی نے بنگالی زبان میں ایک نظم بھی لکھی ہیں۔

TOPPOPULARRECENT