Monday , August 21 2017
Home / مضامین / مودی حکومت کا کرشمہ، میٹ ہوگیا بیف

مودی حکومت کا کرشمہ، میٹ ہوگیا بیف

محمد ریاض احمد
ہندوستان ایک ایسا ملک ہے جہاں کبھی بھی کچھ بھی ہوسکتا ہے یہاں جس کی لاٹھی اس کی بھینس والا معاملہ چل رہا ہے۔ خاص طور پر نریندر مودی کی زیر قیادت بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد سے تو ملک کا فرقہ وارانہ ماحول بہت خراب ہوگیا ہے۔ عوام کو اچھے دن کی امیدیں دلاکر اقتدار پر فائز ہونے والے مودی نے دو سال کے دوران کوئی ٹھوس کام نہیں کئے بلکہ وہ اور ان کی ٹیم بلند بانگ دعوے کرنے میں مصروف رہی ہیں۔ عوام کے لئے تو مودی حکومت تاحال اچھے دن نہیں لاسکی لیکن ایک بات ضرور ہے کہ مسٹر نریندر مودی ان کے کابینی رفقاء، بی جے پی اور سنگھ پریوار کے اچھے دن آئے ہیں۔ آر ایس ایس اور اس کی ذیلی تنظیمیں جو اپنی فرقہ پرستی کے لئے کافی بدنام ہیں ملک میں کھل کر بھولے بھالے ہندوؤں کے ذہنوں کو فرقہ پرستی کی آلودگی سے پراگندہ کرنے میں مصروف ہیں۔ میٹ کو بیف سچ کو جھوٹ، اچھے کو برے، وفادار کو غدار، انسان کو حیوان، انسانیت کو درندگی، غذا کو زہر، سادھوں کو ڈاکوؤں اور سفید کو سیاہ میں تبدیل کیا جارہا ہے۔ دانشوروں، مخالف سیاستدانوں، حقوق انسانی کے جہد کاروں، معقولیت پسندوں اور سماج میں صحتمند تبدیلیوں کے لئے کوشاں افراد بالخصوص شاعروں و ادیبوں کے علاوہ طلبہ کا گھیرا تنگ کیا جارہا ہے۔ ان کے خلاف جھوٹے الزامات کے تحت جھوٹے مقدمات درج کئے جارہے ہیں۔ سیاسی بلیک میکنگ کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا جارہا ہے۔ بی جے پی اور اس کی سرپرست تنظیم آر ایس ایس مختلف ریاستوں میں جہاں کانگریس یا دوسری اپوزیشن جماعتیں برسر اقتدار ہیں دولت سیاسی عہدوں کے لالچ یا پھر انتقامی کارروائی کی دھمکیوں کے ذریعہ سیاسی قائدین کے ساتھ برسر عام اور خفیہ معاملتیں کررہی ہیں اور اس طرح کے الزامات ملک کی سب سے قدیم جماعت کانگریس کے ساتھ ساتھ دوسری اپوزیشن جماعتوں کے قائدین بھی عائد کررہے ہیں ویسے بھی ان اپوزیشن قائدین کے الزامات میں سچائی بھی ہے اگر مودی حکومت کی دو سالہ کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ انہوں نے 2014 کے عام انتخابات میں جو وعدے کئے تھے ان میں اکثر وفا نہ ہوسکے۔ ہاں عوام کی توجہ ہٹانے کے لئے وہ ہر روز ایک نئی اسکیم متعارف کروا رہے ہیں حالانکہ انہیں تو یہ چاہئے تھا کہ وہ پرانی اسکیمات پر کامیابی سے عمل آوری کو یقینی بناسکتے۔ ایسا لگتا ہے کہ مودی جی پر فی الوقت بیرونی راست سرمایہ کاری میں اضافہ کا بھوت سوار ہے۔ جو انہیں بار بار بیرونی ملکوں کے دوروں پر مجبور کررہا ہے۔ عہدہ وزارت عظمی پر فائز ہونے کے بعد سے انہوں نے کوئی ایسا کارنامہ انجام نہیں دیا جس کی تعریف و ستائش کی جائے۔

24 ۔ 26 ماہ کے دوران مودی جی نے تقریباً 50 ملکوں کے دورے کئے اس طرح شاید وہ دنیا کی سیر سے متعلق اپنی دیرینہ خواہش کی تکمیل کررہے ہیں۔و یسے بھی ایک مجرد شخص کر بھی کیا سکتا ہے۔ زندہ رہنے کے لئے اسے کوئی نہ کوئی مشغلہ تو چاہئے انہیں بیوی بچے تو ہیں نہیں کہ ان کے ساتھ وقت گذاریں، بھائیوں وہ بہبنوں سے بھی وہ دور رہتے ہیں۔ ماں سے کبھی کبھار دکھاوے کے لئے ملاقات کرلیتے ہیں، دو برسوں کے دوران مودی بیرونی دوروں کو قطعیت دینے اور اس پر عمل آوری میں کامیاب رہے۔ حال ہی میں پانچ ریاستوں کے انتخابی نتائج سے ظاہرہوگیا ہے کہ مودی اور بی جے پی اپنی مقبولیت کھوتے جارہے ہیں۔ اگر کانگریس اور دوسری اپوزیشن جماعتیں خاص کر بائیں بازو کی جماعتوں کے علاوہ ممتا بنرجی کی ترنمول کانگریس، نتیش کمار کی جنتادل (یو) اور لالو پرساد یادو کی آر جے ڈی کے علاوہ کچھ ریاستوں کی علاقائی جماعتیں 2019ء کے لوک سبھا انتخابات کے لئے ایک گرانڈ الائنس (بڑا محاذ) بنانے میں کامیاب ہوتی ہیں تو مودی اور بی جے پی پہلے جہاں تھے وہیں پر واپس ہوسکتے ہیں۔ یعنی وہ دوبارہ اقتدار پر فائز ہونے کے بارے سوچ بھی نہیں سکتے۔ نریندر مودی کے بارے میں جہاں سنگھ پریوار تعریف کے پل باندھے جارہا ہے وہیں عوام میں ان کا مضحکہ اڑایا جارہا ہے، سماجی رابطے کی سائٹس پر مودی کے بارے میں لطیفے پیش کئے جارہے ہیں، وعدوں پر عدم عمل آوری، ہندوستانی تاریخ سے عدم واقفیت کے لئے انہیں نشانہ بنایا جارہا ہے۔ عوام کی اکثریت، طلبہ کے علاوہ اقلیتوں میں بھی مودی کے بارے میں اچھی رائے نہیں پائی جاتی۔ مودی کے بارے میں عام تاثر یہی ہے کہ وہ بارک اوباما اور دیگر ممالک کے سربراہوں کی نقالی کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر مسلمانوں کو رمضان المبارک اور عیدین کی مبارکباد دینے سے شرمانے والے مودی نے اس مرتبہ امریکی صدر بارک اوباما کی تقلید کرتے ہوئے مسلمانوں کو رمضان المبارک کی مبارکباد پیش کی۔ مودی کی حکومت کے کارناموں میں جہاں ان کے بیرونی دورے شامل ہیں وہیں ان کی حکومت میں کرشمے بھی ہونے لگے ہیں۔ غریب بی جے پی قائدین اور خود ساختہ سادھو و سوامی راتوں رات کروڑ پتی بن رہے ہیں، میٹ (بکرے کا گوشت) بیف (گائے کے گوشت) میں تبدیل ہو رہا ہے۔ طلباء کی جب الوطنی پر مبنی ویڈیوز کا مواد اچانک تبدیل ہو رہا ہے جس میں حب الوطن طلبہ ملک کے غدار اور باغی کی حیثیت سے دکھائی دے رہے ہیں، جھوٹ سچ لگ رہا ہے مودی جی کے ان ہی کرشمات کے باعث انیل امبانی سے لے کر اڈانی، امیتابھ بچن سے لے کر سلمان خان سب کے سب ان کے دیوانے ہوگئے ہیں

اور مودی جی کی بدولت ان کے ان دیوانوں کا زبردست فائدہ بھی ہو رہا ہے۔ کوئی سزا سے بچ رہا ہے کوئی دولت بٹور رہا ہے ملک میں ایمرجنسی جیسی  صورتحال کا پیدا ہونا بھی مودی جی کا کرشمہ ہی تو ہے۔ اس بارے میں ملک کے ادیب و شعراء بھی مودی اور ان کی ٹیم کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ جے این یو طلبہ یونین کے صدر کنہیا کمار مودی کے کارناموں پر بہت ہی اچھے انداز میں تبصرہ کرتے ہیں ان کے تبصروں سے سنگھ پریوار میں نہ صرف ہلچل مچ جاتی ہے بلکہ اس کے قائدین تلملا جاتے ہیں۔ کنہیاکمار کہتے ہیں کہ مودی حکومت میں تمام جامعات یا یونیورسٹیز میں ایمرجنسی کی صورتحال پیدا کردی گئی ہے۔ انہوں نے دادری میں بڑْ جانور کا گوشت گھر میں رکھنے کے شبہ میں فرقہ پرستوں کے ہاتھوں قتل ہوئے اخلاق کا حوالہ دیتے ہوئے یہ بھی کہا کہ ملک میں میڈیا ویڈیوز بدلنے سے تبدیلی نہیں آتی مودی حکومت پر طلبہ تنظیموں کا الزام ہے کہ اس کی ایماء پر جے این یو طلبہ کے ویڈیو میں چھیڑ چھاڑ کی گئی اور دادری میں اخلاق کے گھر سے جو میٹ برآمد ہوا تھا اسے ابتداء میں لیباریٹریز میں میٹ ہی قرار دیا گیا، لیکن اب سیاسی فائدہ حاصل کرنے اس میٹ کو بیف بنا دیا گیا۔ کنہیا کمار اپنے مخصوص انداز میں ہمارے وزیر اعظم نریندر مودی پر رکیک حملہ کرتے ہوئے کہتے ہیں ’’مودی جی … ملک کو میٹ یا ویڈیوز بدلنے سے نہیں بدلا جاسکتا بلکہ ملک میں اس وقت مثبت تبدیلیاں رونما ہوسکتی ہیں جب عوام کا معیار زندگی بہترہو۔ ان کے حالات میں خوشگوار تبدیلیاں آئیں لیکن آپ کی حکومت میں عوام کے حالات بد سے بد تر ہوتے جارہے ہیں‘‘۔ دلچسپی کی بات یہ ہے کہ کنہیا کمار نے مودی پر تنقید کے تیر ان کے نام اپنے کھلے مکتوب میں چلائے، اس مکتوب میں کنہیا کمار نے ایک طرح سے مودی کو پریشان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ ملک کی ہر یونیورسٹی میں ایمرجنسی جیسی صورتحال پیدا کردی گئی ہے کیا یہی صورتحال ہے جس کا آپ ہندوستان کے طول و عرض میں اچھے دن کے حوالے سے دعوے کررہے تھے۔ کنہیا نے یہ کہتے ہوئے بھی مودی جی کو شرمسار کرنے کی کوشش کی کہ مودی حکومت کروڑہا روپے اشتہارات پر صرف کررہی ہے۔ 200 کروڑ روپے صرف حکومت کی دوسری سالگرہ کے اشتہارات پر خرچ کئے گئے جبکہ حکومت کے پاس ریسرچ اسکالرس کے لئے نان ۔ نیٹ اسکالرشپ کے 99 کروڑ روپے نہیں ہیں۔ کنہیا نے بالکل درست کہا ہے کوئی نئی ملازمتیں نہیں نکالی گئیں ۔ ساہو کاروں کے خوف اور قرض کے بوجھ تلے کسان خودکشی کررہے ہیں۔ غریب اور غریب ہو رہے ہیں دولت مند دولت کے انبار لگائے جارہے ہیں۔ تعلیم اتنی مہنگی ہوگئی ہے کہ طلبہ اس کے متحمل نہیں رہے اور جو یونیورسٹیوں میں داخلے لیتے ہیں انہیں ذات پات کی بنیاد پر امتیازی سلوک کا نشانہ بنایا جارہا ہے اور جب وہ خود کو کسی طرح اس امتیازی سلوک سے بچا بھی لیتے ہیں تو ان کی فیلو شپ روک دی جاتی ہے۔
[email protected]

TOPPOPULARRECENT