Wednesday , August 16 2017
Home / شہر کی خبریں / مودی حکومت کی بی جے پی زیراقتدار ریاستوں میں تحفظات پر خاموشی

مودی حکومت کی بی جے پی زیراقتدار ریاستوں میں تحفظات پر خاموشی

کیا مسلمانوں کیلئے 9 ویں شیڈول میں ترمیم کی توقع کی جاسکتی ہے؟
حیدرآباد۔ 27 اکتوبر (سیاست نیوز) مسلمانوں کو 12% تحفظات کے معاملے میں کے سی آر کی حکمت عملی کس حد تک کامیاب ہوگی ، اس بارے میں ابھی سے اندیشے اُبھر رہے ہیں۔ چیف منسٹر چاہتے ہیں کہ بی سی کمیشن کی سفارشات پر اسمبلی میں قرارداد منظور کرتے ہوئے اسے پارلیمنٹ روانہ کیا جائے تاکہ دستورکے 9 ویں شیڈول میں ترمیم کی جاسکے۔ صدرنشین بی سی کمیشن بی ایس راملو اور اراکین کرشنا موہن ، جے گوری شنکر اور انجنیا گوڑ نے آج اپنے عہدہ کا جائزہ لینے کے بعد چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کے کیمپ آفس پر ملاقات کی۔ چیف منسٹر نے انہیں جو مشورہ دیا ہے ، ایسا لگتا ہے کہ مسلمانوں کو تحفظات کا معاملہ پھر ایک بار لیت و لعل کا شکار ہوجائے گا۔ ٹی آر ایس حکومت مسلمانوں کو یہ تاثر دینے کی کوشش کررہی ہے کہ وہ 12% تحفظات کے معاملے میں سنجیدہ ہے اور اس میں ناکامی کا سہرا مرکز کے سر باندھا جائے گا۔ قابل غور پہلو یہ ہے کہ بی جے پی زیراقتدار تین ریاستوں راجستھان، ہریانہ اور گجرات میں بالترتیب گجر ، جاٹ اور پٹیل طبقات کو احتجاج کے بعد تحفظات فراہم کئے گئے تھے۔ متعلقہ ہائیکورٹس نے ان تحفظات کو کالعدم قرار دیا ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی اگر چاہیں تو 9 ویں شیڈول میں ترمیم کے ذریعہ بی جے پی زیراقتدار ریاستوں میں تحفظات کی برقراری یقینی بنا سکتے ہیں لیکن وہ خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ ایسے میں کیا کوئی توقع رکھ سکتا ہے کہ تلنگانہ میں صرف مسلمانوں کو تحفظات کی فراہمی کیلئے مرکز کی بی جے پی حکومت 9 ویں شیڈول میں ترمیم کرے گی؟ موجودہ بی سی طبقات کو فراہم تحفظات متاثر کئے بغیر مسلمانوں کو تحفظات فراہم کرنے کیلئے حکومت کس حد تک کامیاب ہوگی ، یہ تو وقت ہی بتائے گا ۔ سدھیر کمیشن نے بھی مسلمانوں کے تحفظات میں اضافہ کی سفارش کی ہے۔سماجی اور تعلیمی پسماندگی کا شکار طبقات کو تحفظات کیلئے بی سی کمیشن کی سفارش لازمی ہے ۔ کئی طبقات انہیں بی سی میں شامل کرنے اور بعض زمرہ تبدیل کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں۔ بی سی کمیشن ان تمام مطالبات کا جائزہ لیتے ہوئے جامع رپورٹ حکومت کو پیش کرسکتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT