Thursday , August 24 2017
Home / Top Stories / مودی حکومت کو سپریم کورٹ کا ایک اور دھکہ، راحت دینے سے انکار

مودی حکومت کو سپریم کورٹ کا ایک اور دھکہ، راحت دینے سے انکار

نوٹوں کی منسوخی کے مقدمات کی سماعت سے ہائیکورٹس کو باز رکھنے حکومت کی درخواست مسترد، روہتگی کی بحث بے اثر
نئی دہلی ۔ 23 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) حکومت کو آج مزید ایک دھکہ لگا جب سپریم کورٹ نے ملک بھر کی ہائی کورٹس کو 500 اور1000  روپئے کے نوٹوں کی منسوخی کے فیصلے سے پیدا شدہ مسائل پر مقدمات کی سماعت سے باز رکھنے سے انکار کردیا اور کہا کہ ان ہائی کورٹس) سے عوام کو فوری راحت حاصل ہوسکتی ہے۔ حکومت نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ نوٹوں کی منسوخی کا اقدام کامیاب ثابت ہوا ہے کیونکہ تاحال چھ لاکھ کروڑ روپئے بینکوں میں جمع ہوچکے ہیں اور ڈسمبر تک خزانہ میں 10 لاکھ کروڑ روپئے جمع ہوں گے جس سے کالے دھن کی ذخیرہ اندوزی کا خاتمہ ہوگا لیکن حکومت کے یہ دعوے سپریم کورٹ کو متاثر کرنے میں ناکام ہوگئے۔ حکومت کو یہ ایک کے بعد دیگرے جلد  دوسرا  جھٹکہ لگا ہے کیونکہ عدالت عظمیٰ نے 18 نومبر کو حکومت کی ایک درخواست قبول کرنے سے انکار کردیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ نوٹوں کی منسوخی کیلئے 8 نومبر کو کئے گئے فیصلہ کو چیلنج کرتے ہوئے ہائی کورٹس میں دائر کی جانے والی درخواستیں قبول کرنے کی اجازت نہ دی جائے۔ سپریم کورٹ نے اس تاثر کا اظہار کیا تھا کہ اس فیصلہ (نوٹوں کی منسوخی) سے عوام بری  طرح متاثر ہوئے ہیں اور گڑبڑ اور ہنگاموں کا سبب بننے والی صورتحال میں عوام پر عدالت کے دروازے بند نہیں کئے جاسکتے۔ حکومت نے نوٹوں کی منسوخی کے مقدمات کی ہائیکورٹس میں سماعت کو روکنے کیلئے پراثر اپیل کی تھی اور استدلال پیش کیا تھا کہ صورتحال میں اب کہیں زیادہ بہتری ہوئی ہے اور طویل قطاریں تھم رہی ہیں نیز رقمی معاملتوں میں ڈیجیٹل طریقہ کار کے استعمال میں زبردست اضافہ ہوا ہے جس کے باوجود چف جسٹس ٹی ایس ٹھاکر کی قیادت میں اس بنچ نے کہا کہ ’’ہم اس (درخواست) پر حکم التواء جاری نہیں کرسکتے‘‘۔ چیف جسٹس ٹھاکر کی قیادت میں اس بنچ نے جس میں جسٹس ڈی وائی چندرا چوڑ اور جسٹس ایل ناگیشور راؤ بھی شامل ہیں کہا کہ ’’مختلف مسائل ہیں۔

عوام، ہائیکورٹس سے فوری راحت حاصل کرسکتے ہیں‘‘۔ اس دوران کھاتوں سے ایک ہفتہ میں صرف 24000 روپئے نکالنے کی مقررہ حد، دواخانوں، پٹرول پمپس اور مفاد عامہ کے مختلف اداروں میں منسوخ شدہ کرنسی نوٹوں کے چلن کے علاوہ اے ٹی ایمس میں خاطرخواہ رقومات موجود رکھنے جیسے مسائل پر درخواستیں ملک کے مختلف ہائیکورٹس میں جاری کی جارہی ہیں۔ اٹارنی جنرل مکل روہتگی نے عدالت میں مدلل بحث کرتے ہوئے استدلال پیش کیا کہ بینکوں میں تاحال چھ لاکھ کروڑ روپئے جمع کئے جاچکے ہیں۔ بینکوں اور پوسٹ آفسیس پر صارفین کی قطاروں میں کمی ہوئی ہے۔ نیز 500 اور 1000 روپئے کے منسوخ شدہ کرنسی نوٹوں کو بینکوں میں جمع کروانے اور تبدیل کروانے کی تاریخ میں مقررہ 30 ڈسمبر میں مزید توسیع بھی دی جاسکتی ہے لیکن ان کے دلائل کا سپریم کورٹ بنچ پر کوئی اثر نہیں ہوا اور مرکز کو کوئی راحت نہیں مل سکی۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ ملک کی چلنے والے کرنسی نوٹوں میں 500 اور 1000 روپئے کے نوٹوں کا حصہ 80 تا 85 فیصد ہے اور ان کی منسوخی 70 سال سے ذخیرہ کئے ہوئے کالے دھن کے خاتمہ میں معاون ثابت ہوگی۔ روہتگی نے مزید کہا کہ ’’اگر اس عمل کیلئے مزید 20 تا 30 دن درکار ہوں گے تو میں نہیں سمجھتا کہ یہ کوئی بڑی بات ہوگی۔ تاحال یہ عمل انتہائی کامیاب رہا ہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ ’’یہ رقم قومی معیشت میں استعمال کی جائے گی اور شرح سود میں کمی ہوگی۔

TOPPOPULARRECENT